علوم الإسلام

Showing posts with label Umera Ahmad. Show all posts
Showing posts with label Umera Ahmad. Show all posts

Monday, November 22, 2021

Pride of Performance, Umera Ahmad, Novel, عمیرہ احمد, پرائڈ آف پرفارمنس, ناول,

Pride of Performance, Umera Ahmad, Novel, عمیرہ احمد, پرائڈ آف پرفارمنس, ناول, 



Pride Of Performance is writen by Umera Ahmed.

Pride Of Performance is Social Romantic story, famouse Urdu Novel Online Reading at Urdu Novel Collection.

Umera Ahmed is an established writer and writing regularly. The novel Pride Of Performance Complete Novel By Umera Ahmed also


Umera Ahmed is a Popular Urdu novel writer and writes Many famouse urdu novels . Umera Ahmed is mostly popular among female readers,The Umera Ahmed stories are published in episodic format every month at various platforms and on Umera Ahmed facebook page are eventually released as separate novels.

We hope Urdu Novel Collection Readers will like this beautiful Pride Of Performance Urdu Novel and give their feedback.

Download

Umera Ahmad, Autobiography, عمیرہ احمد, آپ بیتی,

 Umera Ahmad, Autobiography, عمیرہ احمد, آپ بیتی, 






Umera Ahmad is a Pakistani writer, author and screenwriter. She is best known for her novels and plays Shehr-e-Zaat, Pir-e-Kamil, Zindagi Gulzar Hai, Alif, Durr-e-Shehwar, Daam, Man-o-Salwa, Qaid-e-Tanhai, Digest Writer, Maat, Kankar, Meri Zaat Zarra-e-Benishan, Doraha and Hum Kahan Ke Sachay Thay. Umera Ahmed is one of the most widely-read and popular Urdu fiction novelist and screenplay writer of this era.

Ahmad started writing at an early age. Her stories were often published in monthly Urdu Digest magazines. Soon she started publishing books as well. Umera has written more than 30 books in her career, some novels other compilations of short stories. Her most famous work, and the one that heightened her career was Peer-e-Kamil and Meri Zaat Zara-e-Benishan. Umera started her writing career in 1998 when she started publishing stories in the monthly Urdu magazines. Her first story written for the digest magazine was Zindagi Gulzar Hai. The story captured the interest of readers and Umera was soon asked to write a full length novel. She was 21 when she wrote the story. In 2012, the novel was serialized into a popular drama with the same name. The drama starred Sanam Saeed and Fawad Khan as the lead actors. In an interview Umera said that the character of the lead female, Kashaf in the novel is based on her own character. Umera’s stories often revolve around men-women relationships, societal issues and pressures. Her stories depict women as the central theme. Ahmad is also the writer of many other novels that have been serialized into dramas. Her other popular works are Meri Zaat Zarra-e-Benishan for which Ahmed has won the ‘Best Writer’ Award at the 10th Lux Style Awards. The novel was also converted into a drama with the same name. The drama gained much popularity and in 2014, it was also aired in India under the name, Kesi Yeh Qayamat.


Ahmad has also written novels on religion and spirituality. Pir-e-Kamil (2004), Shehr-e-Zaat (2012) and Alif (2019), are some of her novels that focus on spirituality. Her novel Alif, was dramatized into a popular series that starred Hamza Ali Abbassi, Sajal Aly and Kubra Khan.Shehr-e-zaat was also a popular drama starring Mahira Khan. Ahmad has written more than 35 books in her career. Over 22 of her books have been converted into drama series. Her books have also been translated into English and Arabic languages. Juggernaut books translated Ahmad's works into Hindi as well.

Download

Zindagi Gulzar Hai, Umera Ahmad, Novel, زندگی گلزار ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Zindagi Gulzar Hai, Umera Ahmad, Novel, زندگی گلزار ہے, عمیرہ احمد, ناول, 



یہ ایک رومانوی کہانی ہے-


کشف نامی ایک لڑکی جس کی ماں کواس کے باپ نے صرف اس بنیاد پر چھوڑدیا تھا کہ وہ اسے بیٹے کا سُکھ نہیں دے سکی- باپ کی لاتعلقی


کشف کو اندر سے کمزور تو کردیتی ہے لیکن وہ اس کو اپنی پڑھائی پر اثرانداز نہیں ہونی دیتی- اسی قابلیت کی بنا پر اسے پڑھائی مکمّل کرنے کے فورا بعد جلد ایک بڑے بزنس اسکول میں اسکالرشپ کے ساتھ نوکری مل جاتی ہے۔


زندگی ایک خاص ڈگر پر چل نکلتی ہے کہ تبھی درمیان میں زارون آجاتا ہے- زارون خوبرو، جوان اور کشف کا ہم جماعت ہے۔ اسے کشف ایک نظر میں ہی بھاجاتی ہے مگر صنم اسے فلرٹ سمجھ کر دیتی ہے۔ اور زاروں ک بارے میں طیش میں بھی آ جاتی ہے لیکن زاون بھی بھلا کب ہار ماننے والا تھا۔ اس نے کشف کو اور شادی کا پیغام بھجوادیا۔


صنم ماں او ربہن کے دباؤ کی وجہ سے زارون سے شادی کرتولیتی ہے لیکن اس کے دل میں اب بھی زارون کے بار ے میں بہت سے خدشات اور اندیشے چھپے ہیں، شاید یہی وجہ تھی کہ شادی کے باوجود بھی صنم زارون کو دل سے قبول نہیں کرپاتی۔


