علوم الإسلام

Showing posts with label Medicine. Show all posts
Showing posts with label Medicine. Show all posts

Friday, December 3, 2021

Khawas-e-Peepal, Hakeem Abdullah, Medicine, خواص پیپل, حکیم عبد اللہ, طب,

 Khawas-e-Peepal, Hakeem Abdullah, Medicine, خواص پیپل, حکیم عبد اللہ, طب, 




مختلف نام: اردو پیپل -پنجابی پیپل- بنگالی آشوت-فارسی درخت لرزاں – ہندی پیپل- مر ہٹی پیپل- تیلگو راوی چیٹو-  سنسکرت پیپل – لاطینی فائی کس ریلجیوسا (sacred fig)۔


شناخت :یہ ایک مشہور درخت (sacred fig) ہے ۔جسے ہندو لوگ عرصہ قدیم سے متبرک مانتے ہیں اور واجب ا لتعظیم   خیال کرتے ہیں۔ علاوہ ازاں ان کی پوجا کرتے ہیں اور اس کی جڑ میں پانی ڈالنا ثواب سمجھتے ہیں۔اس کی بلندی80 سے90 فٹ ہوتی ہے۔تنا 30فٹ اونچا  اور تنے کی گولائی 15سے 20فٹ  ہوتی ہے۔ پتے اوپر سے صاف اور نیچے سے کھردرے اور لمبوترے ہوتے ہیں۔ موسم خزاں  میں اس کے سب پتے  جھڑ جاتے ہیں اور ماہ چیت  میں نئے نکل آتے ہیں۔ اس کے پھل فالسے کے پھل کے برابر اور اس سے بڑے ہوتے ہیں جو پک جانے پر بینگنی رنگ کے ہوجاتے ہیں، اس کے پتے تھوڑی سی ہوا چلنے پر کھڑکھڑانے لگتے ہیں۔ اس کے پتوں کو توڑنے سے دودھ بھی نکلتا ہے۔ جو بڑ کے دودھ سے کم گاڑھا  ہوتا ہے۔ جب درخت پرانا ہو جاتا ہے۔ تو برگد(بوہڑ)  کی طرح اس کی بھی داڑھیاں نکل آتی ہیں۔ پیپل کے پتوں اور چھال کا مزاج گرم و خشک ہے۔ بعض لوگ سرد وخشک  بھی  بتاتے ہیں۔پیپل کے خواص  ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔


کمزوری:  پیپل کے پھل سایہ میں خشک کر کے باریک پیس کر ہم وزن  کھا نڈ  ملاکر بقدر چھ  ماشہ صبح وشام دودھ کے ساتھ  کھانے سے جریان رفع  ہو جاتا ہے اور کمزوری (peepal tree remedies) دور ہوتی ہے۔


اولاد  کی آرزو:  پیپل (sacred fig) کی داڑھی بیس   تولہ، چینی سفید بیس  تولہ دو نوں کا سفوف بنائیں۔ یہ سفوف بقدر ایک ایک  تولہ  مرد عورت صبح کے وقت دونوں دودھ کے ساتھ روزانہ استعمال (peepal tree remedies) کریں اور………………. کریں۔ گود ہری ہو جائے گی۔


ملیریا:  یہ ایک عام دستور ہے کہ اکثر پنڈت و جوگی بخار کو دور کرنے کے لئے پیپل کے پتے پر تعویذ  لکھ کر مریض کو  چٹا تے ہیں۔ اس سلسلہ میں تعویذ کا اثر ہویا نہ ہو۔  پیپل کا پتہ چاٹ لینے سے بخار کو آرام آجاتا ہے۔


اسی طرح باری کے بخار میں دودھ سے پہلے پیپل کی لکڑی کی مسواک کرنے سے اور اس کا رس چوسنے سے بخار کی نوبت رک جاتی ہے۔


پرانے زخم:پیپل کی سوکھی چھال کو باریک پیس کر اس کو زخم پر (peepal tree remedies) جو کسی طرح اچھا نہ ہوتا ہو۔ بُرکنے  نے سے وہ زخم جلد  خشک ہو جاتا ہے۔


