علوم الإسلام

Showing posts with label Novel. Show all posts
Showing posts with label Novel. Show all posts

Tuesday, December 7, 2021

Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,

 Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,



اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔


اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔


اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور علم ہیئت جیسے علوم بھی عوام الناس کی توجہ کا مرکز بننے لگے۔ اور چونکہ تصوف کی روایت بھی اس وقت تک منظر عام پر آ چکی تھی، لہذا جب اس کا مقابلہ فلسفہ کے ساتھ ہوا تو یک گونہ مشابہت کے باعث صوفیاء نے اپنی قلبی واردات کو بیان کرنے اور ان کی تشریح کی خاطر فلسفہ کی اصطلاحات کا سہارا لیا اور یوں ایک ایسا ملغوبہ نکھر کر سامنے آیا جس نے آگے چل کر وحدت الوجود کی شکل اختیار کر لی۔


اس نئے مکتبہ فکر کے زیر اثر اب ایسے احوال بھی سامنے آنے لگے، جو اس سے ماقبل اسلام کی روایت میں ہرگز نہ سنے گئے اور نہ دیکھے گئے۔ جس میں سب سے نمایاں روایت منصور الحاج کی ہے، جس نے انا الحق کا نعرہ لگا کر ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس سے لوگ قطعاً آشنا نہ تھے۔ بعد میں اسی وحدت الوجود کے پرچارک کے طور پر محی الدین ابن عربی اور مولانا رومی بھی سامنے آئے، تاہم ان کے کلام میں جذبات کے اظہار میں وہ شدت نمایاں نہ تھی، لیکن بہر طور ان دونوں شخصیات نے بھی اپنے قلبی احساسات اور مکاشفات کو وحدت الوجود کی لڑی ہی میں پرو کر عوام الناس کے سامنے رکھا۔ جس کی امثلہ مثنوی اور فصوص الحکم میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔


اس مکتبہ فکر کی روایات میں بہت سی چیزیں وہ بھی شامل ہیں، جو شرعی معاملات سے متصادم اور ایک نئی راہ پہ گامزن کرنے والی ہیں، لہذا اپنے اپنے وقت کی برگزیدہ ہستیوں نے ان کے خلاف کھلم کھلا تحریکات چلا کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تنبیہ کی اور اس کی جگہ جماعت الصحابہ کے افعال و اقوام سے رہنمائی حاصل کرنے کو اصل قرار دیا، جن میں ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی کا نام بہت نمایاں ہے۔ ابن تیمیہ تو خطوط اور کتب کے ذریعے ان سے برات کا اظہار کرتے رہے، تاہم مجدد الف ثانی نے باقاعدہ ان کے مقابلے میں ایک نئے مکتبہ فکر اعنی وحدت الشہود کی بنیاد رکھ کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی۔


چونکہ وحدت الوجود کا نکتہ نظر حکمائے یونان سے مستعار لیا گیا ہے، بلکہ اس کے اندر بعض تعلیمات ہندوستان کے مذہبی رہنماؤں کی بھی شامل ہیں، لہذا ان تہذیبوں کے مذہبی نظریات اور افکار کو بھی اس راہ کے ذریعے اسلامی روایت میں جگہ مل گئی اور یوں ایک نئے تنازع نے جم لیا جو ہنوز جاری و ساری ہے۔ وحدت الوجود کے کتبہ فکر کی بنیاد اس سوچ پر ہے جس کے مطابق کائنات کے اندر صرف خدا کا وجود موجود ہے، اور باقی سب کچھ اس کے مظاہر ہیں۔


لہذا وہ ہر مخلوق کے اندر بتمامہ موجود ہے، اور ان کے افعال گویا ان کے واسطے ایک نسبت اضافی ہین وگرنہ حقیقت میں کوئی اور ہے۔ چنانچہ بابا بلھے شاہ کے مشہور کلام ”کی جانڑاں میں کونڑ بلھیا“ میں ہمیں اسی طرف واضح اشارہ ملتا ہے، کہ جہاں موسیٰ اور فرعون، کافر اور مسلمان، پاک اور پلید سب کو ہم پلہ قرار دے کر ان سب کو خدا کے ہی مختلف مظاہر شمار کیا گیا ہے، جس کی رو سے ان کی بابت کچھ بات کرنا گویا خدا کے اوپر اعتراض کرنے کے برابر ہے۔


اسی نظریہ کو لے کر ملک کے مشہور ڈرامہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے بھی خامہ فرسائی فرمائی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار ایک ڈرامے ”من چلے کا سودا“ میں کیا ہے، جو انیس صد نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر لاہور سے دکھایا گیا تھا۔ اس ڈرامے کے اندر ایک انسان (خیام سرحدی مرحوم) کو ایک باطنی کشمکش میں مبتلاء روپ میں پیش کیا گیا، جو ہر طرح کی دنیوی نعمتوں سے فیضیاب ہونے کے باوجود راحت و اطمینان کے حصول کے واسطے کوشاں ہے اور پھر اس کی ملاقات ایک ایسے شخص (فردوس جمال) سے ہوتی ہے جو اس کو نئی راہ دکھلا کر اس کی زندگی کا رخ پہ پھیر دیتا ہے۔


تاہم اس میں سب سے حیرت انگیز پہلو ایک ہی انسان کے مختلف روپ کا دکھایا جانا ہے، جس کے تحت وہ کہیں موچی کے لبادے میں، تو کہیں ڈاکیے کے لبادے میں، کہیں راہب کے لبادے میں تو کہیں ڈاکو بن کر ہمارے سامنے آتا ہے، جس سے یہ صریح تاثر ملتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم کا قلبی رجحان شدید طور پہ وحدت الوجود کی جانب تھا اور گویا ایک ہی انسان ایک ہی وقت میں مختلف روپوں میں ظاہر ہو کر مختلف افعال سر انجام دے رہا ہے۔