اس سے آگے کی کہانی زندگی کے ان تانے بانوں پر چلتی ہے جس میں ایک جانب زارون کی محبت ہے اور دوسری جانب صنم کا احساس کمتری ہے-


میں نے خدا کو غلط سمجھا شاید ہم سب ہی خدا کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کی طاقت کا غلط اندازہ لگاتے ہیں، ہمیں خدا پر صرف اس وقت پیار آتا ہے جب وہ ہمیں مالی طور پر آسودہ کر دے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم اسے طاقتور ہی نہیں سمجھتے۔ ہم نماز کے دوارن اللہ اکبر کہتے ہیں، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور نماز ختم کرتے ہی ہم روپے کو بڑا سمجھنا شروع ک دیتے ہیں مجھے ہمشیہ ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھ سے نفرت کرتا ہے۔

حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خدا تو ہر ایک سے محبت کرتا ہے اسی لیے تو اس نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا اور وہ اپنے انہیں بندوں کو آزمائشں میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے

اقتباس: عمیرہ احمد کے ناول "زندگی گلزار ہے"

Download

Yeh Jo Aik Subha Ka Sitara Ha, Umera Ahmad, Novel, یہ جو ایک صبح کا ستارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Yeh Jo Aik Subha Ka Sitara Ha, Umera Ahmad, Novel, یہ جو ایک صبح کا ستارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول, 



اردو ناول “یہ جو اک صبح کا ستارہ ہے” تحریر عمیرہ احمد

زیرنظر ناول عمیرہ احمد کی لکھی گئی کے ابتدائی کہانیوں میں سے ایک ہے. یہ ایک یتیم بچی رومیسا کی کہانی ہے ، جسے اپنے والدین کے انتقال کے بعد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی ظالم اور دولت کی پجاری خالہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک امیر تاجر نبیل رومیسا سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے۔ کچھ غیر متوقع حالات اسے سسرال کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے کرتا ہے، جہاں پر اس کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں عمیرہ نے ایک مضبوط پیغام پیش کیا ہے ، کہ زندہ رہنے کے لیے انسان کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے کیونکہ شکست تسلیم کرنا اور ہتھیار ڈالنا آپ کو معاندانہ ماحول میں نہیں بچا سکتا۔

عمیرہ احمد پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ۱۰ دسمبر ۱۹۷۶ کو پیدا ہوئیں۔ آپ نے مرے کالج سے انگریزی زبان میں ایم اے کیا لیکن آپ نے اردو کے بہت مشہور ناول لکھے ہیں۔ آپ کے لکھے گئے کئی ناولوں پر ڈرامے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اپنے ادبی سفر کا آغاز خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں اپنا نام بنانے لگیں۔ آپ کے ناول ہر عمر کے لوگ شوق سے پڑھتے ہیں اور اُن کے ڈرامے بھی لوگوں کے درمیان مقبول ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد کا لکھا گیا ناول ‘‘الف‘‘ آج کل مقبولِ عام ہے۔ اُن کے ایک ناول “ہم کہاں‌ کے سچے تھے” پر مبنی ٹی وی ڈرامہ آج کل “ہم ٹی وی” پر نشر ہورہا ہے جو مقبولیت کے نئے رکارڈ بنا رہاہے.

Download

Wapsi, Umera Ahmad, Novel, واپسی, عمیرہ احمد, ناول,

 Wapsi, Umera Ahmad, Novel, واپسی, عمیرہ احمد, ناول,



واپسی دراصل عمیرہ احمد کے تین ڈراموں یعنی واپسی ، لباس اور سودہ کے شائع شدہ سکرپٹ کا مجموعہ ہے۔ یہ تین دوستوں ، پائل، ماجو ، اور نوشی کی کہانی ہے جو ایک طوائف، ایک مساج کرنے والے اور ایک خواجہ سرا کی خواہشات ، عزائم ، شکست وریخت اور “واپسی”کو بیان کرتا ہے۔ ان تینوں ڈراموں کا مشترکہ موضوع “واپسی” ہے۔ ان کہانیوں میں سے “واپسی ” کی کہانی ایک پاکستانی مصنف یاسر شاہ کے مزار پر مبنی ہے ، جسے عمیرہ احمد نے خصوصی طور سکرین کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھی ہے۔

عمرہ احمد پاکستان کی مشہور ناول نگار ، ڈرامہ نویس اور افسانہ نگار ہیں. انہوں کئے شاہکار ناولز اور ڈرامے تخلیق کئے ہیں. اُن کے ڈارمے اور کہانیاں پاکستان بھر سے ہر عمر کے لوگ شوق سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں. ذیل میں عمیرہ احمد کے اُن تمام ناولز کی لسٹ دی جارہی ہے جو ابھی تک پاکستان ورچوئل لائبریری پر شائع کی جاچکی ہیں.

