Posts

Showing posts with the label Novel

Khanabadosh Amriki Haseena, A. Hameed, Novel, خانہ بدوش امریکی حسینہ, اے حمید, ناول,

Image
 Khanabadosh Amriki Haseena, A. Hameed, Novel, خانہ بدوش امریکی حسینہ, اے حمید, ناول, گارشیا نے کہا تھا میں تمہیں ملنے پاکستان ضرور آؤنگی۔ امریکہ سے واپس آنے کے بعد وہ مجھے پاکستان میں پہلی بار لاہور کے ایک ریلوے پل کےپاس نظر آئی۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے وہی اٹھارھویں صدی والا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سرخ رومال تھا۔ اس نے رومال ہلایا۔ وہ مجھ سے کافی فاصلے پر تھی۔ میرے کان میں اس کے ہیلو کی آواز آئی اور پھر وہ غائب ہو گئی۔ غائب اس لئے ہو گئی کہ گارشیا اٹھارویں صدی کی ایک پر اسرار روح تھی اور مجھے واشنگٹن اور نیویارک کے درمیان بالٹیمور کے ایک پرانے فرسودہ غیر آباد مکان میں پہلی بار مجسم صورت میں نظر آئی تھی۔    اس بات کو چار سال گزر گئے۔ گارشیا کو اس کے بعد میں نے لاہور میں کہیں نہیں دیکھا۔ کراچی اسلام آباد بھی میرا جانا ہوا مگر گارشیا مجھے کہیں نہیں دکھائی دی۔ اسی دوران نیو یارک سے میرے دوست محمد خلیل نے خط لکھا کہ خواجہ صاحب ٹکٹ بھیج رہا ہوں۔ نیو یارک کا ایک چکر لگا جائیں۔ آپ سے ملے مدت گزر گئی ہے۔ خلیل کا تعلق سیالکوٹ کے ایک معزز گھرانے سے ہے۔ Read Novel

Jahannum Ke Pujari, A. Hameed, Novel, جہنم کے پجاری, اے حمید, ناول,

Image
 Jahannum Ke Pujari, A. Hameed, Novel, جہنم کے پجاری, اے حمید, ناول, قبرستان کی سنسان اندھیری رات! یہ مسلمانوں کا قبرستان معلون نہیں ہوتا۔ قبروں پر جو کتبے لگے ہیں وہ تکونے اور چوکور ہیں۔ محراب نما نہیں۔ کسی کتبے پر اللہ رسول اللہ ﷺ پاک کا مبارک نام نہیں لکھا ہوا، بلکہ ہر کتبہ پر انسانی کھوپڑی کا نشان بنا ہوا ہے۔ اس نشان کے نیچے مرنے والے کا نام اور تاریخ وفات لکھی ہوئی ہے۔ یہ کسی اور ہی قوم، کسی اور ہی فرقے کے لوگوں کا قبرستان لگتا ہے۔ یہ بڑا پرانا قبرستان ہے، قبروں کی حالت بے حد شکستہ ہو رہی ہے۔ کئی قبروں کے کتبے گرے ہوئے ہین جو گرنے سے بچ گئے ہیں وہ ٹیڑھے ہو کر ایک طرف کو جھک گئے ہیں۔ قبرستان ایک چار دیواری میں گھرا ہوا ہے۔ یہ چار دیواری خستگی کا شکار ہے اور جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔ قبروں کو جانے والا راستہ ایک ڈیوڑھی میں سے ہو کر گزرتا ہے جس میں دن کے وقت بھی اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ ڈیوڑھی کی پیشانی پر بھی کھوپڑی کا نشان بنا ہوا ہے۔ ایک جنگلی بیل نے ڈیوڑھی کی آدھی دیوار کو ڈھانپ رکھا ہے۔ قبروں کے اوپر عجیب شکل والے ڈراونے درختوں کے بے برگ و بار سوکھی ٹہنیاں اپنے پنچے پھیلائے جھکی

