علوم الإسلام

Monday, November 22, 2021

Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,



تیری یاد خار گلاب ہے عمیرہ احمد کے لکھے گئے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ ایک خوبصورتی سے لکھی ہوئی نثر جو دو لوگوں کے درمیان نرم اور لطیف تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جسے دوسرے تمام لوگ کانٹے سمجھتے ہیں، لیکن انہیں احساس نہیں ہوتا کہ یہ دراصل کھلتا ہوا پھول ہے۔

کہانی کا مرکزی کردار ثانیہ سمجھتی ہے کہ اس نے کومیل حیدر کے بارے میں سب کچھ جان لیا ہے۔ اس کے بارے میں اس کا سخت اور غلط فیصلہ سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے اور دو لوگوں کو محبت میں ایک دوسرے کو کھونے پر مجبور کرتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جب تک آپ کے پاس مکمل حقائق نہ ہو اُس وقت تک کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

کہانی میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی فیصلہ کرنا سنگین نتائج اور ضمیر کی خلش کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی کہانی ہے جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی غلط تشریح بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر سکتی ہے!


اس ناول میں خواتین کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو بہن سمجھ کر ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتا ہے تو پھرلوگوں کی باتوں پر توجہ مت دیں، ورنہ آخر میں آپ کے لیے جو کچھ بچتا ہے وہ صرف پچھتاوا اور آنسو ہے۔

یہ ناول سب سے پہلے شعاع ڈائجسٹ میں 1999 کو شائع ہوا پھر بعد میں عمیرہ احمد کے کہانیوں کے مجموعے ” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے ” میں بھی سے شائع ہوا۔

Download

Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,

 Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,


رسی گلے میں باندریا ڈگڈگی کی آواز پر سر پر ہاتھ رکھے ناچ رہی ہے۔ رسی کا سرا ہکو کے ہاتھ میں ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک ڈگڈگی ہے جسے وہ بچا رہا ہے۔ وہ خود پیروں کی بل زمین پر بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک دائرے کی شکل میں چند بچے اور لوگ اس کے اور بندریا کے گرد کھڑے ہیں۔ ہکو کا حلیہ ملگجا ہے اس کی داڑھی اور بال بڑھے اور بکھرے ہوئے ہیں۔ بالوں میں سفیدی نمایاں ہے۔ گریبان کھلا ہوا ہے۔ دانت پیلے ہیں ۔ اس کے گلے میں تعویذ ہیں اور ہاتھ میں ایک کڑا ہے۔ اس کی انگلیوں میں چند انگوٹھیاں نظر آرہی ہیں بڑے بڑے نگینوں والی انگوٹھیاں۔ اس کے ایک کان میں روئی کا ایک پھاہا رکھا ہوا ہے جسے وہ ہمیشہ اپنے کان میں ہی رکھتا ہے۔ 


Download

Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول,

 Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول, 



شہر ذات روح کی تلاش کی کہانی ہے۔ یہ اس روحانی سفر کی کہانی ہے جسے انسان اس وقت طے کرتا ہے جب اُسے دنیا کی حقیقتیں سمجھ میں آنا بند ہو جاتی ہے۔ شہرِ ذات خوبصورت خواب دیکھنے والی ایک معصوم لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ فلک شیرافگن ایک کاروباری ٹائکون کی انتہائی خوبصورت اورا کلوتی بیٹی ہے۔ فلک فنون لطیفہ کی طالبہ ہے جو اپنے خوابوں کے شہزادے کا مجسمہ بناتی ہے اور جب وہ سلمان میں اس کا سانس لیتے مظہر کو پاتی ہے تو وہ محبت میں سر کے بل گر جاتی ہے۔ لیکن فلک ، سلمان کو جتنا جاننے کی کوشش کرتی ہے ، اتنا ہی وہ اس سے دور بھاگتا ہے ۔