اُردو ناول "واپسی" تحریر عمیرہ احمد واپسی دراصل عمیرہ احمد کے تین ڈراموں یعنی واپسی ، لباس اور سودہ کے شائع شدہ سکرپٹ کا مجموعہ ہے۔ یہ تین دوستوں ، پائل، ماجو ، اور نوشی کی کہانی ہے جو ایک طوائف، ایک مساج کرنے والے اور ایک خواجہ سرا کی خواہشات ، عزائم ، شکست وریخت اور "واپسی"کو بیان کرتا ہے۔ ان تینوں ڈراموں کا مشترکہ موضوع "واپسی" ہے۔ ان کہانیوں میں سے "واپسی " کی کہانی ایک پاکستانی مصنف یاسر شاہ کے مزار پر مبنی ہے ، جسے عمیرہ احمد نے خصوصی طور سکرین کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھی ہے


Download

Udan, Umera Ahmad, Novel, اڈان, عمیرہ احمد, ناول,

 Udan, Umera Ahmad, Novel, اڈان, عمیرہ احمد, ناول,



اُڑان تین تعلیم یافتہ پاکستانی خواتین ثنا ، سویرا اور عائشہ کی کہانی ہے۔ تینوں ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر اجنبی ہیں، تاہم زندگی کے ایک موڑ پر وہ سب اپنے آپ کو انتہائی حیران کن انداز میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں مربوط پلاٹ کے ساتھ ساتھ انسان کی داخلیت اور نفسیاتی پرتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کبھی نہیں سیکھتے ، اور حقیقی زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔انسانی نفسیات کے حوالے سے دردناک سچ۔

عمیرہ احمد پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ۱۰ دسمبر ۱۹۷۶ کو پیدا ہوئیں۔ آپ نے مرے کالج سے انگریزی زبان میں ایم اے کیا لیکن آپ نے اردو کے بہت مشہور ناول لکھے ہیں۔ آپ کے لکھے گئے کئی ناولوں پر ڈرامے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اپنے ادبی سفر کا آغاز خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں اپنا نام بنانے لگیں۔ آپ کے ناول ہر عمر کے لوگ شوق سے پڑھتے ہیں اور اُن کے ڈرامے بھی لوگوں کے درمیان مقبول ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد کا لکھا گیا ناول ‘‘الف‘‘ آج کل مقبولِ عام ہے۔

Download

Thora Sa Asman, Umera Ahmad, Novel, تھوڑا سا آسماں, عمیرہ احمد, ناول,

 Thora Sa Asman, Umera Ahmad, Novel, تھوڑا سا آسماں, عمیرہ احمد, ناول,



تھوڑا سا آسمان ایسے لوگوں کی کہانی ہے جو آسمان کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے وہ کسی حربے، کسی ہتھکنڈے، مکر و فریب اور برائی کو اختیار کرنے میں نا تو شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی چوکتے ہیں۔ ناول عمیرہ احمد نے اپنے روایتی انداز میں لکھا ہے۔ ناول کا پلاٹ بے حد مضبوط اور مربوط ہے۔ اس ناول کی خاص بات کرداروں کی بہتات ہے، تاہم ہر کردار کہانی کی ضرورت کے مطابق شامل کیا گیا ہے اور انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ ہے۔ تاہم چند ایک کو چھوڑ کے تقریباً تمام ہی کردار منفی نوعیت کے ہیں۔ ناول بہت تفصیلی لکھا گیا ہے۔ شائستہ کمال ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیوی ہے اور اس میں وہ تمام اخلاقی برائیاں موجود ہیں جو انتہائی امیر طبقے کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کے کاروبار کی ترقی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کہانی میں یہ بات بار بار باور کرائی گئی ہے کہ شائستہ کمال کی افادیت کی وجہ سے ہارون کمال کا بزنس بہت ترقی کر رہا تھا اور شائستہ اپنے کانٹیکٹس استعمال کرکے اس کے بزنس کے مسائل فوراً حل کروا دیتی تھی۔ تاہم ناول میں ایک بارے میں ایک بھی واقعے یا مثال سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شائستہ کس طرح ہارون کمال کے بزنس میں مددگار تھی اور اس وجہ سے اس پہ حاوی تھی۔ اتنے ضخیم ناول میں اس پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کہانی میں ایک خلاء سا محسوس ہوتا ہے اور قاری ناول پڑھنے کے دوران اپنی رائے بنانے کی ببجائے مصنفہ کی بتائی ہوئی بات پہ بھروسا کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔ دیگر افراد اور کردار آہستہ آہستہ کہانی، ہارون کمال اور شائستہ کمال کی زندگیوں میں شامل ہوتے ہیں اور کہانی کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔

Download

Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,



تیری یاد خار گلاب ہے عمیرہ احمد کے لکھے گئے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ ایک خوبصورتی سے لکھی ہوئی نثر جو دو لوگوں کے درمیان نرم اور لطیف تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جسے دوسرے تمام لوگ کانٹے سمجھتے ہیں، لیکن انہیں احساس نہیں ہوتا کہ یہ دراصل کھلتا ہوا پھول ہے۔

کہانی کا مرکزی کردار ثانیہ سمجھتی ہے کہ اس نے کومیل حیدر کے بارے میں سب کچھ جان لیا ہے۔ اس کے بارے میں اس کا سخت اور غلط فیصلہ سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے اور دو لوگوں کو محبت میں ایک دوسرے کو کھونے پر مجبور کرتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جب تک آپ کے پاس مکمل حقائق نہ ہو اُس وقت تک کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

کہانی میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی فیصلہ کرنا سنگین نتائج اور ضمیر کی خلش کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی کہانی ہے جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی غلط تشریح بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر سکتی ہے!