Peela Udas Chand, A. Hameed, Novel, پیلا اداس چاند, اے حمید, ناول,

Image
 Peela Udas Chand, A. Hameed, Novel, پیلا اداس چاند, اے حمید, ناول, دسمبر کی ایک انتہائی سرد اور کہر میں ڈوبی ہوئی رات تھی۔ میکلوڈ روڈ کے ہوٹلون کے دروازے بند تھے۔ اور اندر بیٹھے اکا دکا لوگ گرم گرم چائے پی رہے تھے۔ سڑک پر دور تک دھند پھیلی ہوئی تھی۔ دو روز پہلے کی بارش نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا تھا۔ لکشمی چوک میں کہیں کہیں کسی پنواڑی کی دکان کھلی تھی۔ کبیر کوئینز روڈ کی جانب سے رائل پارک کے محلے میں داخل ہوا۔ اس کا قدر درمیانہ، جسم دبلا پتلا اور سر کے بال سیدھے تھے جن میں کہیں کہیں سفیدی جھلک رہی تھی۔ کوئی پینتیس برس کی عمر ہو گی۔ آنکھیں سیاہ تھیں اور گہرے فکر کے انداز میں سمٹی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پر سے ایک قسم کی خوش فکری اور بے نیازی ہویدا تھی۔ ماتھا چوڑا تھا رنگ گندمی اور ناک کے نتھنے فراخ تھے۔ جو اس کی کشادہ دلی اور جذباتی طبیعت کی علامت تھے۔    اس نے مٹیالے سے رنگ کا ایک لمبا اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ کو ٹ کے کالر اٹھے ہوئے تھے۔ کندھے پر ایک جگہ سے بخیہ ادھڑگیا تھا۔ پاؤں میں جوتے تھے جن پر گرد پڑا تھا۔ گرم پتلوں کے پائنچے پر پان کی پیک کا داغ پڑا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ جی

Narial Ka Phool, A. Hameed, Novel, ناریل کا پھول, اے حمید, ناول,

Image
 Narial Ka Phool, A. Hameed, Novel, ناریل کا پھول, اے حمید, ناول,  جب گلاب کی پنکھڑیوں میں چھپے ہوئے میٹھے شہد کی خوشبو جنگل میں اڑتی ہے اور آم کے درختوں پر آیا ہوا بور اپنا شیریں رس زمین پر ٹپکانے لگتا ہے تو بھنوروں کی ٹولیاں بے قرار ہو کر ان کی تلاش میں چل نکلتیں ہیں۔ اسی طرح ایک رات جنوبی سمندروں کی مرطوب ہوا ہمارے شہر میں سے گزری تو میں چھت پر لیٹے لیٹے بے تاب ہو کر اٹھ بیٹھا۔ اس ہوا میں سمندر کے کنارے اگے ہوئے ناریل کے درختوں کی خوشبو تھی۔ یہ ہوا مدراس کی طرف سے آرہی تھی۔ ساحل کا رومنڈل سے بھی دور کولمبو سے آرہی تھی۔ جزیرہ لنکا کے گھنے جنگلوں کی طرف سے آرہی تھی۔ میں نے سرہانے کے نیچے سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور اپنی چارپائی پر آلتی پالتی مار کو گوتم بدھ کی طرھ بیٹھ گیا۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور چپکے چپکے سگریٹ پیتا رہا۔ کوئی پانچ منٹ بعد مجھے گیان مل گیا۔ میں نے سگریٹ دوسرے مکان کی چھت پر پھینک دیا اور اندھیری رات کے آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں کو دیکھ کر کہا۔ "کولمبو چلو" جن دنوں میں پانچویں چھٹی جماعت میں پڑھا کرتا تھا میں نے اردو کی کتاب میں لنکا کی ایک تصویر دی