جریان:  پیپل کی جڑ کی چھال، پیپل کا پھل ہموزن باریک پیس کر برابر گھانڈ  ملا کر سفوف بنائیں اور رکھ دیں۔ یہ سفوف جریان، کثرت ایام کے لئے مفید ہے۔خوراک9 ماشہ  سے ایک تولہ صبح و شام بکری کے دودھ کے ساتھ استعمال (peepal tree remedies) کریں۔


اچار پیپل:پیپل (sacred fig) کے نئے شگوفے جوابھی پتے نہ  بنے ہوں اور کلیوں کی شکل میں ہوں ۔ان کو پانی میں جوش دیں تاکہ ان کی ناگوار ترشی اور  کسیلا پن دور ہو جائے۔ پھر ان پر قدرے نمک چھڑک کر تھوڑی دیر دھوپ میں رکھیں تاکہ ان کا پانی خشک ہوجائے۔ پھر ان میں سرسوں کا تیل ڈال کر برتن دو دن  دھوپ میں رکھیں۔ اچار تیار ہوجائیں گا۔ وبائے ہیضہ کو رفع کرتا ہے۔ متعفن اخلاط  کی اصطلاح کرتا ہے۔ بھوک خوب لگاتا ہے۔ منہ کا ذائقہ درست کرتا ہے۔ خوراک بقدر ضرورت استعمال کریں۔


اولاد  کی آرزو:داڈھی درخت پیپل  (sacred fig) دو تولہ، داڑھی درخت بڑ(بوبڑ)،طباشر ،دانہ الائچی خورد  ہر ایک دو تولہ ،ہاتھی دانت کا  دانت کا برادہ دو تولہ ،سب کو باریک پیس کر سفوف بنالیں۔


ترکیب استعمال:  جب عورت ایام سے فارغ ہو جائے تو تین تین ماشہ صبح ا ور شام گائے کے دودھ کے ساتھ ساتھ سات دن تک استعمال (peepal tree remedies) کریں اور………………… کریں۔ پہلے مہینے کامیابی حاصل ہوگی۔ ورنہ دوسرے حد تیسرے ماہ  ضرور آرزو پوری ہوگی۔ ہم نے خود اس نسخہ  کو آزمایا، نہایت مفید اور مجرب پایا۔


دوائے قے:  پیپل (sacred fig) کی راکھ کو پانی میں ڈال دیں ۔جس  وقت راکھ  نیچے بیٹھ جائے تو زلا ل  کو آہستہ آہستہ دوسرے برتن میں  گراتے جائیں۔ جب نتھارالگ ہو جائے تو چھان کر رکھ لیں اور  تھوڑے تھوڑے وقفہ سے گھونٹ گھونٹ پلاتے  جائیں۔ خدا کے فضل سے سخت سے سخت قے بھی   بند ہو جائے گی۔ تجربہ شدہ ہے۔


کشتہ جات میں پیپل کا استعمال

 کشتہ شنگرف:  پیپل (sacred fig) کی لکڑی ایک گز لمبی اور ایک فٹ چوڑی  لے کر اس کے درمیان میں سوراخ کریں اور اس میں شنگرف رومی ا شدھ ایک تولہ کی ڈلی رکھ کر او پر پیپل کی لکڑی کا ڈاٹ  لگا کر  اس لکڑی کو تین بار گل حکمت کرکے خشک کریں اور اس میں دونوں طرف اپلے   جمع کرکے اس کے دونوں سروں کو آگ لگا دیں۔ جب دونوں سرے جل جائیں اور شنگرف والا مقام محفوظ ہو تو سرد کریں اور شنگرف نکال کر  پیس لیں،  عمدہ کشتہ ہوگا۔ یہ کشتہ بہت مقوی ہے۔


خوراک:آدھے  سے ایک چاول تک ہمراہ مکھن استعمال کریں۔ اگر  نخود کے آٹے  سے تیار شدہ حلوے سے کشتہ استعمال (peepal tree remedies) کریں۔ تو زیادہ  فائدہ مند ثابت ہوگا۔


دیگر: پیپل کی جڑ کا چھلکا چھ تولہ باریک پیس کر چورن بنا لیں اور تھاپیوں (اپلوں) میں گڑھے نکال کر اس سفوف کے درمیان ایک تولہ شنگرف شدھ کی ڈلی رکھ کر ایک تھا پی (اپلا) میں ڈال کر دوسری تھاپی (اپلا) اوندھی رکھ دیں اور پا نچ سیر اپلوں کے درمیان یہ دو تھاپیاں رکھ کر آگ لگا دیں۔ آ   گ ٹھنڈی ہونے پر آہستہ سے نکا لیں۔ بہت عمدہ کشتہ تیار ہو گا۔