اس ناول میں خواتین کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو بہن سمجھ کر ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتا ہے تو پھرلوگوں کی باتوں پر توجہ مت دیں، ورنہ آخر میں آپ کے لیے جو کچھ بچتا ہے وہ صرف پچھتاوا اور آنسو ہے۔

یہ ناول سب سے پہلے شعاع ڈائجسٹ میں 1999 کو شائع ہوا پھر بعد میں عمیرہ احمد کے کہانیوں کے مجموعے ” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے ” میں بھی سے شائع ہوا۔

Download

Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,

 Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,


رسی گلے میں باندریا ڈگڈگی کی آواز پر سر پر ہاتھ رکھے ناچ رہی ہے۔ رسی کا سرا ہکو کے ہاتھ میں ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک ڈگڈگی ہے جسے وہ بچا رہا ہے۔ وہ خود پیروں کی بل زمین پر بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک دائرے کی شکل میں چند بچے اور لوگ اس کے اور بندریا کے گرد کھڑے ہیں۔ ہکو کا حلیہ ملگجا ہے اس کی داڑھی اور بال بڑھے اور بکھرے ہوئے ہیں۔ بالوں میں سفیدی نمایاں ہے۔ گریبان کھلا ہوا ہے۔ دانت پیلے ہیں ۔ اس کے گلے میں تعویذ ہیں اور ہاتھ میں ایک کڑا ہے۔ اس کی انگلیوں میں چند انگوٹھیاں نظر آرہی ہیں بڑے بڑے نگینوں والی انگوٹھیاں۔ اس کے ایک کان میں روئی کا ایک پھاہا رکھا ہوا ہے جسے وہ ہمیشہ اپنے کان میں ہی رکھتا ہے۔ 


Download

Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول,

 Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول, 



شہر ذات روح کی تلاش کی کہانی ہے۔ یہ اس روحانی سفر کی کہانی ہے جسے انسان اس وقت طے کرتا ہے جب اُسے دنیا کی حقیقتیں سمجھ میں آنا بند ہو جاتی ہے۔ شہرِ ذات خوبصورت خواب دیکھنے والی ایک معصوم لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ فلک شیرافگن ایک کاروباری ٹائکون کی انتہائی خوبصورت اورا کلوتی بیٹی ہے۔ فلک فنون لطیفہ کی طالبہ ہے جو اپنے خوابوں کے شہزادے کا مجسمہ بناتی ہے اور جب وہ سلمان میں اس کا سانس لیتے مظہر کو پاتی ہے تو وہ محبت میں سر کے بل گر جاتی ہے۔ لیکن فلک ، سلمان کو جتنا جاننے کی کوشش کرتی ہے ، اتنا ہی وہ اس سے دور بھاگتا ہے ۔

کہانی کا پلاٹ روحانی بیداری کے بارے میں ہے۔ اس میں عشق حقیقی (خدا کے لیے انسان کی محبت) کے صوفیانہ تصورات ، اور عشق مجازی ، (ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے محبت) کے درمیان ایک واضح تضاد کھینچا گیا ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جو آپ کو جذبات کی زیادتی کی وجہ سے رونے پر مجبور کرتا ہے، جسے آپ تب محسوس کریں گے جب آپ اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے معنی کو سمجھیں گے۔ یہ ایک طاقتور ، گہرا دکھ دینے والا اور دل دہلا دینے والا ناول ہے۔ عمیرہ نے زندگی کی مذہبی اور روحانی اقدار کا احساس دلانے کے لیے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ عشق حقیقی سے زیادہ کوئی شے قابل تسکین نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطمینان بخش نہیں کہ اللہ رب العزت سے محبت کی جائے۔ اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہے۔ اللہ رب العزت کی محبت کے علاوہ دنیا کی کوئی محبت سچی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر رشتے، ہر محبت کی اصلیت دکھا دیتا ہے۔ پھر وہ سب کچھ دکھا کر آدمی سے کہتا ہے اب بتا تیرا میرے سوا اور ہے ہی کون؟

شہر زات پہلی بار خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوئی۔ یہ ، پانچ دیگر غیر متعلقہ کہانیوں کے ساتھ پھر مرتب کی گئی اور کتاب کی شکل میں ایک مجموعہ کے طور پر” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے” کے عنوان سے شائع کی گئی۔ یہ میری ذات ذرا بے نشاں کے ابتدائی ایڈیشن میں بھی شائع ہوا تھا۔ عمیرہ احمد کے تحریر کردہ اس ناول کی کہانی پر ایک ٹی وی ڈرامہ بھی بنایا گیا ہے جو 2012ء میں ہم ٹی وی پر نشر ہوا.

Download

Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,



سحر ایک استعارہ ہے” عمیرہ احمد کے پانچ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔، جس میں سحر ایک استعارہ ہے ، مات ہونے تک ، کس جہاں کا زر لیا ، بات عمر بھر کی ہے ، اور دوسرا دوزخ شامل ہیں۔ سحر ایک استعارہ ہے دو بہنوں “ایمن اور مریم” کے کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک بہن ملنسار فطرت کی جبکہ دوسری ایماندار اور پاکیزہ طبیعت کی مالک ہے۔ یہ سب سے پہلے کرن ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔

اس مجموعے میں عمیرہ احمد نے ہمارے معاشرے کی خامیوں اور تلخ حقیقتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہر کہانی ہماری روز مرہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کتاب میں تحریر شدہ کہانیوں کی جھلک آپکو اپنے اردگرد، کہیں ماضی میں یا حال میں، یہیں کہیں، اپنے آس پاس، نظر آتی رہتی ہے۔ ہر کہانی میں کسی نہ کسی کردار میں بےوقوفی کی حد تک اچھائی موجود ہے اور میرے ذاتی خیال میں ایک انسان کے لئے اس قدر بےلوث اور بےغرض ہونا ممکن نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان نہ اتنا برا ہو سکتا ہے اور نا ہی کوئی اتنا اچھا ہو سکتا ہے جتنا ان کہانیوں میں دکھایا گیا ہے۔