اگر نظریہ وحدت الوجود کی اس شکل کو درست مان لیا جاوے، تو کیا ہم پھر ہم اصلی نیکی اور بدی میں تمیز کر پاویں گے؟ اگر ایک ہی شخص دوسرے انسان کو لوٹ بھی رہا ہے، اور اسی کا دوسرا بہروپ عین اسی موقع پر پہنچ کر لٹنے والے کی مدد بھی کر رہا ہے، تو آخر اس کا حقیقی چہرہ کون سا ہے؟ وہ جو لوٹ رہا ہے یا وہ جو بچا رہا ہے؟ اور سب سے بڑی بات کیا یہ صفت خدا کے علاوہ ہم کسی اور مخلوق کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جگہ موجود اور ماکان وما یکون کے علم سے بہرہ ور ہو؟


اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو گویا یہ وہی مقام ہے جہاں ایک انسان خدا کے ہم پلہ ہوجاتا ہے اور پھر وہی بلھے شاہ والا حال ہوجاتا ہے کہ جہاں موسیٰ اور فرعون قدر مشترک بن کر باہم تفاوت ختم کر دیتے ہیں۔ لہذا جب دو اشیاء میں امتیاز کا پردہ اٹھ گیا، تو گویا وہ حقیقتاً ایک ہی چشمے کا پانی ہیں، لہذا فرعون جو افعال سر انجام دے رہا ہے وہ بھی درست تصور کیے جائیں گے اور جو کچھ موسیٰ سے صادر ہو رہا ہے وہ بھی درست گردانا جائے گا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بدی کا مقام کہاں ہے؟ اور ہم کس فعل کو بدی اور کس فعل کو نیکی سے تعبیر کریں گے؟ جب زید ہی بکر ہے اور بکر ہی زید ہے تو پھر انتساب الگ الگ کیوں ہے، ہم دونوں کو ایک ہی نام دے کر اس جھگڑے کو ہی کیوں نہ ختم کردیں تاکہ خس کم جہاں پاک ہو جائے۔


لہذا ہمیں اس باریک فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ دنیا میں نیکی اور بدی کا الگ الگ مستقل وجود ہے، جس سے پہلو تہی کرنے کا مطلب کارخانہ قدرت کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔ کیونکہ جو چیزیں مسلمات ہیں اور تواتر کے ساتھ ساتھ عقلی لحاظ سے بھی ثابت ہوں، ہم ان کو حرف مکرر کی طرح لوح جہاں سے مٹا کر ایک نئی عمارت کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ انہی وجوہات کی بناء پر متاخرین میں سے جو لوگ معتدل قسم کے صوفی تھے، انہوں نے وحدت الوجود کے اس فکری تناظر کی مخالفت کر کے، تصوف کو اس کی اصلی روایت سے جوڑنے کی از سر نو کوشش کی۔


جس میں سب سے نمایاں نام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب کا ہے۔ آپ نے اس وقت ہندوستان میں انہی وجودی صوفیوں کے ہاتھوں جو شریعت کے ساتھ کھلواڑ رچایا جا رہا تھا، اس کے خلاف سینہ سپر ہو گئے اور یہاں کی مسلمان عوام کو قرآن اور حدیث سے تمسک کی تلقین کی۔ کیونکہ یہ بات ہر صاحب عقل اور صاحب ہوش صوفی کے نزدیک مسلم ہے کہ اسلام میں صرف اور صرف وہی طریقت قابل قبول ہے جو شریعت کے ماتحت ہے۔ وگرنہ ہر وہ تصوف جو شریعت اسلامی سے متصادم اور اس کی روش کے مخالف ہو، خواہ وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے پیش کیا جائے، وہ سراسر گمراہی اور بد عقیدتگی میں ہی شمار ہوگا۔


Download

Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول,

 Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول, 



بازار سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ چوک میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور انہوں نے کسی شخص کو گھیر رکھا ہے۔ مجھے وہ شخص نظر تو نہ آیا البتہ گروہ کے شور اور لوگوں کی تعداد سے اندازہ ہوا کہ کوئی اہم واقعہ ہو گیا ہے اور لوگ بہت ہی غصے میں ہیں۔ ہمارے تخت پور کا یہ چوک نانک شاہی اینٹوں کے فرش کا پکا چوک تھا اور اس کے چاروں طرف منیاری، کپڑے، صرافے، برتنوں اور پنساریوں کی بڑی بڑی دکانیں تھیں۔ ان کے درمیان نک سک کی دوسری چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی تھیں جن کے کوٹھے ننگے تھے اور ان پر بوریوں کے ٹاٹ والے چھوٹے چھوٹے بیت الخلا تھے۔ بڑی دکانوں پر ان کے سائز کے مطابق پکے چوبارے تھے جن کی سیڑھیاں دکانوں کے پہلو سے چڑھتی تھیں اور کھڑکیاں چوک میں کھلتی تھیں۔ چوک کے درمیان میں سیمنٹ کا ایک خشک فوارہ تھا جسے کمیٹی نے پانی کا کنکشن نہیں دیا تھا، حالانکہ یہ فوارہ بھی کمیٹی کا تھا اور پانی بھی کمیٹی کا لیکن محصول چنگی کے کسی آئٹم پر جھگڑے کی وجہ سے فوارے کو پانی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس فوارے کے اندر مزدور اپنی پگڑیاں بچھا کر اور بوریوں کو گچھا مچھا کر کے تکیے بنا کے سوتے تھے۔


Download


Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,

 Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,





روت : حضور ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم سے ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟

شاہ : اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ! ایک وجہ تو یہ ہے کہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔


کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ ! جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔


ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ، کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ، کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو ظلم کا ہی شوق ہوتا ہے ۔


ثروت : اور دوسری وجہ شاہِ علم

شاہ : دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔

وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔

اس کے بغیرصابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔


اشفاق احمد " حیرت کدہ " صفحہ 57


Download

Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,

 Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,



ایک محبت سو افسانے کتاب ایک محبت سو افسانے سلسلہ

ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان

کیوں نہ کرنے لگے سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے میرا تعلق

وہ کہتی ہے دو بول محبت کے ہجر عبادت بن جائے محبت خوبصورت ہے آوارہ مزاج تم سمجھ نہیں سکتے تاجدار حرم منتخب نظمیں منتخب افسانے غزلیات ساغر عصری

کے افسانوں میں محبت کا حسی تصور لطیف ہے ان کے افسانے بظاہر محبت کے مرکزی نقطے پر گردش کرتے ہیں تاہم ان کے موضوعات متنوع ہیں اور وہ محبت کی قندیل سے زندگی

پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا اس سفر میں افسانے بھی لکھے ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ

اردو افسانے کی قدیم ترین کتاب ہے مولوی عبدالحق نے محمد حسین آزاد کے دعوے کو بھی رد کیا جس کے مطابق وہ فضلی کی کربل کتھا کو اردو نثر کی پہلی کتاب گردانتے

نامہ کا ایک بے مثال کردار ہے جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی اور اس طرح شہاب صاحب کے اولین افسانے کا عنوان

حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال کا سرائیکی ترجمہ خیابان خرام خرم بہاولپوری کے سرائیکی کلام کی ترتیب و تدوین رات دی کندھ ڈرامے افسانے قصے تے پ ڑ قصہ

کا اعزازحاصل تھا 1936ء میں جب وہ گورنمنٹ کالج سے بی اے کرچکے تو ان کے افسانے اور مضامین ہمایوں میں چھپنے لگے بطور طالب علم کچھ عرصے کے لیے شعرو شاعری

کے طور پر ہمارا تمہارا خدا بادشاہ صرف ایک شب کا فاصلہ وارث ــ اور صرف ایک دن کے لیے وغیرہ جیسے افسانے حال کے سیاسی پس منظر میں لکھے گئے ہیں مگر

Download

Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,

 Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,



بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد


راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے ۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس کے اندر کا حال بیان کرنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں کتب محترمہ بانو قدسیہ کی جانب  سے مرتب کی گئیں اور جناب اشفاق احمد کی وفات(سات ستمبر 2004) کے بعد آنے والے سالوں میں شائع ہوئیں۔

 ۔"راہ رواں ۔۔۔۔ بانو قدسیہ "۔۔۔یہ کتاب بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ کی سفر کہانی ہے ، دونوں کی ساری کتب اور ہر تحریر کاعکس اس کتاب کے آئینے میں جھلکتا ہے، جس نے "راہِ رواں"نہیں پڑھی وہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے خیال کی گہرائی کو چھو نہیں سکا۔ اس بیش بہا کتاب میں ہر عمر اور ہر سوچ کے قاری کے ذہن میں اٹھنے والے زندگی کے پیچ وخم کے بہت سے راز کھلتے ہیں۔

بابا جی بھی اشفاق صاحب کو سمجھاتے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز ساکت نہیں ۔ یہ سورج چاند ستارے سب اپنے اپنے محور کے گرد گھوم رہے ہیں اور اشفاق صاحب بضد تھے جدید علم کی روشنی میں سورج ساکت ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے ۔

بابا جی نے آخر کہا ۔۔۔۔۔ اشفاق میاں !!! صرف مطلوب ساکت ہوتا ہے، سب طالب اس کے گرد گھومتے ہیں

Download

Monday, November 22, 2021

Pride of Performance, Umera Ahmad, Novel, عمیرہ احمد, پرائڈ آف پرفارمنس, ناول,

Pride of Performance, Umera Ahmad, Novel, عمیرہ احمد, پرائڈ آف پرفارمنس, ناول, 



Pride Of Performance is writen by Umera Ahmed.

Pride Of Performance is Social Romantic story, famouse Urdu Novel Online Reading at Urdu Novel Collection.

Umera Ahmed is an established writer and writing regularly. The novel Pride Of Performance Complete Novel By Umera Ahmed also


Umera Ahmed is a Popular Urdu novel writer and writes Many famouse urdu novels . Umera Ahmed is mostly popular among female readers,The Umera Ahmed stories are published in episodic format every month at various platforms and on Umera Ahmed facebook page are eventually released as separate novels.

We hope Urdu Novel Collection Readers will like this beautiful Pride Of Performance Urdu Novel and give their feedback.

Download

Zindagi Gulzar Hai, Umera Ahmad, Novel, زندگی گلزار ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Zindagi Gulzar Hai, Umera Ahmad, Novel, زندگی گلزار ہے, عمیرہ احمد, ناول, 



یہ ایک رومانوی کہانی ہے-


کشف نامی ایک لڑکی جس کی ماں کواس کے باپ نے صرف اس بنیاد پر چھوڑدیا تھا کہ وہ اسے بیٹے کا سُکھ نہیں دے سکی- باپ کی لاتعلقی


کشف کو اندر سے کمزور تو کردیتی ہے لیکن وہ اس کو اپنی پڑھائی پر اثرانداز نہیں ہونی دیتی- اسی قابلیت کی بنا پر اسے پڑھائی مکمّل کرنے کے فورا بعد جلد ایک بڑے بزنس اسکول میں اسکالرشپ کے ساتھ نوکری مل جاتی ہے۔