Khazan ka Geet, A. Hameed, Novel, خزاں کا گیت, اے حمید, ناول,

Image
 Khazan ka Geet, A. Hameed, Novel, خزاں کا گیت, اے حمید, ناول, بھاٹی دوازے کے باہر میں شاہدرہ جانے والی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ رسالہ "آثار قدیمہ" کے ایڈیٹر کا خرید کر دیا ہوا بلیک اینڈ وائٹ سگریٹوں کا ڈبہ میرے لمبے کوٹ کی جیب میں تھا اور ایک سگریٹ میرے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں سلگ رہا تھا۔ میں شاہدرے مجھلیاں پکڑنے یا مقبرے کی دیواروں پر اپنا نام لکھنے نہیں بلکہ نورجہاں پر ایک افسانہ لکھنے جا رہا تھا جسے آثار قدیمہ کے پہلے شمارے میں چھپنا تھا۔ ایڈیٹر نے سگرٹوں کا ڈبہ تھماتے ہوئے تاکید کی تھی کہ افسانہ کافی سنسنی خیز ہونا چاہیئے اور میرے اندر سنسنی دوڑ گئی تھی۔ بس کا دور دور تک نشان نہ تھا اور قریب قریب سبھی لوگ انتظار سے تند آچکے تھے۔ چند ایک دیہاتی عورتیں زمین پر بیٹھ گئی تھیں اور پوٹلی میں سے گڑ اور روٹی نکال کر وہیں کھانے لگی تھیں۔ بھرپور جاڑے کا یہ بڑا ہی چمکیلا دن تھا۔ دھوپ ڈھل رہی تھی اور اس کی نارنجی چمک میں بازار کی ہر شے نکھر رہی تھی۔   چوک میں لوگوں کا ہجوم تھا اور ان کے چہرے دھوپ میں روغنی معلوم ہو رہے تھے۔ عجیب عجیب چہرے، میلے میلے اور صاف صاف کپڑوں والے لوگ

Baarish Main Judai, A. Hameed, Novel, بارش میں جدائی, اے حمید, ناول,

Image
 Baarish Main Judai, A. Hameed, Novel, بارش میں جدائی, اے حمید, ناول, چونکہ ہماری اس کہانی کا تعلق لاہور شہر کی ایک خاص آبادی اور ایک مخصوص طبقے سے ہے لہذا ہم ضروری سمجھتے ہین کہ پہلے آپ کا تعارف اس شہر کی دوسری آبادیوں اور وہاں کے رہنے والوں سے کروادیا جائے۔ اس طرح سے آپ کی جان پہچان ہی کا حلقہ وسیع نہیں ہوگا بلکہ ہماری کہانی والی آبادی کی شخصیت کے نشیب و فراز کو سمجھنے میں مدد بھی ملے گی۔ ہم رسمی تعارف سے گریز کرتے ہوئے اس شہر کا تذکرہ اخبار والون کے ساتھ روائتی انداز میں نہیں کریں گے۔ جو کہ عام طور پر ساتھ ہی بدن گلی محلوں سڑکوں اور تفریح گاہوں کی تصویریں بھی چھاپ دیا کرتے ہیں۔ بلکہ ہم تو ایک تجزیہ کار عجائب گھر کے گائیڈ کی طرح آپ کو بہت کچھ دکھاتے ہوئے آپ سے بہت کچھ چھپا بھی جائیں گے۔ کیونکہ ہمارا کام تو بس اتنا ہے کہ ایک شئے کی ہلکی سی جھلک دکھا کر آپ کو تجسس اور جستجو کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ جیسے کوئی ریلوے گارڈ سیٹی اور ہری جھنڈی دینے کی بجائے کہیں چھپ جائے اور انجن ڈرائیور اسے پلیٹ فارم پر ڈھونڈتا پھرے۔    ویسے تو یہ شہر اتنا پرانا ہے کہ ابھی تک اس کی کھدائی ہو رہی ہے لی