عمیرہ احمد کہانی بُننے کا ہنر جانتی ہیں۔ انکے قلم میں روانی پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا پہلا افسانہ “مات ہونے تک” مجھے باقی افسانوں کی نسبت ذیادہ پسند آیا کیونکہ وہ ذرا مختلف تھا۔ ایک خوبی اس کتاب میں یہ ہے کہ یہ آپکو بور نہیں ہونے دیتی اور آپ پوری کتاب ایک دفع میں ہی پڑھ سکتے ہیں۔

Download

Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,

 Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,



 ہمارے لیے چوبیس گھنٹوں میں پانچ بار الله کو یاد کرنا بہت مشکل ہے، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ الله چوبیس گھنٹوں میں ہر پل ہمارا خیال رکھے۔ ہمیں ہر نقصان سے بچائے، ہمیں ہر اس چیز سے نوازے جس کی ہمیں خواہش ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ ہو تو ہم الله سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔
اسے بتاتے ہیں کہ اس نے ہمیں کتنا بدقسمت بنایا ہے۔ اپنی محرومیوں کا ماتم کرتے ہیں۔ یہاں اسی زمین پر ایسے لوگ ہیں جو اس طرح معذور ہیں کہ ذہن کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حصّہ کام نہیں کرتا اور وہ پھر بھی الله کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہاں کتنے ہیں جن کے پورے کے پورے خاندان کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر بھی صبر کرتے ہیں،
الله سے سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ اس کو کوئی دلچسپی نہیں کہ تم مسلمان رہتے ہو یا نہیں۔ تمھارے مذہب بدل لینے سے دنیا میں مسلمان ختم تو نہیں ہو جائیں گے۔ محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والوں میں تو کمی نہیں آئے گی، فرق اگر کسی کو پڑے گا تو تم کو پڑے گا۔ نقصان اگر کوئی اٹھائے گا تو تم اٹھاؤ گے۔‘‘
اپنے منفرد موضوع اور بہترین کہانی کی وجہ سے یہ کتاب ہر شخص کو ضرور پڑھنی چاہئے



Download

Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,

 Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,



عمیرہ احمد کی اب تک کی لکھی جانے والی تمام تحاریر میں یہ واحد کہانی ہے جو مزاح پہ مبنی ہے اور ان کی انتہائی ابتدائی تحاریر میں سے ایک بھی ہے۔۔۔۔

 اردو ادب کی نامور مصنفہ عمیرہ احمد کی پہلی مختصر تحریر "بند کواڑوں کے پیچھے" اپریل 1998 میں شائع ہوئی تھی اور انکا پہلا مکمل ناول "زندگی گلزار ہے" کے نام سے سبتمر 1998 کو خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا۔۔۔

 یہ ناول "پاگل آنکھوں والی" ایک بیحد پرمزاح اور ہلکی پھلکی سی کہانی ہے۔ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی پڑھا جائے کہ یہ ایک مکمل افسانوی تحریر ہے، جس میں مزاح کے عنصر کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آخر تک نبھایا گیا ہے۔۔۔۔

 کہانی ہے بی اے کی طلبہ "ثنا" کی، وہ دو چھوٹے بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور اپنے والدین کی انتہائی پھوہڑ بیٹی ہے، جیسے گھر کے کام کاج سے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ نت نئے شوق پالنا اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے مگر اب اسے "لومیرج" کرنے کا شوق چڑھ آیا ہے، جو عجیب کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک بھی ہے۔۔۔۔۔

 کالج میں لان کے درخت تلے، اپنی چار دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر وہ نیۓ آئیڈیاز کو سوچنے اور ان پہ عملدرآمد کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ہر بار خوش فہمی کا محل اپنی پوری تاب سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔۔۔ 

چہروں پہ بے ساختہ ہنسی بکھیر دینے والا ایسا ناول، جس میں آپکو عمیرہ احمد کا مزاح لکھنے کا ایک بالکل منفرد انداز پڑھنے کو ملے گا۔۔۔ 

خوشگوار اختتام کے ساتھ ایک اچھوتی اور پرمزاح کہانی ہے۔۔

 ضرور پڑھیں۔۔ 

Downoad

Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,

 Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,



مٹھی بھر مٹی ناول پاکستان کی مشہور لکھاری عمیرہ احمد نے لکھا. جو کہ ایک ایسے بزرگ کی آپ بیتی جو اپنے خاندان  کو موت کے گھاٹ اتار کر  1947 میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور اپنے باپ کے ساتھ تنہا پاکستان پہنچا.

"پاکستان کو تمہاری قبروں اور تابوتوں کی ضرورت نہیں ہے. پاکستان کو تمہاری جوانی اور وہ گرم خون چاہئے جو تمہاری رگوں میں خواب اور آئیڈلزم بن کر دوڑتا ہے۔ اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو۔۔۔ جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مرنا کیوں چاہتے ہو۔۔۔ باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہو گی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہئے؟

ہر شخص کے مقدر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا۔ بعض کے مقدر میں جلاوطنی ہوتی ہے، اپنی خوشی سے اختیار کرنے والی جلاوطنی۔"


یہ بہت قیمتی سرزمین ہے۔۔۔ قربانیوں کے لہو سے سینچی ہوئی۔۔


In Muthi Bhar Mitti (English: Fistful of Dirt), the main character, Jamaal, recounts to himself the events that led to him leaving India and migrating to Pakistan after The Great Indian Partition.

It is available in Main Ne Khuwabon Ka Shajar Dekha Hai as part of a collection of stories. It was first published in Shuaa digest under the title 15 August 2001.