زندگی ایک خاص ڈگر پر چل نکلتی ہے کہ تبھی درمیان میں زارون آجاتا ہے- زارون خوبرو، جوان اور کشف کا ہم جماعت ہے۔ اسے کشف ایک نظر میں ہی بھاجاتی ہے مگر صنم اسے فلرٹ سمجھ کر دیتی ہے۔ اور زاروں ک بارے میں طیش میں بھی آ جاتی ہے لیکن زاون بھی بھلا کب ہار ماننے والا تھا۔ اس نے کشف کو اور شادی کا پیغام بھجوادیا۔


صنم ماں او ربہن کے دباؤ کی وجہ سے زارون سے شادی کرتولیتی ہے لیکن اس کے دل میں اب بھی زارون کے بار ے میں بہت سے خدشات اور اندیشے چھپے ہیں، شاید یہی وجہ تھی کہ شادی کے باوجود بھی صنم زارون کو دل سے قبول نہیں کرپاتی۔


اس سے آگے کی کہانی زندگی کے ان تانے بانوں پر چلتی ہے جس میں ایک جانب زارون کی محبت ہے اور دوسری جانب صنم کا احساس کمتری ہے-


میں نے خدا کو غلط سمجھا شاید ہم سب ہی خدا کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کی طاقت کا غلط اندازہ لگاتے ہیں، ہمیں خدا پر صرف اس وقت پیار آتا ہے جب وہ ہمیں مالی طور پر آسودہ کر دے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم اسے طاقتور ہی نہیں سمجھتے۔ ہم نماز کے دوارن اللہ اکبر کہتے ہیں، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور نماز ختم کرتے ہی ہم روپے کو بڑا سمجھنا شروع ک دیتے ہیں مجھے ہمشیہ ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھ سے نفرت کرتا ہے۔

حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خدا تو ہر ایک سے محبت کرتا ہے اسی لیے تو اس نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا اور وہ اپنے انہیں بندوں کو آزمائشں میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے

اقتباس: عمیرہ احمد کے ناول "زندگی گلزار ہے"

Download

Yeh Jo Aik Subha Ka Sitara Ha, Umera Ahmad, Novel, یہ جو ایک صبح کا ستارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Yeh Jo Aik Subha Ka Sitara Ha, Umera Ahmad, Novel, یہ جو ایک صبح کا ستارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول, 



اردو ناول “یہ جو اک صبح کا ستارہ ہے” تحریر عمیرہ احمد

زیرنظر ناول عمیرہ احمد کی لکھی گئی کے ابتدائی کہانیوں میں سے ایک ہے. یہ ایک یتیم بچی رومیسا کی کہانی ہے ، جسے اپنے والدین کے انتقال کے بعد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی ظالم اور دولت کی پجاری خالہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک امیر تاجر نبیل رومیسا سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے۔ کچھ غیر متوقع حالات اسے سسرال کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے کرتا ہے، جہاں پر اس کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں عمیرہ نے ایک مضبوط پیغام پیش کیا ہے ، کہ زندہ رہنے کے لیے انسان کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے کیونکہ شکست تسلیم کرنا اور ہتھیار ڈالنا آپ کو معاندانہ ماحول میں نہیں بچا سکتا۔

عمیرہ احمد پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ۱۰ دسمبر ۱۹۷۶ کو پیدا ہوئیں۔ آپ نے مرے کالج سے انگریزی زبان میں ایم اے کیا لیکن آپ نے اردو کے بہت مشہور ناول لکھے ہیں۔ آپ کے لکھے گئے کئی ناولوں پر ڈرامے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اپنے ادبی سفر کا آغاز خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں اپنا نام بنانے لگیں۔ آپ کے ناول ہر عمر کے لوگ شوق سے پڑھتے ہیں اور اُن کے ڈرامے بھی لوگوں کے درمیان مقبول ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد کا لکھا گیا ناول ‘‘الف‘‘ آج کل مقبولِ عام ہے۔ اُن کے ایک ناول “ہم کہاں‌ کے سچے تھے” پر مبنی ٹی وی ڈرامہ آج کل “ہم ٹی وی” پر نشر ہورہا ہے جو مقبولیت کے نئے رکارڈ بنا رہاہے.

Download

Wapsi, Umera Ahmad, Novel, واپسی, عمیرہ احمد, ناول,

 Wapsi, Umera Ahmad, Novel, واپسی, عمیرہ احمد, ناول,



واپسی دراصل عمیرہ احمد کے تین ڈراموں یعنی واپسی ، لباس اور سودہ کے شائع شدہ سکرپٹ کا مجموعہ ہے۔ یہ تین دوستوں ، پائل، ماجو ، اور نوشی کی کہانی ہے جو ایک طوائف، ایک مساج کرنے والے اور ایک خواجہ سرا کی خواہشات ، عزائم ، شکست وریخت اور “واپسی”کو بیان کرتا ہے۔ ان تینوں ڈراموں کا مشترکہ موضوع “واپسی” ہے۔ ان کہانیوں میں سے “واپسی ” کی کہانی ایک پاکستانی مصنف یاسر شاہ کے مزار پر مبنی ہے ، جسے عمیرہ احمد نے خصوصی طور سکرین کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھی ہے۔

عمرہ احمد پاکستان کی مشہور ناول نگار ، ڈرامہ نویس اور افسانہ نگار ہیں. انہوں کئے شاہکار ناولز اور ڈرامے تخلیق کئے ہیں. اُن کے ڈارمے اور کہانیاں پاکستان بھر سے ہر عمر کے لوگ شوق سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں. ذیل میں عمیرہ احمد کے اُن تمام ناولز کی لسٹ دی جارہی ہے جو ابھی تک پاکستان ورچوئل لائبریری پر شائع کی جاچکی ہیں.