Aur Chinar Jaltey Rahay, Novel, A. Hameed, اور چنار جلتے رہے, اے حمید, ناول,

Image
 Aur Chinar Jaltey Rahay, Novel, A. Hameed, اور چنار جلتے رہے, اے حمید, ناول, بادل گہرے سرمئی بادل! پہاڑی ڈھلانوں پر پھیلے چیڑھ کے درختوں کو اپنی دھند میں لپیٹتے ہوئے ٹھنڈے بادل۔ میری بس کوہ مری کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں کوہ مری سے دن ہوتے چلا تھا۔ راستے میں ایک جگہ بس خراب ہوگئی۔ کافی دیر وہاں اتنظار کرنا پڑا۔ میری منزل کوہالہ تھی۔ کوہالہ پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی۔ دریائے جہلم  پہاڑوں کی آغوش میں بڑی تیز رفتاری سے  بہہ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے آسمان ابر آلود ہو گیا۔ اکتوبر کی یہ پہاڑی شام بڑی سرد تھی۔ بس نے ایک پہاڑی کا موڑ کاٹا تو کچھ فاصلے پر مجھے کوہالہ کی تاریخی پل نظر پڑا۔ میں اسی پل کو دیکھنے کوہالہ جارہا تھا۔ یہ وہ پل تھا جس پر ستمبر 65 کی جنگ میں دشمن کے بمبار جہازوں نے اندھا دھند بم برسائے مگر ایک بھی بم پل پر نہ گر سکا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے آسمانوں سے فرشتوں کو اترتے دیکھا تھا۔   یہ سبز پوش کوہالہ پل پر گرائے جانے والے بموں کو اپنے ہاتھوں میں دبوچ کر دور دریا میں پھینک دیتے تھے۔ آج کی خلائی سائنس کے دور میں اس قسم کی افسانوی باتوں پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ مگر بعض لوگ

Alchemist, Kimyagari, Umar Ghazali, Paulo Capalbo, کیمیا گری, اردو ترجمہ الکیمسٹ, عمر الغزالی, Novel, ناول,

Image
 Alchemist, Kimyagari, Umar Ghazali, Paulo Capalbo, کیمیا گری, اردو ترجمہ الکیمسٹ, عمر الغزالی,  Read Book

Nashaib, Abdullah Hussain, Novel, نشیب, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Nashaib, Abdullah Hussain , Novel, نشیب, عبد اللہ حسین , ناول, ان دنوں میں ہم اپنا اپنا کھان ساتھ لے کر جاتے تھے اور دوپہر کے وقفے میں سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے۔ دفتر میں مجھ سمیت کل سات آدمی تھے۔ تین کلرک، ایک ڈسپیچر، ایک ٹائپسٹ، ایک چپڑاسی اور سب کے اوپر ایک ہیڈ کلرک۔ چنانچہ جب بارہ کا گھنٹہ بجتا تو ہم کام چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو تے اور دو میزوں کو جوڑ کر اپنے اپنے کھانے کے ڈبے ان پر لا رکھتے۔ پھر ہم پانچوں اپنی اپنی کرسیاں اٹھا کر ان کے گرد لے آتے اور بیٹھ کر کھانا شروع کر دیتے۔ جتنی دیر تک ہم کھاتے رہتے چپراسی پاس کھڑا مستعدی سے ہر ایک کو پانی پہنچاتا رہتا۔ وہ چپراسی مجھے اب تک یاد ہے۔ کلرک کے عہدے سے ترقی کرتے کرتے میں ڈپٹی سیکریٹری بن گیاہوں اور اس دوران میں کوئی دو درجن چپراسیوں سے میرا واسطہ پڑ چکا ہے۔ مگرواقعہ یہ ہے کہ ایسا ذھین چپراسی میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کو ہمارے بارے میں قطعی طور پر علم تھا کہ کون کون کھانے کے دوران میں کس کس وقت پر پانی پینے کا عادی تھا۔ مثلا یہ کہ ٹائپسٹ اوسطا ہر پانچ لقموں کے بعد آدھا گلاس پانی پیتا تھا اور یہ ک ڈسپیچر ایک گلا