Download

Meray 50 Pasandeda Scene, Umera Ahmad, Novel, میرے پچاس پسندیدہ سین, عمیرہ احمد, ناول,

 Meray 50 Pasandeda Scene, Umera Ahmad, Novel, میرے پچاس پسندیدہ سین, عمیرہ احمد, ناول,


اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی- کیا کر لیں گے آپ اگر چاروں فیکٹریز میں ایک ہی وقت آگ لگ جائے- عمارتیں گر جائیں یا کچھ اور ہو جائے- ہم کتنے ہی بند کیوں نہ باندھ لیں، اگر سیلاب کے پانی کو ہم تک آنا ہے تو وہ سارے بند توڑ کر آ جائے گا- اگر ہماری قسمت میں پانی ایک قطرہ لکھا ہے ایک گھونٹ نہیں تو ہم دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی ایک قطرہ ہی پی سکیں گے، ایک گھونٹ نہیں-

تم نے زندگی میں کسی سے محبت نہیں کی۔ تمہیں کھونے کی اذیت اٹھانا نہیں پڑی۔ اس نے محبت بھی کی تھی اور اسے کھویا بھی۔ کیا اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی ہو سکتی ہے کہ جس سے محبت کی جائے۔ اسے اپنے ہاتھوں سے کھو دیا جائے لیکن اس شخص نے ایسا کیا۔

جسے اللہ تعالی اپنی محبت دیتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی۔۔
اور جسے وہ دنیا دیتا ہے، اس کی خواہش بھوک بن جاتی ہے۔۔۔کبھی ختم نہیں ہوتی۔


میرا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ جب انسان بڑا ہوجاتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں اور محرمیوں کا خود سدباب کرنا چاہئے۔ ساری زندگی آپ اپنے ماضی کی محرومیوں کے بارے میں رونے رو رو کر تو لوگوں سے مراعات نہیں لے سکتے اور پھر ایسا کون ہے اس دنیا میں جو محروم نہ ہو کوئی نہ کوئی کمی یا خامی تو ہر شخص کے ساتھ لگی رہتی ہے.

جب کوئی شخص الجھی ہوئی ڈور کے ڈھیر میں سے اس کا سرا تلاش کر لیتا ہے تو پھر ہر آدمی اسے الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے میں مدد دینے لگتا ہے ........ حالانکہ اس وقت مدد کی ضرورت باقی نہیں ہوتی- ڈور سلجھنے کے بعد ہر شخص اس کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کرتا ہے-




Download

Meri Zat Zara e Be Nishan, Umera Ahmad, Novel, میری ذات ذرہ بے نشاں, عمیرہ احمد, ناول,

 Meri Zat Zara e Be Nishan, Umera Ahmad, Novel, میری ذات ذرہ بے نشاں, عمیرہ احمد, ناول,



عمیرہ احمد کا نام آج کے نوجوان ناول نگاروں میں سب سے اوپر لیا جاتا ہے۔ عمیرہ احمد نا صرف ناولسٹ بلکہ بہت ہی کامیاب ڈرامہ نگار بھی ہیں اور بہت سے ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔

عمیرہ احمد 10 دسمبر 1976 کو پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہویئں. عمیرہ احمد نے مری کالج، سیالکوٹ سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔


عمیرہ احمد نے اپنی اوائل عمر میں ہی لکھنا شروع کردیاتھااوراس کے بعد ایک کے بعد ایک ناول آتے گئے اور قارئین کی بے انتہا پزیرائی حاصل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کے ناولز پر ڈرامہ نگاری شروع ہوئی اور اس میں بھی عمیرہ احمد کو سرخروئی حاصل ہوئی۔

 میری ذات زرہِ بے نشاں عمیرہ احمد کا ایک انتہائی مقبول ناول ہے جس پر بعد ازاں ڈرامہ سیریل بھی بنایا گیا اور اس ڈرامہ کو بھی عوام کی بے انتہا پزیرائی ملی اور اسی ناول کے توسط سے عمیرہ احمد کو Lux Awards میں بہترین رائیٹر کا ایوارڈ ملا۔

 میری ذات زرہِ بے نشاں ایک ایسی مظلوم عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی ساری زندگی اپنے اوپر لگنے والی تہمت کی نظر کردی اور اللہ کے نام پر صبر کرتی رہی۔ اپنے ہی گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا اور ایک گرے ہوئے انسان سے اس کی شادی کردی اور پھر اس پر مصائب کی بارش شروع ہوگئی لیکن اس عورت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔


 میری ذات زرہِ بے نشاں ہمارے معاشرے کی ایسی تحریر ہے جو ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں لیکن آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اس ناول کو اتنی بہتر انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والا اس ناول کے سحر میں کھو جاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے سیل رواں ہوجاتے ہیں۔

Download

Main nay Khawabon ka Shajr Dekha Hay, Umera Ahmad, Novel, میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Main nay Khawabon ka Shehr Dekha Hay, Umera Ahmad, Novel, میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے, عمیرہ احمد, ناول,




Main Ne Khuwabon Ka Shajar Dekha Hai (English I Have Seen the Tree of Dreams) portrays the conniving side of human psyche, which firmly believes that all is fair in love and war. Conceit, deceit, egoism and selfishness play a dominant part in the story as Shumaila, madly in love with her cousin Umar, conspires and creates misunderstandings between him and his wife Sana. What goes around, comes around and Shumaila eventually pays a heavy price for her deceptions. It was first published in Shuaa Digest.