اُردو ناول "واپسی" تحریر عمیرہ احمد واپسی دراصل عمیرہ احمد کے تین ڈراموں یعنی واپسی ، لباس اور سودہ کے شائع شدہ سکرپٹ کا مجموعہ ہے۔ یہ تین دوستوں ، پائل، ماجو ، اور نوشی کی کہانی ہے جو ایک طوائف، ایک مساج کرنے والے اور ایک خواجہ سرا کی خواہشات ، عزائم ، شکست وریخت اور "واپسی"کو بیان کرتا ہے۔ ان تینوں ڈراموں کا مشترکہ موضوع "واپسی" ہے۔ ان کہانیوں میں سے "واپسی " کی کہانی ایک پاکستانی مصنف یاسر شاہ کے مزار پر مبنی ہے ، جسے عمیرہ احمد نے خصوصی طور سکرین کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھی ہے


Download

Udan, Umera Ahmad, Novel, اڈان, عمیرہ احمد, ناول,

 Udan, Umera Ahmad, Novel, اڈان, عمیرہ احمد, ناول,



اُڑان تین تعلیم یافتہ پاکستانی خواتین ثنا ، سویرا اور عائشہ کی کہانی ہے۔ تینوں ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر اجنبی ہیں، تاہم زندگی کے ایک موڑ پر وہ سب اپنے آپ کو انتہائی حیران کن انداز میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں مربوط پلاٹ کے ساتھ ساتھ انسان کی داخلیت اور نفسیاتی پرتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کبھی نہیں سیکھتے ، اور حقیقی زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔انسانی نفسیات کے حوالے سے دردناک سچ۔

عمیرہ احمد پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ۱۰ دسمبر ۱۹۷۶ کو پیدا ہوئیں۔ آپ نے مرے کالج سے انگریزی زبان میں ایم اے کیا لیکن آپ نے اردو کے بہت مشہور ناول لکھے ہیں۔ آپ کے لکھے گئے کئی ناولوں پر ڈرامے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اپنے ادبی سفر کا آغاز خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں اپنا نام بنانے لگیں۔ آپ کے ناول ہر عمر کے لوگ شوق سے پڑھتے ہیں اور اُن کے ڈرامے بھی لوگوں کے درمیان مقبول ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد کا لکھا گیا ناول ‘‘الف‘‘ آج کل مقبولِ عام ہے۔

Download

Thora Sa Asman, Umera Ahmad, Novel, تھوڑا سا آسماں, عمیرہ احمد, ناول,

 Thora Sa Asman, Umera Ahmad, Novel, تھوڑا سا آسماں, عمیرہ احمد, ناول,



تھوڑا سا آسمان ایسے لوگوں کی کہانی ہے جو آسمان کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے وہ کسی حربے، کسی ہتھکنڈے، مکر و فریب اور برائی کو اختیار کرنے میں نا تو شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی چوکتے ہیں۔ ناول عمیرہ احمد نے اپنے روایتی انداز میں لکھا ہے۔ ناول کا پلاٹ بے حد مضبوط اور مربوط ہے۔ اس ناول کی خاص بات کرداروں کی بہتات ہے، تاہم ہر کردار کہانی کی ضرورت کے مطابق شامل کیا گیا ہے اور انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ ہے۔ تاہم چند ایک کو چھوڑ کے تقریباً تمام ہی کردار منفی نوعیت کے ہیں۔ ناول بہت تفصیلی لکھا گیا ہے۔ شائستہ کمال ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیوی ہے اور اس میں وہ تمام اخلاقی برائیاں موجود ہیں جو انتہائی امیر طبقے کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کے کاروبار کی ترقی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کہانی میں یہ بات بار بار باور کرائی گئی ہے کہ شائستہ کمال کی افادیت کی وجہ سے ہارون کمال کا بزنس بہت ترقی کر رہا تھا اور شائستہ اپنے کانٹیکٹس استعمال کرکے اس کے بزنس کے مسائل فوراً حل کروا دیتی تھی۔ تاہم ناول میں ایک بارے میں ایک بھی واقعے یا مثال سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شائستہ کس طرح ہارون کمال کے بزنس میں مددگار تھی اور اس وجہ سے اس پہ حاوی تھی۔ اتنے ضخیم ناول میں اس پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کہانی میں ایک خلاء سا محسوس ہوتا ہے اور قاری ناول پڑھنے کے دوران اپنی رائے بنانے کی ببجائے مصنفہ کی بتائی ہوئی بات پہ بھروسا کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔ دیگر افراد اور کردار آہستہ آہستہ کہانی، ہارون کمال اور شائستہ کمال کی زندگیوں میں شامل ہوتے ہیں اور کہانی کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔

Download

Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Teri Yaad Khar-e-Gulab Hai, Umera Ahmad, Novel, تیری یاد خار گلاب ہے, عمیرہ احمد, ناول,



تیری یاد خار گلاب ہے عمیرہ احمد کے لکھے گئے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ ایک خوبصورتی سے لکھی ہوئی نثر جو دو لوگوں کے درمیان نرم اور لطیف تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جسے دوسرے تمام لوگ کانٹے سمجھتے ہیں، لیکن انہیں احساس نہیں ہوتا کہ یہ دراصل کھلتا ہوا پھول ہے۔

کہانی کا مرکزی کردار ثانیہ سمجھتی ہے کہ اس نے کومیل حیدر کے بارے میں سب کچھ جان لیا ہے۔ اس کے بارے میں اس کا سخت اور غلط فیصلہ سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے اور دو لوگوں کو محبت میں ایک دوسرے کو کھونے پر مجبور کرتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جب تک آپ کے پاس مکمل حقائق نہ ہو اُس وقت تک کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

کہانی میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی فیصلہ کرنا سنگین نتائج اور ضمیر کی خلش کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی کہانی ہے جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی غلط تشریح بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر سکتی ہے!