Wapsi ka Safar, Abdullah Hussain, Novel, واپسی کا سفر, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Wapsi ka Safar, Abdullah Hussain , Novel, واپسی کا سفر, عبد اللہ حسین , ناول,  اس مکان میں ہم اٹھارہ مرد رہتے تھے۔ یہ مکان مدت سے مسماری کے پروگرام میں آچکا تھا، مگر ابھی تک کھڑا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں پہلے پہل اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں آیا تھا۔ شہر لندن میں میں ایک ہفتے تک ٹھہرا رہا، مگر وہاں میرا کام نہیں بنا۔ جو آدمی ہمیں ادھر لے کر آیا تھا وہ جاتے جاتے ایک دو پتے دے گیا تھا، تاکہ سر چھپانے کی جگہ مل جائے۔ ایک پتے کو پوچھتا ہوا میں برمنگھم آ نکلا۔ یہاں پہنچ کر قسمت نے مدد کی، دو چار دن کے اندر ہی مجھے کام مل گیا اور میں یہیں پر رک گیا۔ اس طرح اگلے دو سال کے لئے برمنگھم میرا شہر، اور وہ مکان میرا گھر بن گیا۔ پھر اس گھر میں ایک ایسا واقع پیش آیا جس نے بم کے دھماکے کی طرح اچھال کر ہمیں ادھر ادھر بکھیر دیا۔ ہم سب غیر قانونی طور پر اس ملک میں داخل ہوئے تھے اور کام کاج کر رہے تھے۔ جس روز وہ واقعہ پیش آیاہم سب اٹھ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو چار پانچ آدمی اس وقت گھر میں موجود تھے ان کو سامان باندھنے کا موقع مل گیا۔ باقی کے بار ہی بار سے غائب ہو گئے۔ جس طرف کسی کا منہ اٹھا اسی طر

Baagh, Abdullah Hussain, Novel, باگھ, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Baagh, Abdullah Hussain , Novel, باگھ, عبد اللہ حسین , ناول, ایک کھلا سا کچن صھن کے گردا گرد کمر کمر تک پتھروں سے بنی ہوئی چار دیواری تھی، دراصل اس مکان کا ہی حصہ تھا۔ گو مکان سے ملحق نہ تھا۔ یہاں سے مکان کو جاتے ہوۓ ایک مختصر سفیدہ زمین پڑتی تھی۔ اس صحن میں چار درخت تھے۔ تین چنار، جن کی شاخیں آپس میں ملحق تھیں اور ایک لمبا نوجوان سفیدے کا درخت جس کے پتے ہلکے سبز رنگ کے تھے اس سفیدے کے تنے سے ٹیک لگا کربیٹھے ہوئےاسد کو یاسمین کا چہرے دمکتا ہوا نظر آیا۔ اور وہ رات کے انتظار میں یکلخت بیتاب ہو گیا۔ وسط مارچ کے اس چمکتے ہوئے دن کو اس بیتابی کے عالم میں اسے بہت سی باتیں یکے بعد دیگرے یاد آنے لگیں۔ وہ پنجاب کے میدانوں کا باسی اپنی سانس کے ہاتھوں مجبور ہو کر پردیس میں آبیٹھتا تھا۔ اس کا حمام دستہ اس کی ٹانگوں کے بیچ پڑا تھا۔ اور بیچ بیچ میں وہ ہاتھ روکر دوپہر کی دھوپ میں دور نیچے تک وادی میں دیکھ لیتا جہاں کچھ دنوں سے ایک شیر نے تباہی مچا رکھی تھی۔ اس کی سانس مشکل، اس کی روزمرہ کی مشقت، یاسمین کامتبسم چہرہ۔۔۔ ان سب چیزوں کے عقب میں دور دور تک ایک شیر کا علاقہ تھا، اور عرصہ دراز سے رہا تھا۔

Udas Naslain, Abdullah Hussain, Novel, اداس نسلیں, عبداللہ حسین, ناول,

Image
 Udas Naslain, Abdullah Hussain , Novel, اداس نسلیں, عبداللہ حسین , ناول, آج سے نصف صدی قبل ایک ایسا ناول لکھا گیا جس نے نہ صرف اردو ادب میں تہلکہ مچا دیا بلکہ وہ ایک نئے وجود میں آنے والے ملک کی کہانی بن گیا۔ غلامی سے آزادی کے سفر کی کہانی، مرد عورت کی محبت کی کہانی، مٹی سے عشق کی کہانی۔ یہ ایک تاریخی ناول تھا جو آج بھی زندہ ہے اور کتنی ہی نسلیں اس کو پڑھ چکی ہیں۔ بقول عبداللہ حسین کے کہ جب سے ’اداس نسلیں‘ لکھی گئی اس وقت سے اس کتاب کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب یہ ناول لکھا گیا تو اس کے مصنف ادبی حلقوں سے دور داؤد خیل کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں میں بطور کیمسٹ کام کرتے تھے۔ نام ابھی عبداللہ حسین نہیں ہوا تھا بلکہ محمد خان تھا۔ آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اور آٹھ گھنٹے سوتے تھے، باقی کے آٹھ گھنٹوں میں وہاں کچھ کرنے کو نہیں تھا تو سوچا کہ محبت کی ایک کہانی لکھتے ہیں۔ عبداللہ حسین اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک دن تنگ آ کر میں نے قلم اٹھایا اور ایک لو سٹوری لکھنا شروع کر دی۔ اس کے بعد آگے چل چل کے اس کی شکل ہی بدل گئی۔ پھر میں نے یہ سوچا