It is a collection of 6 stories including this one; Shehr-e-Zaat, Koi Lamha Khuwab Nahi Hota, Koi Baat Hai Teri Baat Main, Muthi Bhar Mitti and Teri Yaad Khaar-e-Gulaab Ha.


This story is about those individuals who deems that everything in love is fair, even committing evil deeds by wrecking lives or separating two hearts. The lesson it taught by the life of Shumaila is that love never demands selfishness. All it wants is sacrifices, trust, honesty and being happy in the happiness of your beloved. Snatching the love of someone else's life and demolishing their lives in the name of love is just the sign of a weak person.

Download

Maat Honey Tak, Umera Ahmad, Novel, مات ہونے تک, عمیرہ احمد, ناول,

 Maat Honey Tak, Umera Ahmad, Novel, مات ہونے تک, ععمیرہ احمد, ناول,



مات ہونے تک ایک عورت کے مقابلے میں مرد کے سوچنے کے عمل کی پیچیدہ عکاسی ہے۔ صنف پر مبنی تعصبات کو بہت مہارت سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اظفر ایک بیوقوف نوجوان ہے جو اپنی بڑھتی ہوئی انا کو خالص محبت سے الگ کرنے سے قاصر ہے۔ فاطمہ ایک ذہین لڑکی ہے جو جذبات کو اپنے فیصلوں پر حاوی نہیں ہونے دیتی اور اپنی زندگی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گزارتی ہے۔ محبت ، سازش ، اسرار اور دھوکہ اس کہانی کے غالب عناصر ہیں۔ یہ پہلی بار اکتوبر سے نومبر 2000 تک پاکیزہ ڈائجسٹ میں شائع ہوا اور بعد میں یہ ” سحر ایک استعارہ ہے” نامی ناول میں بھی شامل کیا گیا۔

عمیرہ احمد اس دور کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور مشہور اردو افسانہ نگار اور اسکرین پلے مصنف ہیں۔ اس نے مرے کالج ، سیالکوٹ سے انگریزی ادب میں ماسٹرز مکمل کیا۔ بعد میں وہ آرمی پبلک کالج ، سیالکوٹ میں اے اور او لیول کے طلباء کے لیے انگریزی زبان کی لیکچرر بن گئیں۔ تاہم ، اس نے کچھ سال پہلے نوکری چھوڑ دی تاکہ اپنی پوری توجہ لکھنے پر دے۔ اس نے اپنی تحریری زندگی کا آغاز 1998 میں کافی کم عمری میں کیا تھا۔ اس کی ابتدائی کہانیاں ماہانہ اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں اور بعد میں کتابوں کی شکل میں سامنے آئیں۔ اس نے کئی کتابیں لکھی ہیں ، جن میں مکمل ناول اور مختصر کہانیوں کی تالیفیں شامل ہیں۔ تاہم ، یہ اس کا ناول “پیرِ کامل” تھا جو اس کی پہچان بن گیا۔

Download

Man-o-Salwa, Umera Ahmad, Novel, من و سلوی, عمیرہ احمد, ناول,

 Man-o-Salwa, Umera Ahmad, Novel, من و سلوی, عمیرہ احمد, ناول,



کیا صرف ایک شخص کے مادہ پرست ہونے سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر آپ کا جواب "نہیں" ہے تو یہ کتاب آپ کیلئے ہے!


یہ ناول میرے عمیرہ احمد کے قلم سے لکھے گئے پسندیدہ ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔۔۔ اور مجھے یاد ہے جب میری سہیلیوں نے مجھے یہ ناول تحفے میں دیا تو میں پھولے نہیں سما رہی تھی۔ آخر کو کسی کتابی کیڑے کو کتاب تحفے میں ملے تو وہ زمین پہ ٹھہرتا ہے کیا؟


خیر، اس ناول نے جتنا چونکایا اس سے کہیں زیادہ سکھایا بھی۔ یعنی نہ صرف اس کی کہانی لاجواب تھی بلکہ اس میں کئی life lessons بھی تھے۔

خلاصہ:

یہ کہانی ایک غریب خاندان کی پاکدامن، باکردار اور باحیا لڑکی، زینب ضیاء کی ہے جس کے باپ نے اسے کم مگر حلال کمائی پر پالا۔ زینب کا منگیتر، شیراز، جس سے وہ پے پناہ محبت کرتی ہے اور جو کہ کہانی کے ایک مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے، خاندان کا سب سے ہونہار لڑکا ہے۔ وہ ہمیشہ پیسوں کو رشتوں پر ترجیح دینے کا عادی ہے۔ مگر جب تک یہ حقیقت زینب پر عیاں ہوتی ہے تب تک خاصی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔


شیراز پیسے کیلئے زینب کو چھوڑ تو دیتا ہے مگر ساتھ میں اس کی زندگی بھی تباہ کر دیتا۔ کیسے؟ اس کا جواب آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔

من و سلویٰ، کرم علی کی کہانی بھی ہے جس نے چھوٹے گھر میں پرورش ضرور پائی مگر اس نے ہمیشہ بڑی سوچ، بڑے خواب، بڑے شوق اور بڑے ambitions پالے۔ نہ صرف ایسے خواب دیکھے بلکہ ان کیلئے محنت بھی کی۔ اس نے جب رشتوں کو ہر دوسری شے پر ترجیح دی تو دنیا نے اس کو کیسا بدلہ دیا، یہ جاننے کیلئے آپ کو من و سلویٰ پڑھنا ہوگا۔

ذاتی رائے:

عمیرہ احمد کو ہمیشہ ان کی صاف گوئی، اندازِ تحریر اور bluntness کیلئے پہچانا جاتا ہے کیونکہ وہ معاشرے کی سچائی ہمارے منہ پر دے مارنے سے نہیں گھبراتیں۔ اگر ان کے تمام ناولوں میں کوئی بات مشترکہ ہے تو وہ ان کا ہمیں ہمارے حقیقت کے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس ناول میں بھی انہوں نے ہمارے معاشرے کی مادہ پرستی کا کمپلیکس نقشہ ہمارے سامنے پھیلا کر رکھ دیا ہے کہ لو! اب خود جج کرو کہ آخر ہم رہ کس دنیا میں رہے ہیں! اس ناول نے جہاں سحرزدہ کیا، وہیں خاصا شرمندہ بھی کیا۔

اختتام: جتنے قارعین کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں ان میں سے ایک آدھ کے علاوہ بمشکل ہی کسی کو اس کا اختتام پسند آیا ہوگا جبکہ اس کے اختتام کی وجہ سے ہی مجھے من و سلویٰ زیادہ اچھا لگا تھا۔ جس طرح سے کہانی اور کردار کی ذہنیت کے مطابق اس کے آخری سینز تحریر کیے گئے؛ Just mind-blowing!

ضرور پڑھیں۔ عمیرہ احمد کی تحریر ہے، پسند نہ آئے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا

اگر آپ نے من و سلویٰ پڑھا ہے تو آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ میں اس پر آپ کی رائے ضرور جاننا چاہوں گی

تبصرہ : یسریٰ سعید


Download


La Hasil, Umera Ahmad, Novel, لا حاصل, عمیرہ احمد, ناول,

 La Hasil, Umera Ahmad, Novel, لا حاصل, عمیرہ احمد, ناول,



لاحاصل ان افراد کی ایک شاندار کہانی ہے جنہوں نے زندگی میں مختلف آزمائشوں کا سامنا کیا۔ جو خواہشات ، عقیدے ، غرور اور تعصب کے زیراثر اپنی زندگی اپنے خیالات کے مطابق گزارتے ہیں ۔ یہ کسی کے چھٹکارے اور کسی اور کے پچھتاوے کی کہانی ہے۔ یہ اپنے آپ کو گندگی سے نکالنے اور پھر خود اصلاحی اور سچائی کے راستے پر چلنے کی کہانی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو بتاتی ہے کہ جب کسی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے روشنی ملتی ہے تو اس کے بعد کوئی اور چیز اہمیت نہیں رکھتی۔

مرکزی کردار خدیجہ نور (کیتھرین ) ایمان ، صبر اور قربانی کا مظہر ہے۔ وہ ایک برطانوی لڑکی ہے ، جس کے پاکستانی باپ نے اسکی ماں روتھ کو دھوکہ دیا، جس نے ان کی زندگی پر انمٹ نشانات چھوڑے۔ مظہر ، ایک بظاہر عملی مسلمان ، خود کو اسلام کا نگران سمجھتا ہے۔ مریم ، ایک اور مرکزی کردار ، جو اپنی خواہشات کی غلام ہے۔

یہ ایک عورت کی کہانی ہے ، اس کی روحانی تبدیلی ، اس کا درد ، اس کی جدوجہد ، اس کی خوشیاں اور مسکراہٹیں ، لیکن سب سے زیادہ اس کی زندگی میں حائل رکاوٹیں جو ایسے انسانوں نے پیدا کی ہیں جو سزا دینے کے شوقین ہیں اور کبھی معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔

بنی نوع انسان میں بہت سی برائیاں ہیں ، لیکن ہماری سب سے بڑی خرابیوں میں سے ایک برتری کمپلیکس ہے ۔ اگر ہمارے پاس تھوڑا بہتر علم یا کسی اور سے بہتر اثاثہ ہو تو ہم اسی برتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ برتری ہمیں غرور، تکبر ، اپنے سے کمزوروں کے فیصلہ کرنے اور ہم پر انحصار کرنے والوں کو سخت سزا دینے کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہماری زندگیوں کا جج ہے ، جو ہم آج ، کل ، ہر روز کرتے ہیں ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

لا حصل کی کہانی انسان کی بدترین خصلتوں میں سے ایک کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کے اعمال ، ان کے الفاظ اور ان کے تقدیر کے فیصلے کرنے کے لیے ہمیشہ آگے آگے رہتے ہیں جب کہ ہماری اپنی زندگیاں داغدار ہوتی ہے۔ اگر ہماری زندگیوں کے فیصلوں کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیا جائے تو اس تباہی کا تصور کریں۔

لا حاصل سب سے پہلے ستمبر 2001 سے دسمبر 2001 تک خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا اور بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا۔عمیرہ احمد کے ناول کلاسیکی ہوتے ہیں۔ وہ آپ کو ان مسائل پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ، اور آپ کی سوچ اور زندگی کا تجزیہ کرنے کا انداز بدل دیتا ہے ۔ یہی حال اس ناول کا ہے۔ لیکن اصل کہانی کیتھی عرف خدیجہ نور! کے بارے میں ہے۔ مجھے اُس کا روحانی سفر بہت پسند آیا اور میں نے سیکھا کہ انسا ن کو ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے اور ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر “شکوہ” نہیں کرنا چاہیے اور کبھی امید نہیں چھوڑنی چاہیے، کیوں کہ اللہ ہمیشہ بہتر جانتا ہے ۔ میں اس کا خلاصہ عمیرہ کے اپنے الفاظ سے کروں گا ، کہ “وہ اس سے بہتر نہیں لکھ سکتی تھی”۔

Download