اس ناول میں خواتین کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو بہن سمجھ کر ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتا ہے تو پھرلوگوں کی باتوں پر توجہ مت دیں، ورنہ آخر میں آپ کے لیے جو کچھ بچتا ہے وہ صرف پچھتاوا اور آنسو ہے۔

یہ ناول سب سے پہلے شعاع ڈائجسٹ میں 1999 کو شائع ہوا پھر بعد میں عمیرہ احمد کے کہانیوں کے مجموعے ” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے ” میں بھی سے شائع ہوا۔

Download

Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,

 Soda, Umera Ahmad, Novel, سودا, عمیرہ احمد, ناول,


رسی گلے میں باندریا ڈگڈگی کی آواز پر سر پر ہاتھ رکھے ناچ رہی ہے۔ رسی کا سرا ہکو کے ہاتھ میں ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک ڈگڈگی ہے جسے وہ بچا رہا ہے۔ وہ خود پیروں کی بل زمین پر بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک دائرے کی شکل میں چند بچے اور لوگ اس کے اور بندریا کے گرد کھڑے ہیں۔ ہکو کا حلیہ ملگجا ہے اس کی داڑھی اور بال بڑھے اور بکھرے ہوئے ہیں۔ بالوں میں سفیدی نمایاں ہے۔ گریبان کھلا ہوا ہے۔ دانت پیلے ہیں ۔ اس کے گلے میں تعویذ ہیں اور ہاتھ میں ایک کڑا ہے۔ اس کی انگلیوں میں چند انگوٹھیاں نظر آرہی ہیں بڑے بڑے نگینوں والی انگوٹھیاں۔ اس کے ایک کان میں روئی کا ایک پھاہا رکھا ہوا ہے جسے وہ ہمیشہ اپنے کان میں ہی رکھتا ہے۔ 


Download

Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول,

 Shehar-e-Zat, Umera Ahmad, Novel, شہر ذات, عمیرہ احمد, ناول, 



شہر ذات روح کی تلاش کی کہانی ہے۔ یہ اس روحانی سفر کی کہانی ہے جسے انسان اس وقت طے کرتا ہے جب اُسے دنیا کی حقیقتیں سمجھ میں آنا بند ہو جاتی ہے۔ شہرِ ذات خوبصورت خواب دیکھنے والی ایک معصوم لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ فلک شیرافگن ایک کاروباری ٹائکون کی انتہائی خوبصورت اورا کلوتی بیٹی ہے۔ فلک فنون لطیفہ کی طالبہ ہے جو اپنے خوابوں کے شہزادے کا مجسمہ بناتی ہے اور جب وہ سلمان میں اس کا سانس لیتے مظہر کو پاتی ہے تو وہ محبت میں سر کے بل گر جاتی ہے۔ لیکن فلک ، سلمان کو جتنا جاننے کی کوشش کرتی ہے ، اتنا ہی وہ اس سے دور بھاگتا ہے ۔

کہانی کا پلاٹ روحانی بیداری کے بارے میں ہے۔ اس میں عشق حقیقی (خدا کے لیے انسان کی محبت) کے صوفیانہ تصورات ، اور عشق مجازی ، (ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے محبت) کے درمیان ایک واضح تضاد کھینچا گیا ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جو آپ کو جذبات کی زیادتی کی وجہ سے رونے پر مجبور کرتا ہے، جسے آپ تب محسوس کریں گے جب آپ اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے معنی کو سمجھیں گے۔ یہ ایک طاقتور ، گہرا دکھ دینے والا اور دل دہلا دینے والا ناول ہے۔ عمیرہ نے زندگی کی مذہبی اور روحانی اقدار کا احساس دلانے کے لیے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ عشق حقیقی سے زیادہ کوئی شے قابل تسکین نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطمینان بخش نہیں کہ اللہ رب العزت سے محبت کی جائے۔ اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہے۔ اللہ رب العزت کی محبت کے علاوہ دنیا کی کوئی محبت سچی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر رشتے، ہر محبت کی اصلیت دکھا دیتا ہے۔ پھر وہ سب کچھ دکھا کر آدمی سے کہتا ہے اب بتا تیرا میرے سوا اور ہے ہی کون؟

شہر زات پہلی بار خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوئی۔ یہ ، پانچ دیگر غیر متعلقہ کہانیوں کے ساتھ پھر مرتب کی گئی اور کتاب کی شکل میں ایک مجموعہ کے طور پر” میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے” کے عنوان سے شائع کی گئی۔ یہ میری ذات ذرا بے نشاں کے ابتدائی ایڈیشن میں بھی شائع ہوا تھا۔ عمیرہ احمد کے تحریر کردہ اس ناول کی کہانی پر ایک ٹی وی ڈرامہ بھی بنایا گیا ہے جو 2012ء میں ہم ٹی وی پر نشر ہوا.

