Posts

Showing posts with the label Sehr Homeopathy

Clinical Practice, Sehr Homeopathy, Dr. R. A. Imtiaz, Health, Medicine, کلینکل پریکٹس, سحر ہومیوپیتھی, ڈاکٹر آر اے امتیاز,طب, صحت,

Image
 Clinical Practice, Sehr Homeopathy, Dr. R. A. Imtiaz, Health, Medicine, کلینکل پریکٹس, سحر ہومیوپیتھی, ڈاکٹر آر اے امتیاز,طب, صحت, سحر ہومیوپیتھی کا چھٹا حصہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے پہلے ڈیزیز اینڈ میڈیسن، اول، دوم اور اسلام اور صحت اول و دوم، پانچواں حصہ تحقیقی مضامین کے نام سے مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ اب یہ چھٹا والیم کلینکل پریکٹس کے عنوان سے حاضر خدمت ہے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے میں بہت سی اچھی اچھی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔ خاص کراس میں والد محترم مرحوم کا ایک قلمی مسودہ بھی شامل ہے۔ جو ان کی کتاب کا رف عمل تھا۔ اصل مسودہ ایک ہندو جوگی پنڈت گیان ناتھ انڈیا لے گیا پھر واپس نہ کر سکا۔ سننے میں آیا ہے اس نے وہ مسودہ انڈیا میں کسی اور مصنف کے نام سے شائع کروادیا تھا۔ اس کتاب میں صرف روز مرہ کی چند دوائیں شامل کی گئی ہیں اور ہر دوا کی ایک مخصوص حتمی علامت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ سنگل ریمیڈی کے شوقین حضرات کے لئے یہ کتاب ایک نعمت سے کم نہیں۔ مطالعہ کریں

Sehr Homeopathy, Dr. Gulzar Ahmad, Homeopathy, Health, Medicine, سحر ہومیو پیتھی, ڈاکٹر گلزار احمد, ہومیوپیتھی,طب, صحت,

Image
 Sehr Homeopathy, Dr. Gulzar Ahmad, Homeopathy, Health, Medicine, سحر ہومیو پیتھی, ڈاکٹر گلزار احمد, ہومیوپیتھی,طب, صحت,  یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ نہ صرف اس کتاب کی بلکہ اپنی آئندہ چھپنے والی کتابوں کی بھی قیمت آپ کو پہلے ادا کردوں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کو ایسا ڈاکٹر بنا دوں کہ آپ کو اپنے کلینک کے لئے دوائیں و کیا الکحل بھی نہ خریدنا پڑے۔ ایسا ہو جانے کے بعد آپ کے پاس کوئی جواز نہیں رہتا کہ آپ میری کتب  نہ خریدیں۔ میری زندگی کا مقصد روپیہ کمانا نہیں ہے بلکہ نئی نسل کو ہومیو پیتھی کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ میری آمدی پہلے بھی میزبانی پر ہی خرچ ہوتی آرہی ہے۔ اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اس بے وفا دنیا میں محل بناتے ہیں بلکہ میں سکوں کی موت مرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ Air Tight  کمرے میں بیٹھ کر کمرے سے باہر کھڑے شخص کو گالی دیں تو کیا وہ آپ کی گالی کو دوسرے شخص تک میڈیا پہنچاتا ہے۔ اگر آپ میری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ میڈیا کے کان بھی ہوتے ہیں اور زبان بھی ہوتی ہے یعنی وہ