علوم الإسلام

Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

Saturday, May 8, 2021

Jabr or Jamhuriat by Begum Kalsoom Nawaz - جبر اور جمہوریت از بیگم کلثوم نواز

 Jabr or Jamhuriat by Begum Kalsoom Nawaz - جبر اور جمہوریت از بیگم کلثوم نواز



میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں فوجی حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں جب ننگی سنگینوں کے سامنے ان کے شوہر اور دیور و بچوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور جمہوریت کی شمع روشن کئے رکھی ۔

Download

Punjab ka Muqaddama by Hanif Ramay - پنجاب کا مقدمہ از حنیف رامے



پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی جناب محمد حنیف رامے نے پنجاب کا مقدمہ نامی کتاب کے پیش لفظ میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں یہ کتاب اردو میں اس لئے لکھنا پڑ رہی ہے کہ پڑھے لکھے پنجابیوں نے پنجابی کو چھوڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کتاب لکھے جانے کے وقت موجود پانچ کروڑ پنجابیوں کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجابیوں کو وہ نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے استحکام اور یکجہتی کی علامت سمجھتے ہیں۔

 

1972 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد میں حنیف رامے پنجاب حکومت میں مشیر خزانہ بنے اور بعد میں مارچ 1974 میں وزیراعلی پنجاب منتخب ہو گئے۔ چار جولائی 1974 کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ حنیف رامے چار جولائی 1975 کو سنیٹر منتخب ہوئے لیکن چند ماہ بعد پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے الگ ہو گئے اور فورا پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے جہاں انہیں چیف آرگنائزر بنایا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف اخباروں میں زوردار مضامین لکھے جن میں ایک پمفلٹ ’بھٹو جی پھٹو جی’ بہت مشہور ہوا۔ ان کی زیرِ نظر کتاب پنجاب کا مقدمہ اپنے دور میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔

پنجاب کا مقدمہ کیوں لکھی گئی

حنیف رامے نے لکھا کہ پنجابی لوگ اور ان کا علاقہ خوبصورت، طرح دار، ملنسار، ہنرمند اور سخی ہیں لیکن ان کی نظر میں دوسرے لوگوں کو پنجاب کا اصل روپ نظر نہیں آتا ہے۔ ان کے مطابق جہاں ایک طرف انہیں سندھی، بلوچی اور پٹھان بھائیوں کے لئے پنجاب کی تلاش ہے وہیں دوسری طرف اس پنجابی کو بھی اپنی شناخت اور پہچان کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی خوبیوں کو پہچانیں اور اپنے آباء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہی خواص کو اپنا کر تاریخ کے آسمان پر ایک نیا سورج طلوع کریں جو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بسنے والوں کے لئے شاید ایک نیا تعارف ہو گا اور یہ نیا تعارف اس دوستی اور بھائی چارے کا باعث بنے گا جس سے پاکستان کی عوام تیزی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔

 

حنیف رامے نے پنجاب اور پنجابیوں کے بارے میں جو تجزیہ اس وقت کیا تھا اور دوسرے صوبوں کے لوگوں کے دلوں میں پنجابیوں کے لئے جو جذبات اس وقت تھے وہ تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ آج بھی تقریبا ویسے ہی ہیں اور آج بھی پنجابی اپنے تشخص سے محروم ہیں، آج بھی دوسرے صوبوں میں پنجابیوں کے خلاف تعصب ابھارا جاتا ہے حالانکہ اس میں پنجابیوں کی بجائے سیاست کا زیادہ عمل دخل ہے لیکن پھر بھی پنجابی آج بھی ملکی ترقی میں ایک بڑے بھائی کی طرح مسلسل اپنا کردار نبھائے ہوئے ہیں۔


Download


Chah-e-Yousuf se Sada by Yousuf Raza Gilani - چاہ یوسف سے صدا از سید یوسف رضا گیلانی

 Chah-e-Yousuf se Sada by Yousuf Raza Gilani - چاہ یوسف سے صدا از سید یوسف رضا گیلانی




راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی ان ’نیب زدہ‘ سیاستدانوں میں سے ہیں جنہیں اور تو اور حکومتی پارٹی پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین بھی سیاسی قیدی قرار دے چکے ہیں۔

گیلانی کو بطور سپیکر (1993 تا 1997) قومی اسمبلی میں مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے الزام میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اٹھارہ ستمبر سال دو ہزار چار کو دس سال قید با مشقت اور دس کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ پابندِ سلاسل ہیں۔

اسی اسیری کے دوران انہوں نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’چاہِ یوسف سے صدا‘ تحریر کی ہے۔ کتاب کا عنوان الطاف حسین حالی کے اس شعر سے لیا گیا ہے:

آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت

یوسف رضا گیلانی خود شاعر تو نہیں لیکن شعری ذوق بہت اچھا رکھتے ہیں اور موقع کی مناسبت سے شعر کہنا ان کا خاصہ ہے۔ اسی وجہ سے ان کی پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو انہیں شاعر سمجھ بیٹھیں اور اپنی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حکمراں شیخ زید بن سلطان النہیان سے سپیکر یوسف رضا گیلانی کا تعارف ایک شاعر کے طور پر کرا دیا۔

گیلانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ شیخ زید نے فوری طور پر ’تازہ کلام‘ میں سے چند رومانوی اشعار سنانے کی فرمائش کردی۔اشعار سنائے گئے تو شیخ زید نے کہا ’سپیکر صاحب! آپ کی رومانوی شاعری میں بڑا تکّبر ہے، یہ شاعری عرب مزاج اور ماحول کے مطابق نہیں ہے‘ اور پھر انہوں نے خود کچھ عربی اشعار سنائے جن میں ننگے پاؤں، ریگستان اور پھٹے کپڑوں کا ذکر تھا۔

چاہِ یوسف سے صدا ایک ایسے ’یوسف‘ کی کہانی ہے جسے ڈھیروں اشعار یاد ہیں، بارش میں بھیگنا پسند ہے اور جو ایام اسیری میں بھی پھولوں کی آبیاری کرتا ہے لیکن اس کی داستان میں کسی ’زلیخا‘ کا ذکر نہیں۔

گیلانی نے لاہور کی پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کر رکھا ہے اور ان کی کتاب بھی کسی ماہر صحافی کی ہی لکھی لگتی ہے۔ جس میں واقعات کو بڑی عمدگی کے ساتھ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ نتیجہ قاری کو ازخود ہی نکالنا پڑتا ہے۔ کتاب پڑھ کر جس تشنگی کا شدید احساس ہوتا ہے وہ ہے ان حالات و واقعات کا ذکر نہ ہونا جن کے باعث گیلانی کے دور سپیکر کے صدر فاروق لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے درمیان فاصلے بڑھے جو آگے جا کر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر مُنتج ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی کا سیاسی کیرئیر کم و بیش تین دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس دوران وہ ملتان ضلع کونسل کے چیئرمین ، ضیاء دورکے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وفاقی وزیر پھر بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں وفاقی وزیراور دوسرے میں قومی اسمبلی کے سپیکر رہے اور اب بقول سنیٹر مشاہد حسین کے سیاسی قیدی کے طور پر اڈیالہ جیل میں مقید ہیں۔

 Download

 


Tuesday, May 4, 2021

Haan Main Baghi Hoon by Javed Hashmi - ہاں میں باغی ہوں از جاوید ہاشمی

 

Haan Main Baghi Hoon by Javed Hashmi - ہاں میں باغی ہوں از جاوید ہاشمی



 

اس دور کے رسم رواجوں سے

ان تختوں سے ان تاجوں سے

جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں

انسانی خون سے پلتے ہیں

جو نفرت کی بنیادیں ہیں

اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے

وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے

قانون بدلتے رہتے ہیں

اور مجرم پلتے رہتے ہیں

ان چوروں کے سرداروں سے

انصاف کے پہرے داروں سے

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

جو عورت کو نچواتے ہیں

بازار کی جنس بناتے ہیں

پھر اس کی عصمت کے غم میں

تحریکیں بھی چلواتے ہیں

ان ظالم اور بدکاروں سے

بازار کے ان معماروں سے

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

جو قوم کے غم میں روتے ہیں

اور قوم کی دولت ڈھوتے ہیں

وہ محلوں میں جو رہتے ہیں

اور بات غریب کی کہتے ہیں

ان دھوکے باز لٹیروں سے

سرداروں سے وڈیروں سے

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

مذہب کے جو بیوپاری ہیں

وہ سب سے بڑی بیماری ہیں

وہ جن کے سوا سب کافر ہیں

جو دین کا حرفِ آخر ہیں

ان جھوٹے اور مکاروں سے

مذہب کے ٹھیکیداروں سے

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

جہاں سانسوں پر تعزیریں ہیں

جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں

ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں

جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں

سوچوں کی ایسی پستی سے

اس ظلم کی گندی بستی سے

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے

میرے سر پر ظلم کا پھندا ہے

میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں

میں موت کی خاطر زندہ ہوں

میرے خون کا سورج چمکے گا

تو بچہ بچہ بولے گا

 

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

 

ڈاکٹر خالد جاوید جان

 

Download

Takhta Dar Ke Sae Tale by Javed Hashmi - تختہ دار کے سائے تلے از جاوید ہاشمی

 

Takhta Dar Ke Sae Tale by Javed Hashmi - تخدار کے سائے تلے از جاوید ہاشمی



یہ کتاب تحریر سے زیادہ خود کلامی پر مشتمل ہے۔ میں نے جتنے خطوط لکھے ہیں ان سب کے کردار حقیقی ہیں، واقعات کی صحت کا خیال اس لئے بھی ضروری تھا کہ میں نے انہی لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے کے لئے جانا ہے جن کا ذکر اس کتاب میں ہے۔ اگر کوئی بات خلاف واقع ہوئی تو جوابدھی مشکل ہو جائیگی اس لئے خود کلامی خود احتسابی میں تبدیل ہوگئی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حقیقت افسانے سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے صرف دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔  گزشتہ کئی صدیوں سے ہمارے مذہب اسلام کو تنگ دائروں میں محدود کر دیا گیا ہے میں خدا کی ذات پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں۔ میرا کامل یقین ہے کہ خدا انسانوں میں رہتا ہے۔ غریبوں کی بھلائی اور خوشنودی میں خدا کی خوشنودی شامل ہے۔ اشرف المخلوقات یا عظمت  انسان کا درس قرآن مجید میں ہر جگہ دیا گیا ہے۔ جب یہ فرمایا گیا کہ خدا اپنے حقوق معاف کر دے گا مگر انسان کے حقوق غضب کرنے والے کو معاف نہیں کرے گا۔ تو گویا ہماری بخشش کو انسانوں کی رضا مندی سے مشروط کردیا گیا۔

Download