Download

Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,

 Sehar Aik Istara Hai, Umera Ahmad, Novel, سحر ایک استعارہ ہے, عمیرہ احمد, ناول,



سحر ایک استعارہ ہے” عمیرہ احمد کے پانچ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔، جس میں سحر ایک استعارہ ہے ، مات ہونے تک ، کس جہاں کا زر لیا ، بات عمر بھر کی ہے ، اور دوسرا دوزخ شامل ہیں۔ سحر ایک استعارہ ہے دو بہنوں “ایمن اور مریم” کے کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک بہن ملنسار فطرت کی جبکہ دوسری ایماندار اور پاکیزہ طبیعت کی مالک ہے۔ یہ سب سے پہلے کرن ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔

اس مجموعے میں عمیرہ احمد نے ہمارے معاشرے کی خامیوں اور تلخ حقیقتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہر کہانی ہماری روز مرہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کتاب میں تحریر شدہ کہانیوں کی جھلک آپکو اپنے اردگرد، کہیں ماضی میں یا حال میں، یہیں کہیں، اپنے آس پاس، نظر آتی رہتی ہے۔ ہر کہانی میں کسی نہ کسی کردار میں بےوقوفی کی حد تک اچھائی موجود ہے اور میرے ذاتی خیال میں ایک انسان کے لئے اس قدر بےلوث اور بےغرض ہونا ممکن نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان نہ اتنا برا ہو سکتا ہے اور نا ہی کوئی اتنا اچھا ہو سکتا ہے جتنا ان کہانیوں میں دکھایا گیا ہے۔

عمیرہ احمد کہانی بُننے کا ہنر جانتی ہیں۔ انکے قلم میں روانی پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا پہلا افسانہ “مات ہونے تک” مجھے باقی افسانوں کی نسبت ذیادہ پسند آیا کیونکہ وہ ذرا مختلف تھا۔ ایک خوبی اس کتاب میں یہ ہے کہ یہ آپکو بور نہیں ہونے دیتی اور آپ پوری کتاب ایک دفع میں ہی پڑھ سکتے ہیں۔

Download

Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,

 Qaid-e-Tanhai, Umera Ahmad, Novel, قید تنہائی, عمیرہ احمد, ناول,



 ہمارے لیے چوبیس گھنٹوں میں پانچ بار الله کو یاد کرنا بہت مشکل ہے، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ الله چوبیس گھنٹوں میں ہر پل ہمارا خیال رکھے۔ ہمیں ہر نقصان سے بچائے، ہمیں ہر اس چیز سے نوازے جس کی ہمیں خواہش ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ ہو تو ہم الله سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔
اسے بتاتے ہیں کہ اس نے ہمیں کتنا بدقسمت بنایا ہے۔ اپنی محرومیوں کا ماتم کرتے ہیں۔ یہاں اسی زمین پر ایسے لوگ ہیں جو اس طرح معذور ہیں کہ ذہن کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حصّہ کام نہیں کرتا اور وہ پھر بھی الله کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہاں کتنے ہیں جن کے پورے کے پورے خاندان کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر بھی صبر کرتے ہیں،
الله سے سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ اس کو کوئی دلچسپی نہیں کہ تم مسلمان رہتے ہو یا نہیں۔ تمھارے مذہب بدل لینے سے دنیا میں مسلمان ختم تو نہیں ہو جائیں گے۔ محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والوں میں تو کمی نہیں آئے گی، فرق اگر کسی کو پڑے گا تو تم کو پڑے گا۔ نقصان اگر کوئی اٹھائے گا تو تم اٹھاؤ گے۔‘‘
اپنے منفرد موضوع اور بہترین کہانی کی وجہ سے یہ کتاب ہر شخص کو ضرور پڑھنی چاہئے



Download

Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,

 Pagal Ankhon Wali, Umera Ahmad, Novel, پاگل آنکھوں والی, عمیرہ احمد, ناول,



عمیرہ احمد کی اب تک کی لکھی جانے والی تمام تحاریر میں یہ واحد کہانی ہے جو مزاح پہ مبنی ہے اور ان کی انتہائی ابتدائی تحاریر میں سے ایک بھی ہے۔۔۔۔

 اردو ادب کی نامور مصنفہ عمیرہ احمد کی پہلی مختصر تحریر "بند کواڑوں کے پیچھے" اپریل 1998 میں شائع ہوئی تھی اور انکا پہلا مکمل ناول "زندگی گلزار ہے" کے نام سے سبتمر 1998 کو خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا۔۔۔

 یہ ناول "پاگل آنکھوں والی" ایک بیحد پرمزاح اور ہلکی پھلکی سی کہانی ہے۔ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی پڑھا جائے کہ یہ ایک مکمل افسانوی تحریر ہے، جس میں مزاح کے عنصر کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آخر تک نبھایا گیا ہے۔۔۔۔

 کہانی ہے بی اے کی طلبہ "ثنا" کی، وہ دو چھوٹے بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور اپنے والدین کی انتہائی پھوہڑ بیٹی ہے، جیسے گھر کے کام کاج سے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ نت نئے شوق پالنا اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے مگر اب اسے "لومیرج" کرنے کا شوق چڑھ آیا ہے، جو عجیب کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک بھی ہے۔۔۔۔۔

 کالج میں لان کے درخت تلے، اپنی چار دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر وہ نیۓ آئیڈیاز کو سوچنے اور ان پہ عملدرآمد کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ہر بار خوش فہمی کا محل اپنی پوری تاب سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔۔۔ 

چہروں پہ بے ساختہ ہنسی بکھیر دینے والا ایسا ناول، جس میں آپکو عمیرہ احمد کا مزاح لکھنے کا ایک بالکل منفرد انداز پڑھنے کو ملے گا۔۔۔ 

خوشگوار اختتام کے ساتھ ایک اچھوتی اور پرمزاح کہانی ہے۔۔

 ضرور پڑھیں۔۔ 

Downoad

Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,

 Muthi Bhar Mitti, Umera Ahmad, Novel, مٹھی بھر مٹی, عمیرہ احمد, ناول,



مٹھی بھر مٹی ناول پاکستان کی مشہور لکھاری عمیرہ احمد نے لکھا. جو کہ ایک ایسے بزرگ کی آپ بیتی جو اپنے خاندان  کو موت کے گھاٹ اتار کر  1947 میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور اپنے باپ کے ساتھ تنہا پاکستان پہنچا.

