علوم الإسلام

Thursday, January 13, 2022

Aada-e-Shabab or Darazi-e-Umar, Dr. Ashraf-ul-Haq, Medicine, اعادہ شباب اور درازئ عمر, ڈاکٹر اشرف الحق, طب,

 Aada-e-Shabab or Darazi-e-Umar, Dr. Ashraf-ul-Haq, Medicine, اعادہ شباب اور درازئ عمر, ڈاکٹر اشرف الحق, طب, 



اعادہ شباب و درازئ عمر

کھوئی ہوئی جوانی کو واپس لانے اور انسانی عمر کو دراز کرنے کا تخیل ایک پرانا تخیل ہے اور شاید اسی وقت سے چلا آرہا ہے جب سے انسان کو دنیا کے مزوں کا چسکا لگا ہے۔ ہر قوم اور ہر زمانے کے اطباء نے سب سے زیادہ جس مسئلہ سے دلچسپی لی ہے وہ یہی مسئلہ ہےکہ جوانی کو بڑھاپے میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے ۔ بڑھاپے کو جوانی سے کیونکر بدل دیا جائے۔اور انسان کو دنیا کی زندگی کا لطف زیادہ سے زیادہ مدت تک اٹھانے اور دنیا میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے قابل کیسے بنایا جائے۔


دنیا کے طبی لٹریچر کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ہر زمانے کے طبیبوں نے اس سوال کو حل کرنے کو کوشش کی ہے۔ نظریات قائم کئے ہیں تجربات کئے ہیں نسخے قائم کئے ہیں ۔دوائیں تلاش کی ہیں اور مختلف طریقاہائے علاج تجویز کئے ہیں ۔خصوصیت کے ساتھ اس مسئلے میں یونانی اور ہندی طبیبوں کی تحقیقات کا بہت کچھ پتہ چلتا ہے۔ اور اگر روایات کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو انہیں ایک خاص حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔ لیکن نہ انہوں نے اپنے تجربات، اپنی دواؤں اور اپنے طریقوں کو کبھی عام کیا  اور نہ ہی ان پر سے راز کا وہ پردہ اٹھایا جس میں ہر نادر چیز کو مستور رکھنا زمانہ قدیم کے لوگوں کی فطر ت میں داخل تھا اور نہ دنیا کو ان کی تحقیقات کا کوئی فائدہ پہنچا۔


Download

Asool-e-Tibb, Kamaluddin Hamdani, Medicine, اصول طب, کمال الدین ھمدانی, طب,

 Asool-e-Tibb, Kamaluddin Hamdani, Medicine, اصول طب, کمال الدین ھمدانی, طب, 



انسان اور حیوان میں بنیادی فرق نطق اور شعور کا ہے۔ ان دو خداداد صلاحیتوں نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات کا درجہ دیا بلکہ اسے کائنات کے ان اسرارورموز سے بھی آشنا کیا جو اسے ذہنی اور روحانی ترقی کی معراج تک لے جاسکتے تھے۔ حیات و کائنات کے مخفی عوامل سے آگہی کا نام ہی علم ہے۔ علم کی دو اساسی شاخیں ہیں باطنی علوم اور ظاہری علوم۔ باطنی علوم کا تعلق انسان کی داخلی دنیا اور اس دنیا کی تہذیب و تطہیر سے رہا ہے۔

 

مقدس پیغمبروں کے علاوہ خدا رسیدہ بزرگوں، سچے صوفیوں اور سنتوں اور فکر رسا رکھنے والے شاعروں نے انسان کے باطن کو سنوارنے اور نکھارنے کے لئے جو کوششیں کی ہیں وہ سب اس سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ ظاہری علوم کا تعلق انسان کی خارجی دنیا اور اس کی تشکیل و تعمیر سے ہے۔ تاریخ اور فلسفہ، سیاست  اور اقتصاد، سماج اور سائنس وٖغیرہ علم کے ایسے ہی شعبے ہیں۔

 