کہانی کا پلاٹ روحانی بیداری کے بارے میں ہے۔ اس میں عشق حقیقی (خدا کے لیے انسان کی محبت) کے صوفیانہ تصورات ، اور عشق مجازی ، (ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے محبت) کے درمیان ایک واضح تضاد کھینچا گیا ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جو آپ کو جذبات کی زیادتی کی وجہ سے رونے پر مجبور کرتا ہے، جسے آپ تب محسوس کریں گے جب آپ اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے معنی کو سمجھیں گے۔ یہ ایک طاقتور ، گہرا دکھ دینے والا اور دل دہلا دینے والا ناول ہے۔ عمیرہ نے زندگی کی مذہبی اور روحانی اقدار کا احساس دلانے کے لیے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ عشق حقیقی سے زیادہ کوئی شے قابل تسکین نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطمینان بخش نہیں کہ اللہ رب العزت سے محبت کی جائے۔ اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہے۔ اللہ رب العزت کی محبت کے علاوہ دنیا کی کوئی محبت سچی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر رشتے، ہر محبت کی اصلیت دکھا دیتا ہے۔ پھر وہ سب کچھ دکھا کر آدمی سے کہتا ہے اب بتا تیرا میرے سوا اور ہے ہی کون؟

شہر زات پہلی بار خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوئی۔ یہ ، پانچ دیگر غیر متعلقہ کہانیوں کے ساتھ پھر مرتب کی گئی اور کتاب کی شکل میں ایک مجموعہ کے طور پر” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے” کے عنوان سے شائع کی گئی۔ یہ میری ذات ذرا بے نشاں کے ابتدائی ایڈیشن میں بھی شائع ہوا تھا۔ عمیرہ احمد کے تحریر کردہ اس ناول کی کہانی پر ایک ٹی وی ڈرامہ بھی بنایا گیا ہے جو 2012ء میں ہم ٹی وی پر نشر ہوا.

Download

Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,



سحر ایک استعارہ ہے” عمیرہ احمد کے پانچ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔، جس میں سحر ایک استعارہ ہے ، مات ہونے تک ، کس جہاں کا زر لیا ، بات عمر بھر کی ہے ، اور دوسرا دوزخ شامل ہیں۔ سحر ایک استعارہ ہے دو بہنوں “ایمن اور مریم” کے کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک بہن ملنسار فطرت کی جبکہ دوسری ایماندار اور پاکیزہ طبیعت کی مالک ہے۔ یہ سب سے پہلے کرن ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔

اس مجموعے میں عمیرہ احمد نے ہمارے معاشرے کی خامیوں اور تلخ حقیقتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہر کہانی ہماری روز مرہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کتاب میں تحریر شدہ کہانیوں کی جھلک آپکو اپنے اردگرد، کہیں ماضی میں یا حال میں، یہیں کہیں، اپنے آس پاس، نظر آتی رہتی ہے۔ ہر کہانی میں کسی نہ کسی کردار میں بےوقوفی کی حد تک اچھائی موجود ہے اور میرے ذاتی خیال میں ایک انسان کے لئے اس قدر بےلوث اور بےغرض ہونا ممکن نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان نہ اتنا برا ہو سکتا ہے اور نا ہی کوئی اتنا اچھا ہو سکتا ہے جتنا ان کہانیوں میں دکھایا گیا ہے۔

عمیرہ احمد کہانی بُننے کا ہنر جانتی ہیں۔ انکے قلم میں روانی پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا پہلا افسانہ “مات ہونے تک” مجھے باقی افسانوں کی نسبت ذیادہ پسند آیا کیونکہ وہ ذرا مختلف تھا۔ ایک خوبی اس کتاب میں یہ ہے کہ یہ آپکو بور نہیں ہونے دیتی اور آپ پوری کتاب ایک دفع میں ہی پڑھ سکتے ہیں۔

Download

Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,

 Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,



 ہمارے لیے چوبیس گھنٹوں میں پانچ بار الله کو یاد کرنا بہت مشکل ہے، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ الله چوبیس گھنٹوں میں ہر پل ہمارا خیال رکھے۔ ہمیں ہر نقصان سے بچائے، ہمیں ہر اس چیز سے نوازے جس کی ہمیں خواہش ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ ہو تو ہم الله سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔
اسے بتاتے ہیں کہ اس نے ہمیں کتنا بدقسمت بنایا ہے۔ اپنی محرومیوں کا ماتم کرتے ہیں۔ یہاں اسی زمین پر ایسے لوگ ہیں جو اس طرح معذور ہیں کہ ذہن کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حصّہ کام نہیں کرتا اور وہ پھر بھی الله کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہاں کتنے ہیں جن کے پورے کے پورے خاندان کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر بھی صبر کرتے ہیں،
الله سے سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ اس کو کوئی دلچسپی نہیں کہ تم مسلمان رہتے ہو یا نہیں۔ تمھارے مذہب بدل لینے سے دنیا میں مسلمان ختم تو نہیں ہو جائیں گے۔ محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والوں میں تو کمی نہیں آئے گی، فرق اگر کسی کو پڑے گا تو تم کو پڑے گا۔ نقصان اگر کوئی اٹھائے گا تو تم اٹھاؤ گے۔‘‘
اپنے منفرد موضوع اور بہترین کہانی کی وجہ سے یہ کتاب ہر شخص کو ضرور پڑھنی چاہئے