خوراک:  آدھی سے ایک رتی تک طاقت کے مطابق دودھ کی بالائی کے ساتھ دیں۔ جریان اور سیلان کے لئے مفید (peepal tree remedies) ہے۔


کشتہ پارہ:  پیپل (sacred fig) کی لکڑی آٹھ  انچ لمبی اور چار انچ چوڑی لے اس کی لمبائی میں برمے  سے سوراخ کریں  جب  آ دھے تک پہنچے۔     اب اس میں ایک تولہ شہد پارہ ڈال دیں اور نکلا ہوا برادہ پھربھردیں ۔منہ پر پیپل کی لکڑی کی ایک ڈاٹ لگائیں۔ اس لکڑی کو گل حکمت کریں۔ جب ایک گل حکمت خشک ہو  جائے۔ اسی طرح تین بار گل حکمت کریں اور خشک کرکے ہوا سے محفوظ مقام پر پندرہ سیر اپلوں کی آگ دیں۔ کشتہ  رنگ سفید تیار ہوگا۔ یہ کشتہ ایک خاص ترکیب سے تیار ہوتا ہے جو حد سے زیادہ مقوی ہے۔ کمزوری کو مفید ہے۔ خوراک آدھا چاول ہمراہ مکھن۔


نوٹ:کشتہ  استعمال کرنے سے پہلے یہ جا نچ کر لینی ضروری ہے کہ آگ کی کمی بیشی سے گشتہ خام نہ  رہ گیا ہو۔


کشتہ قلعی:چھلکا پیپل 200گرام کوٹ کر سفوف بنالیں اور ایک بڑے اوپلے میں گڑھا کھود کر اس میں  نصف سفوف بچھادیں۔اب قلعی ، پارہ ،20-20گرام کو عقد کر کے پیس لیں اور اس سفوف کے اوپر ایک ایک چٹکی علیحدہ علیحدہ رکھتے جائیں، باقی آدھا سفوف اوپر بچھا دیں اور اس کے اوپر دوسرا او پلار کھ کر دونوں اوپلوں کے لب مٹی کے بند کر دیں اور ایک گڑھے کے درمیان 5کلو اوپلوں کی آگ دیں۔ سرد ہونے پر نکال لیں۔قلعی شگفتہ ہوگی۔ پیس کر شیشی میں رکھ دیں۔ سرعت، جریان، کمزوری و پیشاب کی نالی کی سوجن کے لئے مفید ہے۔


خوراک:ایک سے دو رتی مکھن میں دیں۔ 


جڑی بوٹیوں کاانسائیکلو پیڈیا

از: حکیم وڈاکٹرہری چند ملتانی

پارس پیپل دیگر نام:ہندی میں پارس پیپل، بنگالی میں پراش ،گجراتی پارش پیپلو جبکہ انگریزی میں ٹیولیپ کہتے ہیں۔


ماہیت:یہ ایک درمیانے قد کا پودا (sacred fig) ہے۔ اس کے پتے پان کی شکل کے نوکدار ہوتے ہیں۔ اس کے پھول کٹوری دار اونچے کنارے والے ہوتے ہیں اور ان کے اندر بھنڈی کی مانند زرد رنگ کی پتیاں ہوتی ہیں۔ پھل بھی بھنڈی کی وضع کے ہوتے ہیں ۔

ذائقہ:پھل کھٹے، جڑشیریں

مقام پیدائش:بنگال، برما ،مغربی و مشرقی گھاٹ، سری لنکا

استعمال:اس کی تازہ پھلیوں کی ڈنڈیوں سے جو زردرس نکلتا ہے وہ بچھو اور کنکھجورا کے کاٹنے کے مقام پر لگانے سے فورا تسکین ہوتی ہے۔اس کے پھل سے ایک پیلا لیسدار رس نکلتا ہے جو خارش، داد وغیرہ جلدی امراض میں بطور لیپ استعمال کیا جاتا ہے۔