علوم داخلی ہوں یا خارجی ان کے تحفظ و ترویج میں بنیادی کردار لفظ نے ادا کیا ہے۔ بولا ہوا لفظ ہو یا لکھا ہو لفظ، ایک نسل سے دوسری نسل تک علم کی منتقلی کا سب سے موثر وسیلہ رہا ہے۔ لکھے ہوئے لفظ کی عمر بولے ہوئے لفظ سے زیادہ ہوتی ہے اسی لئے انسان نے تحریر کا فن ایجاد کیا اور جب آگے چل کر چھپائی کا فن ایجاد ہوا تو لفظ زندگی اور اس کے حلقہ اثر میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔



Download

Ashrah-ul-Adwiya, Kulyat-e-Adwiya, Abdul Wadood, Medicine, اشراح الادویہ, عبد الودود, طب,

Ashrah-ul-Adwiya, Kulyat-e-Adwiya, Abdul Wadood, Medicine, اشراح الادویہ, عبد الودود, طب,



علوم وفنون اور انکے مبادیات کو بخوبی سمجھنے کے لئے ان کے بنیادی اصول و ضوابط و اصطلاحات کا علم بالخصوص اصطلاحات کے نہ صرف لغوی معنی بلکہ اصطلاحی مفاہیم کاجاننا لازم ہے۔ کیونکہ علوم و فنون کا بیشتر دارومدار اصطلاحات پر ہی ہوتا ہے۔ طب یونانی سب سے پہلی، باقاعدہ اور منظم طب ہے جس کی ایک طویل اور رنگین داستان ہے۔ اسکی ایجاد یونان میں ہوئی۔ بقراط سے قبل طب، جادو ٹونہ کا مجموعہ تھی لیکن یہ بقراط تھا جس نے اسے ماوراء فطرت نظریات سے نکال کر سائنسی نظریہ عطا کیا اور اس کی بنیاد اخطلاط و مزاج پر رکھی۔ یونان سے نکل کر یہ عرب اور ایران میں پھیلی اور بالآخر ہندستان میں آکر ٹھہر گئی۔ کیات، معالجات اور علم الادویہ اسکی اہم شاخیں ہیں۔

 

علم الادویہ طب یونانی کا ایک بہت اہم اور بنیادی شعبہ رہا ہے اور اس سے متعلق قوانین کے سلسلے میں اطباع نے اپنی بہترین کوششیں صرف کرتے ہوئے نہ صرف رہنما اصول و ضوابط متعین کئے ہیں بلکہ ان پر مبنی بہترین کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ جو طب کا قیمتی سرمایہ ہیں جن سے آج تک استفادہ کیا جا رہا ہے۔

 

اس تالیف کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہے کہ اسے کلیات ادویہ کی سب سے پہلی اور بہت اچھی کتاب سمجھا جائے بلکہ اس کا مدعا کچھ اور ہی ہے۔ دراصل طب یونانی ایک عرصہ تک عربی داں حضرات کے ہاتھوں پرورش پاتی رہی اور فی الحال اسکا بیشتر سرمایہ بھی عربی، فارسی اور اردو میں ہے۔ ایک طویل مدت تک اس فن پر عربی داں حضرات کے غلبہ کی وجہ سے اسکی زیادہ تر کتابوں پر دقیق عفبی و فارسی الفاظ حاوی رہے ہیں جنہیں سمجھنے کے لئے عربی داںطلباء کو چنداں دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔



Download

Islam or Jadid Medical Science, Dr. Shaukat Shokani, Medicine, اسلام اور جدید میڈیکل سائنس, ڈاکٹر شوکت شوکانی,

 Islam or Jadid Medical Science, Dr. Shaukat Shokani, Medicine, اسلام اور جدید میڈیکل سائنس, ڈاکٹر شوکت شوکانی, 





آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم ورواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس کے متعلق اسلام خاموش ہے۔اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے ۔حالانکہ یہ ظلم ہے ۔تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے توآپ کو اس میں دین ودنیا کے ہر شعبہ کے متعلق مکمل راہنمائی ملے گی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔

 

اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔

 

اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید میڈیکل سائنس "محترم ڈاکٹر شوکت علی شوکانی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں جدید میڈیکل سائنس کے چند اہم مسائل جیسے انتقال خون، جنسی تبدیلی، کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی،انتقال اعضاءاور خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ پر کتاب وسنت کے مطابق روشنی ڈالی ہے اور ان مسائل کے بارے میں ممتاز علماء کرام کے فتاوی اور ماہرین فن کی آراء کو بھی جمع کر دیا ہے

 Download



Israr-ul-Khafi, Hakim Ahmad-ud-Din, Medicine, اسرارالخفی, حکیم احمد الدین, طب,

 Israr-ul-Khafi, Hakim Ahmad-ud-Din, Medicine, اسرارالخفی, حکیم احمد الدین, طب,


انجمن خادم الحکمت شاہدرہ لاہور جسلہ سالانہ 1924ء کی مکمل رپورٹ الموسوم بہ اسرار الخفی جس میں ممبران انجمن خادم الحکمت کے مضامین کے علاوہ بانی انجمن حکیم احمد الدین صاحب موجد طب جدید کے معرکتہ الآراء مضامین درج ہیں۔


اگر آپ صحیح معنوں میں طبیب بننا چاہتے ہیں تو کلیات طب جدید کو ملاحظہ فرماویں۔ اس میں طب جدید دیسی کے علاوہ  وہ تمام علمی مضامین اور قوانین علاج جن کا جننا ہر ایک طبیب کے لئے ضروری اور لابدی ہے بوضاحت بیان کئے گئے ہیں۔ عرصہ دس سال یہ کتاب زیر تصنیف تھی لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ شائقین جلد از جلد درخواست بھیج کر ممنون فرمادیں۔ جو اصحاب مبلغ تین روپیہ پیشگی بذریعہ منی آرڈر ارسال فرمادیں گے ان سے خاص رعائت کی جاوے گی۔

 

کتاب الاوجاع :

اس کتاب میں اوجاع کے اقسام بمعہ اسباب و طریق علاج درج ہیں۔ اسکتاب کا کچھ حصہ تبصرۃ الطباء کی جلد اول و دوم و سوم میں شائع ہوتا رہا ہے۔ اب ان مضامین کو بمعہ مفید اضافات کے کتابی صورت میں لاکر نیز باقی ماندہ امراض الاوجاع کو درج کر کے مصنف موصوف نے نہائت عرق ریزی سے اس کتاب کو مکمل کر دیا ہے۔ اور حاملان طب جدید کے لئے ایک صحیح دستور العمل متدون کر دیا ہے۔ امید ہے کہ قدر دان اصحاب اسکتاب کو ملاحظہ فرمانے کے بعد نہات محظوظ ہونگے۔ کتاب زیر طبع ہے شائقین جلد از جلد درخواستیں بھیج کے ممنون فرمادین۔ تاکہ طبع ہونے پر ارسال خدمت کر دی جاوے۔


Download

Israri Mujarrabat, Hakim Rafique Hijazi, Medicine, اسراری مجربات, ھکیم رفیق حجازی, طب,

 Israri Mujarrabat, Hakim Rafique Hijazi, Medicine, اسراری مجربات, ھکیم رفیق حجازی,  طب, 





شمس الاطباء حکیم محمد رفیق حجازی کی ذات گرامی طبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے قبلہ حجازی صاحب کی تمام طبی تصانیف ملک میں شہرت دوام حاصل کر چکی ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھ میں مریضوں کو شفاء دینے لئے مسیحائی اثر عطا فرمایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا مطب ضلع لائل پور میں مشہور و معروف ہے۔ اور مطب میں ہر وقت مریضوں کو جمگھٹا لگا رہتا ہے علاوہ ازیں ہر روز ملک کے دور دراز علاقوں سے بھی مریض آکر مستفید ہوتے ہیں۔ اور اس وجہ سے اللہ تعالی کے فضل و کرم  سے اپنے علاقہ اور شہر میں قبلہ حجازی صاحب کو بڑی عزت و احترام حاصل ہے ۔ اور  ٹاؤن کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عوام کی انتہائی خلوص سے خدت میں مصروف ہیں۔ نیز ملک کے اکثر اطباء حجازی صاحب سے جب ملاقات کے لئے آتے ہیں تو مجرب نسخہ جات کے حصول کا اثرار کرتے ہیں اور بذریعہ ڈاک بھی مطالبہ کرتے ہیں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ادارہ رہنمائے زندگی نے قبلہ حجازی صاحب  سے مطب میں استعمال ہونے والے تمام نسخہ جات کو شائع کرنے کی اجازت حاصل کر لی ہے اور اب آپ کے مطب کے تمام نسخہ جات بنام اسراری مجربات شائع کئے جارہے ہیں۔  ان نسخہ جات کے متعلق زیادہ دعوے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک ایک نسخہ جواہرات سے تولنے کے لائق ہے۔