Download

Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,

 Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,



عمیرہ احمد کی اب تک کی لکھی جانے والی تمام تحاریر میں یہ واحد کہانی ہے جو مزاح پہ مبنی ہے اور ان کی انتہائی ابتدائی تحاریر میں سے ایک بھی ہے۔۔۔۔

 اردو ادب کی نامور مصنفہ عمیرہ احمد کی پہلی مختصر تحریر "بند کواڑوں کے پیچھے" اپریل 1998 میں شائع ہوئی تھی اور انکا پہلا مکمل ناول "زندگی گلزار ہے" کے نام سے سبتمر 1998 کو خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا۔۔۔

 یہ ناول "پاگل آنکھوں والی" ایک بیحد پرمزاح اور ہلکی پھلکی سی کہانی ہے۔ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی پڑھا جائے کہ یہ ایک مکمل افسانوی تحریر ہے، جس میں مزاح کے عنصر کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آخر تک نبھایا گیا ہے۔۔۔۔

 کہانی ہے بی اے کی طلبہ "ثنا" کی، وہ دو چھوٹے بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور اپنے والدین کی انتہائی پھوہڑ بیٹی ہے، جیسے گھر کے کام کاج سے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ نت نئے شوق پالنا اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے مگر اب اسے "لومیرج" کرنے کا شوق چڑھ آیا ہے، جو عجیب کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک بھی ہے۔۔۔۔۔

 کالج میں لان کے درخت تلے، اپنی چار دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر وہ نیۓ آئیڈیاز کو سوچنے اور ان پہ عملدرآمد کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ہر بار خوش فہمی کا محل اپنی پوری تاب سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔۔۔ 

چہروں پہ بے ساختہ ہنسی بکھیر دینے والا ایسا ناول، جس میں آپکو عمیرہ احمد کا مزاح لکھنے کا ایک بالکل منفرد انداز پڑھنے کو ملے گا۔۔۔ 

خوشگوار اختتام کے ساتھ ایک اچھوتی اور پرمزاح کہانی ہے۔۔

 ضرور پڑھیں۔۔ 

Downoad

Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,

 Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,



مٹھی بھر مٹی ناول پاکستان کی مشہور لکھاری عمیرہ احمد نے لکھا. جو کہ ایک ایسے بزرگ کی آپ بیتی جو اپنے خاندان  کو موت کے گھاٹ اتار کر  1947 میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور اپنے باپ کے ساتھ تنہا پاکستان پہنچا.

"پاکستان کو تمہاری قبروں اور تابوتوں کی ضرورت نہیں ہے. پاکستان کو تمہاری جوانی اور وہ گرم خون چاہئے جو تمہاری رگوں میں خواب اور آئیڈلزم بن کر دوڑتا ہے۔ اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو۔۔۔ جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مرنا کیوں چاہتے ہو۔۔۔ باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہو گی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہئے؟

ہر شخص کے مقدر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا۔ بعض کے مقدر میں جلاوطنی ہوتی ہے، اپنی خوشی سے اختیار کرنے والی جلاوطنی۔"


یہ بہت قیمتی سرزمین ہے۔۔۔ قربانیوں کے لہو سے سینچی ہوئی۔۔


In Muthi Bhar Mitti (English: Fistful of Dirt), the main character, Jamaal, recounts to himself the events that led to him leaving India and migrating to Pakistan after The Great Indian Partition.

It is available in Main Ne Khuwabon Ka Shajar Dekha Hai as part of a collection of stories. It was first published in Shuaa digest under the title 15 August 2001.

Download