Download

Khawas-e-Aam, Hakeem Abdullah, Medicine, خواص آم, حکیم عبد اللہ, طب,

 Khawas-e-Aam, Hakeem Abdullah, Medicine, خواص آم, حکیم عبد اللہ, طب,



ناشر - عبدالوحید سلیمانی

طابع - منہاج الدین اصلاحی

مطبع ۔ شرکت پرنٹنگ پریس لاہور


درخت کی اونچائی تقریبا ساٹھ ستر فٹ ہوتی ہے۔ تناگول اور اس کا محیط عموما دس پبندرہ فٹ ہوتا ہے۔ پتے چھ انچ تک لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ اپنی ابتدائی بہار میں بہت اچھے اور زیادہ پھل دیتا ہے۔ مگر جوں جوں عمر زیادہ ہو جاتی ہےپھلوں میں بھی کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔ نیز اول سال اچھے اور بکثرت پھل لگتے ہیں دوسرے سال کم اور ناقص بعض اوقات پھلتے ہی نہیں۔ اس پر خاص قسم کی خوشبو لئے ہوئے پیلے رنگ کے پھولوں کے گچھے لگتے ہیں جنہیں لوگ بور کہتے ہیں اور یہ پھول ماگھ سے چیت تک لگتے ہیں۔ ان کی خوشبو ہوا میں سرائیت کر جاتی ہے۔ تو نہایت بھلے محسوس ہوتے ہیں۔

Download

#Medical_Books_Download

#Medical_Books_in_URDU #Download_Islamic_Books #Download_Islamic_Books_PDF #PDF_Free_Books_Download #Urdu_Books_Download  #Free_Urdu_Books_Download #اردوـکتاب #Free_Medical_Books #Benifits_of_mangoes #Mango_benefit #Mangifera_indica #Anacardiaceae #ادارہـمطبوعاتـ



Monday, August 23, 2021

Khawas-e-Ghee, خواص گھی, Medicine, Hakim Abdullah, طب, دیسی گھی کے فوائد, حکیم عبد اللہ

Khawas-e-Ghee, خواص گھی, Medicine, Hakim Abdullah, طب, دیسی گھی کے فوائد, حکیم عبد اللہ



گھی جسمانی توانائی کے لیے ایک اچھا ذریعہ ہے، اس میں موجود فیٹی ایسڈز جسمانی توانائی بحال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

قبض سے بچائے
اگر قبض کے مسئلے سے دوچار ہیں تو گھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سونے سے پہلے ایک یا 2 چائے کے چمچ گھی کو گرم دودھ میں ملاکر پی لیں جو کہ قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔

توند سے نجات
دیسی گھی ایسے اہم امینو ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ چربی اور فیٹ سیلز کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں، تو اگر آپ کو لگتا ہے کہ جسم بہت تیزی سے چربی اکھٹا کررہا ہے تو دیسی گھی کا اضافہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس میں لنولینک ایسڈ بھی موجود ہے جو کہ اومیگا سکس فیٹی ایسڈز کی ایک قسم ہے، جس کا استعمال جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔ اومیگا سکس فیٹی ایسڈز چربی کا حجم کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے توند سے نجات میں مدد ملتی ہے۔ دیسی گھی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی موجود ہیں، جو پھیلتی کمر کو کم کرنے اور چربی گھلانے کے لیے فائدہ مند ہیں۔

وٹامنز سے بھرپور
اگر تو آپ گھی یا یوں کہہ لیں دیسی گھی استعمال کرنے کے عادی ہیں تو آپ کو وٹامنز سپلیمنٹس لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایک چمچ گھی میں وٹامن اے (ہڈیوں، جلد اور جسمانی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری)، وٹامن ڈی (کیلشیئم جذب کرنے میں مدد دینے والا)، وٹامن ای (آنکھوں اور دماغ کے لیے بہترین) اور وٹامن کے (خون پتلا رکھنے میں مددگار) موجود ہیں، یہ وہ وٹامنز ہیں جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔

صحت مند چربی
گھی میں سچورٹیٹڈ فیٹ موجود ہوتا ہے جس کا استعمال معتدل مقدار میں کیا جانا چاہئے خاص طور پر اگر دل کے امراض کا سامنا ہو، مگر اس میں فیٹی ایسڈز بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ میٹابولزم پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، یہ فیٹی ایسڈز دماغی افعال اور اعصابی نظام پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