 

ہم دعوی سے کہ سکتے ہیں کہ مجرب نسخہ جات کے خواہشمند حضرات کو نسخہ جات کی اس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں ملے گی۔ تمام بیماریوں کے مجرب المجرب نسخہ جات اس کتاب میں موجود ہیں جن میں یونانی اور ایلوپیتھی نسخہ جات اپنی مثال نہیں رکھتے جس نسخہ کے متعلق کوئی بات قابل پرشش ہو وہ دریافت کر سکتے ہیں۔

Download

Israr Sina ba Sina, Qazi Abdul Rehman, Medicine, اسرار سینہ بسینہ, قاضی عبد الرحمان, طب,

 Israr Sina ba Sina, Qazi Abdul Rehman, Medicine, اسرار سینہ بسینہ, قاضی عبد الرحمان, طب, 


کشتہ جات کے ذریعہ علاج نہایت ہی سریع الاثر اور یقینی ہوتا ہے بشرطیکہ کشتہ جات عمدہ اور باقاعدہ تیار کئے جائیں۔ چنانچہ کشتہ جات کی تیاری اور استعمال وغیرہ کے لئے جس موٹی موٹی ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے سب اس کتاب میں درج کی جائیں گی اور تمام پرانی اور پیچیدہ باتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ شدھی اور صفائی: کشتہ تیار کرنے سے اول ہر قسم کی دھات اپدھات وغیرہ کا صاف کرنا ضروری ہے۔

 

ناصاف اشیاء اکثر نقصان دیتی ہیں پرانی کتابوں میں صفائی کے سینکڑوں طریقے درج ہیں اس کتاب میں صرف وہی طریقے درج ہیں جو سہل اور عمدہ ہیں لمبی چوڑی ترکیبوں کو تضیع اوقات سمجھ کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

 

عرق میں کھرل کرنا: کشتہ کی جانے ولای چیزوں کو اکثر پوٹیوں کے عرق میں کھرل کیا جاتا ہے خیال رہے کہ جونسا عرق استعمال میں لایا جائے اسے مقطر کر لیا جائے یعنی عرق کو کچھ دیر پڑا رہنے دیا جائے تاکہ بوٹی کا تمام فضلہ یعنی ٹھوس حصہ نیچے بیٹھ جائے اور صاف پانی اوپر آجائے یہی صاف پانی نتھار کر کام میں لایا جائے۔ 

 

نگدہ نا نغدہ: اکثر اوقات ادویات کو بوٹیوں میں لپیٹ کر آگ دی جاتی ہے اگر بوتی سخت ہو تو اسے کوٹ کر نرم کر لیا جاتا ہے پھر نگدہ بنایا جاتا ہے۔

ٹکیہ بنانا اور خشک کرنا : دوا کو کھرل کرنے کے بعد چھوٹی چھوٹی ٹکیاں بنالینی چاہیئں اور ان ٹکیوں کو اچھی طرح خشک کر لینا چاہئے ورنہ دوا ٹھیک نہ بنے گی۔

 

کپروٹی یا گل حکمت : اکثر دواؤں کو مٹی کی ہانڈی میں بند کر کے آگ دی جاتی ہے ایسی ہانڈی پر اول کپڑا اور مٹی چڑھائی جاتی ہے جسے گل حکمت کہتے ہیں گل حکمت شدہ ہانڈی کو اچھی طرح خشک کرلیا جائے ورنہ دوا کو پوری آگ نہ پہنچے گی اور دوا کچی رہ جائے گی۔

Download