Qaid, Abdullah Hussain, Novel, قید, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Qaid, Abdullah Hussain , Novel, قید, عبد اللہ حسین ,  ناول, گرمیوں کی ایک رات کا جادو:-   پہلی بار جب بچے نے اپنے باپ کے حجرے میں جھانک کر دیکھا تو اس وقت وہ نو برس کی عمر کا تھا۔ اس رات کا منتظر سالہا سال تک اس کے ذہن پر نقش رہا۔ رات آدھی گذرچکی تھی مگر لو رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ لگتا تھا جیسے دنیا کی دوسری جانب کسی ریگستان پہ سورج چمک رہا ہے اور تپتی ہوئی ہوا وہاں سے سیدھی اس گاؤں کا رخ کر رہی ہے۔ گھر کے وسیع صحن میں دو مچھر دانیاں لگی تھیں۔ یہ موٹے موٹے روغنی پایوں والے تواڑی پلنگ تھے جن پہ بچہ اور اس کی ماں سفید جالی کے پردوں میں محفوظ سوئے پڑے تھے۔ ان سے ذرا ہٹکر مزید تین چارپائیاں بچھی تھیں۔ یہ موٹے بان کی ننگی چارپائیاں تھیں جن پہ گھر کا کام کاج کرنے والی لڑکیاں گرمی اور محنت سے بے دم ہو کر بے ہوشی کی نیند سو رہی تھیں۔ لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں، بازو اور ٹانگیں، گردنیں اور ۔۔۔۔۔ Download #Abdullah_Hussain #Abdullah_Hussain_Novel #Urdu_Novel #Free_Books_PDF #Urdu_Books_PDF

Raat, Abdullah Hussain, Novel, The Night, رات, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Raat, Abdullah Hussain , Novel, The Night, رات, عبد اللہ حسین , ناول,  "شوکی' کہاں چلے جارہے ہو؟" لڑکی نے پوچھا۔     "کہیں بھی نہیں" وہ خوشدلی سے بولا۔  "بھئی آہستہ چلو" وہ بولی:  "میں تھک گئی ہوں۔"،  "بہت اچھا"  دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔  "شوکت" وہ پھر بولی: "خدا کے لئے۔۔۔۔۔۔" "ہنہہ" "کہاں جا رہے ہو؟"   "چلے پون کی جاآآآل۔ " وہ گا کر بولا۔  "شوکی چپ رہو" وہ سختی سے بولی: "لوگ سن رہے ہیں"  "جگ میں چلے پون کی چاآل ل۔ " وہ گاتا رہا۔ رفتہ رفتہ وہ بہت پیچھے رہ گئی۔  پھر ایک جگہ پر اچانک رک کر وہ ادھر ادھر دیکھنےلگا۔ پاؤں میں الجھتی ہوئی ساری کو دو انگلیوں میں تھامے وہ ہانپتی ہوئی اس کے پاس آکر رک گئی۔ اس کی ناک پھننگ پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔  "چلو اب گھر چلیں" وہ بولی   اس نے مڑ کر غور سے اس لڑکی کو دیکھا، جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔  "چلو گھر چلیں" وہ سانس روک کر بولی۔  "چلو" وہ جیبوں میں ہاتھ ڈال کر پھر چلنے لگا۔

Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad , Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد , ناول, اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔ اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔ اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور

Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd , Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد , ناول,  بازار سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ چوک میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور انہوں نے کسی شخص کو گھیر رکھا ہے۔ مجھے وہ شخص نظر تو نہ آیا البتہ گروہ کے شور اور لوگوں کی تعداد سے اندازہ ہوا کہ کوئی اہم واقعہ ہو گیا ہے اور لوگ بہت ہی غصے میں ہیں۔ ہمارے تخت پور کا یہ چوک نانک شاہی اینٹوں کے فرش کا پکا چوک تھا اور اس کے چاروں طرف منیاری، کپڑے، صرافے، برتنوں اور پنساریوں کی بڑی بڑی دکانیں تھیں۔ ان کے درمیان نک سک کی دوسری چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی تھیں جن کے کوٹھے ننگے تھے اور ان پر بوریوں کے ٹاٹ والے چھوٹے چھوٹے بیت الخلا تھے۔ بڑی دکانوں پر ان کے سائز کے مطابق پکے چوبارے تھے جن کی سیڑھیاں دکانوں کے پہلو سے چڑھتی تھیں اور کھڑکیاں چوک میں کھلتی تھیں۔ چوک کے درمیان میں سیمنٹ کا ایک خشک فوارہ تھا جسے کمیٹی نے پانی کا کنکشن نہیں دیا تھا، حالانکہ یہ فوارہ بھی کمیٹی کا تھا اور پانی بھی کمیٹی کا لیکن محصول چنگی کے کسی آئٹم پر جھگڑے کی وجہ سے فوارے کو پانی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس فوارے کے اندر مزدور اپنی پگڑیاں بچھا کر اور بوریوں کو گچھا مچھ

Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Hairat Kada, Ashfaq Ahmad , Novel, حیرت کدہ , اشفاق احمد, ناول, روت : حضور ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم سے ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟ شاہ : اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ! ایک وجہ تو یہ ہے کہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔ کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ ! جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ، کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ، کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو ظلم کا ہی شوق ہوتا ہے ۔ ثروت : اور دوسری وجہ شاہِ علم شاہ : دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیرصابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ اشفاق احمد " حیرت کدہ " صفحہ 57 Download

Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad , Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد , ناول, ایک محبت سو افسانے کتاب ایک محبت سو افسانے سلسلہ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان کیوں نہ کرنے لگے سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے میرا تعلق وہ کہتی ہے دو بول محبت کے ہجر عبادت بن جائے محبت خوبصورت ہے آوارہ مزاج تم سمجھ نہیں سکتے تاجدار حرم منتخب نظمیں منتخب افسانے غزلیات ساغر عصری کے افسانوں میں محبت کا حسی تصور لطیف ہے ان کے افسانے بظاہر محبت کے مرکزی نقطے پر گردش کرتے ہیں تاہم ان کے موضوعات متنوع ہیں اور وہ محبت کی قندیل سے زندگی پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا اس سفر میں افسانے بھی لکھے ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ اردو افسانے کی قدیم ترین کتاب ہے مولوی عبدالحق نے محمد حسین آزاد کے دعوے کو بھی رد کیا جس کے مطابق وہ فضلی کی کربل

Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد , ناول, بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے ۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس

Pride of Performance, Umera Ahmad, Novel, عمیرہ احمد, پرائڈ آف پرفارمنس, ناول,

Image
Pride of Performance, Umera Ahmad , Novel,  عمیرہ احمد , پرائڈ آف پرفارمنس, ناول,  Pride Of Performance is writen by Umera Ahmed. Pride Of Performance is Social Romantic story, famouse Urdu Novel Online Reading at Urdu Novel Collection. Umera Ahmed is an established writer and writing regularly. The novel Pride Of Performance Complete Novel By Umera Ahmed also Umera Ahmed is a Popular Urdu novel writer and writes Many famouse urdu novels . Umera Ahmed is mostly popular among female readers,The Umera Ahmed stories are published in episodic format every month at various platforms and on Umera Ahmed facebook page are eventually released as separate novels. We hope Urdu Novel Collection Readers will like this beautiful Pride Of Performance Urdu Novel and give their feedback. Download