Posts

Showing posts with the label Pir Karam Shah

Jame-ul-Ahkam-il-Quran, Tafseer-e-Qurtabi, Muhammad bin Ahmad Al-Qurtabi, Tafseer, تفسیر, محمد بن احمد القرطبی, جامع الاحکام القرآن, تفسیر قرطبی, پیر کرم شاہ, Pir Karam Shah,

Image
 Jame-ul-Ahkam-il-Quran Tafseer-e-Qurtabi Muhammad bin Ahmad Al-Qurtabi Tafseer,  تفسیر محمد بن احمد القرطبی جامع الاحکام القرآن تفسیر قرطبی پیر کرم شاہ ,  Pir Karam Shah تفسیر قرطبی جس کا اصل نام "الجامع لأحکام القرآن" ہے عربی کی ایک مشہور و معروف تفسیر ہے۔ اس کے مفسر محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح انصاری خزرجی القرطبی ہیں جنہوں نے ساتویں صدی ہجری میں اس کو   عربی میں لکھا۔ حضرت قبلہ پیر کرم شاہ صاحب نے اس کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا جو کہ تفسیر قرطبی کہلاتا ہے اور اس کو ضیاء القرآن پبلیکیشنز نے چھاپا۔ یہ اپنے وقت کی عظیم الشان تفسیر ہے، اس میں قرآن کے معانی اور احکام کی تفصیل بڑی وضاحت سے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں قرآت، اعراب، لغوی مباحث کے علاوہ صرفی و نحوی نکات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔   یہ مندرجہ ذیل اسلوب پر لکھی گئی ہے۔   1۔ سب سے پہلے سورۃ کی فضیلت اور اس کے متعلق جو احادیث ہیں علامہ قرطبی پہلے ان کا ذکر کرتے ہیں۔ 2۔ اسباب نزول بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے احادیث کا ذکر کرتے ہیں اور کئی جگہ عربی ادب کے شعروں سے تائید لاتے ہیں۔ 3۔ آیات کے متعلقہ فقیہ ا

Tafseer Durr-e-Mansoor, Jalaluddin Al-Suyuti, Tafseer, تفسیر در منثور, جلال الدین السیوطی, تفسیر, پیر کرم شاہ, Pir Karam Shah,

Image
 Tafseer Durr-e-Mansoor, Jalaluddin Al-Suyuti , Tafseer, تفسیر در منثور, جلال الدین السیوطی , تفسیر, Translated by : Pir Karam Shah , ترجمہ ۔ پیر کرم شاہ الازھری علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ نے اپنے شہرہ آفاق مقدمہ میں لکھا ہے کہ قرآن حکیم عربوں کی لغت اور اس کے اسالیب بلاغت میں نازل ہوا ہے۔ وہ اس کے معانی کو مفردات و تراکیب کے لحاظ سے سمجھتے تھے۔ نیز قرآن جملوں اور آیات کی صورت میں توحید و فرائض دینیہ کے بیان کے لیے حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔ بعض آیات عقائد ایمانیہ پر مشتمل ہیں، بعض ظاہری احکام کو بیان کرتی ہیں، بعض مقدم اور بعض موخر ہیں۔ بعض موخر، مقدم کے لیے ناسخ ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ مجمل کی تفسیر خود بیان فرماتے تھے اور ناسخ و منسوخ میں خود ہی امتیاز فرماتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو جانتے تھے اور آیات کے اسباب نزول بھی پہچانتے تھے اور اس کے منقول ہونے کے حال کا مقتضی بھی صحابہ کرام کو معلوم تھا جیسا کہ اللہ تعالی کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے۔ اذا جا نصر اللہ والفتح۔ اس آیت کریمہ نے نبی کریم ﷺ کے وصال کی خبر دی۔   علامہ موصوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں : قرن اول سے قرآن سینہ بسینہ منت