"پاکستان کو تمہاری قبروں اور تابوتوں کی ضرورت نہیں ہے. پاکستان کو تمہاری جوانی اور وہ گرم خون چاہئے جو تمہاری رگوں میں خواب اور آئیڈلزم بن کر دوڑتا ہے۔ اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو۔۔۔ جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مرنا کیوں چاہتے ہو۔۔۔ باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہو گی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہئے؟

ہر شخص کے مقدر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا۔ بعض کے مقدر میں جلاوطنی ہوتی ہے، اپنی خوشی سے اختیار کرنے والی جلاوطنی۔"


یہ بہت قیمتی سرزمین ہے۔۔۔ قربانیوں کے لہو سے سینچی ہوئی۔۔


In Muthi Bhar Mitti (English: Fistful of Dirt), the main character, Jamaal, recounts to himself the events that led to him leaving India and migrating to Pakistan after The Great Indian Partition.

It is available in Main Ne Khuwabon Ka Shajar Dekha Hai as part of a collection of stories. It was first published in Shuaa digest under the title 15 August 2001.

Download

Meray 50 Pasandeda Scene, Umera Ahmad, Novel, میرے پچاس پسندیدہ سین, عمیرہ احمد, ناول,

 Meray 50 Pasandeda Scene, Umera Ahmad, Novel, میرے پچاس پسندیدہ سین, عمیرہ احمد, ناول,


اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی- کیا کر لیں گے آپ اگر چاروں فیکٹریز میں ایک ہی وقت آگ لگ جائے- عمارتیں گر جائیں یا کچھ اور ہو جائے- ہم کتنے ہی بند کیوں نہ باندھ لیں، اگر سیلاب کے پانی کو ہم تک آنا ہے تو وہ سارے بند توڑ کر آ جائے گا- اگر ہماری قسمت میں پانی ایک قطرہ لکھا ہے ایک گھونٹ نہیں تو ہم دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی ایک قطرہ ہی پی سکیں گے، ایک گھونٹ نہیں-

تم نے زندگی میں کسی سے محبت نہیں کی۔ تمہیں کھونے کی اذیت اٹھانا نہیں پڑی۔ اس نے محبت بھی کی تھی اور اسے کھویا بھی۔ کیا اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی ہو سکتی ہے کہ جس سے محبت کی جائے۔ اسے اپنے ہاتھوں سے کھو دیا جائے لیکن اس شخص نے ایسا کیا۔

جسے اللہ تعالی اپنی محبت دیتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی۔۔
اور جسے وہ دنیا دیتا ہے، اس کی خواہش بھوک بن جاتی ہے۔۔۔کبھی ختم نہیں ہوتی۔


میرا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ جب انسان بڑا ہوجاتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں اور محرمیوں کا خود سدباب کرنا چاہئے۔ ساری زندگی آپ اپنے ماضی کی محرومیوں کے بارے میں رونے رو رو کر تو لوگوں سے مراعات نہیں لے سکتے اور پھر ایسا کون ہے اس دنیا میں جو محروم نہ ہو کوئی نہ کوئی کمی یا خامی تو ہر شخص کے ساتھ لگی رہتی ہے.

جب کوئی شخص الجھی ہوئی ڈور کے ڈھیر میں سے اس کا سرا تلاش کر لیتا ہے تو پھر ہر آدمی اسے الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے میں مدد دینے لگتا ہے ........ حالانکہ اس وقت مدد کی ضرورت باقی نہیں ہوتی- ڈور سلجھنے کے بعد ہر شخص اس کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کرتا ہے-




Download

Meri Zat Zara e Be Nishan, Umera Ahmad, Novel, میری ذات ذرہ بے نشاں, عمیرہ احمد, ناول,

 Meri Zat Zara e Be Nishan, Umera Ahmad, Novel, میری ذات ذرہ بے نشاں, عمیرہ احمد, ناول,



عمیرہ احمد کا نام آج کے نوجوان ناول نگاروں میں سب سے اوپر لیا جاتا ہے۔ عمیرہ احمد نا صرف ناولسٹ بلکہ بہت ہی کامیاب ڈرامہ نگار بھی ہیں اور بہت سے ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔

عمیرہ احمد 10 دسمبر 1976 کو پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہویئں. عمیرہ احمد نے مری کالج، سیالکوٹ سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔


عمیرہ احمد نے اپنی اوائل عمر میں ہی لکھنا شروع کردیاتھااوراس کے بعد ایک کے بعد ایک ناول آتے گئے اور قارئین کی بے انتہا پزیرائی حاصل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کے ناولز پر ڈرامہ نگاری شروع ہوئی اور اس میں بھی عمیرہ احمد کو سرخروئی حاصل ہوئی۔

 میری ذات زرہِ بے نشاں عمیرہ احمد کا ایک انتہائی مقبول ناول ہے جس پر بعد ازاں ڈرامہ سیریل بھی بنایا گیا اور اس ڈرامہ کو بھی عوام کی بے انتہا پزیرائی ملی اور اسی ناول کے توسط سے عمیرہ احمد کو Lux Awards میں بہترین رائیٹر کا ایوارڈ ملا۔

 میری ذات زرہِ بے نشاں ایک ایسی مظلوم عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی ساری زندگی اپنے اوپر لگنے والی تہمت کی نظر کردی اور اللہ کے نام پر صبر کرتی رہی۔ اپنے ہی گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا اور ایک گرے ہوئے انسان سے اس کی شادی کردی اور پھر اس پر مصائب کی بارش شروع ہوگئی لیکن اس عورت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔


 میری ذات زرہِ بے نشاں ہمارے معاشرے کی ایسی تحریر ہے جو ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں لیکن آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اس ناول کو اتنی بہتر انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والا اس ناول کے سحر میں کھو جاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے سیل رواں ہوجاتے ہیں۔

Download