معدے کے لیے بہترین
گھی میں ایسا فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے جو غذائی نالی کا ورم کم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔

غذا کے نقصان دہ اجزاءکو دور کرے
زیادہ درجہ حرارت میں پکنے والے کھانے اگر گھی سے بنائے جائے تو ان میں پیدا ہونے والے مضر صحت اجزاءبننے کی فکر نہیں کرنا پڑتی، جبکہ تیل سے پکے پکوانوں میں ایسا نہیں ہوتا۔

کینسر سے تحفظ
کوجیگیٹڈ لینولیس ایسڈ نامی جز جسمانی وزن میں کمی اور بلڈ پریشر سمیت مختلف اقسام کے کینسر کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، مگر یہ واضح رہے کہ دیسی گھی میں قدرتی طور پر جز کافی مقدار میں ہوتا ہے۔

جلد کو ہموار کرے
گھی کو جلنے کے زخم یا سوجن وغیرہ کے لیے قدرتی دوا کے طور پر بھی متاثرہ حصے میں لگا کر استعمال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس سے ورم میں کمی آنے کا امکان ہوتا ہے۔

پیٹ کو بھرا رکھتا ہے
گھی میں موجود چربی پیٹ بھرنے کا احساس طویل وقت تک برقرار رکھتی ہے، ماہرین کے مطابق گھی میں موجود صحت بخش فیٹس پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرنے کے ساتھ نیند میں بہتری، جسمانی وزن میں کمی اور کئی بار تو کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی لاتے ہیں۔

جوڑوں کے درد کے لیے مفید
دیسی گھی کا طویل المدتی استعمال نہ صرف آپ کے جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پٹھوں کو بھی مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کا شکار افراد کے لیے بھی مؤثر ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


Khawas-e-Kafoor, Hakim Abdullah, Medicine, Cinnamomum camphora, خواص کافور, حکیم عبد اللہ, طب

 Khawas-e-Kafoor, Hakim Abdullah, Medicine, Cinnamomum camphora, خواص کافور, حکیم عبد اللہ,  طب



Cinnamomum camphora is a species of evergreen tree that is commonly known under the names camphor tree, camphorwood or camphor laurel.

Cinnamomum camphora is native to China south of the Yangtze River, Taiwan, southern Japan, Korea, India and Vietnam, and has been introduced to many other countries. It grows up to 20–30 m (66–98 ft) tall.[2] In Japan, where the tree is called kusunoki, five camphor trees are known with a trunk circumference above 20 m (66 ft), with the largest individual, Kamō no Ōkusu (蒲生の大楠, "Great camphor of Kamō"), reaching 24.22 m.

The leaves have a glossy, waxy appearance and smell of camphor when crushed. In spring, it produces bright green foliage with masses of small white flowers. It produces clusters of black, berry-like fruit around 1 cm (0.39 in) in diameter. Its pale bark is very rough and fissured vertically.

Camphor sacred tree with shrine at the base at Kayashima Station

Certain trees in Japan are considered sacred. An example of the importance of a sacred tree is the 700-year old camphor growing in the middle of Kayashima Station. Locals protested against moving the tree when the railway station had to be expanded, so the station was built around it.


Download

Khawas-e-Ghikawar, Medicine, Hakim Abdullah, Aloe vera, genus Aloe, خواص گھیکوار, حکیم عبد اللہ, طب, ایلوویرا, کوار گندل

 Khawas-e-Ghikawar, Medicine, Hakim Abdullah, Aloe vera, genus Aloe, خواص گھیکوار, حکیم عبد اللہ, طب, ایلوویرا





Aloe vera is a succulent plant species of the genus Aloe. Having some 500 species, Aloe is widely distributed, and is considered an invasive species in many world regions.

An evergreen perennial, it originates from the Arabian Peninsula, but grows wild in tropical, semi-tropical, and arid climates around the world. It is cultivated for commercial products, mainly as a topical treatment used over centuries. The species is attractive for decorative purposes, and succeeds indoors as a potted plant.

It is used in many consumer products, including beverages, skin lotion, cosmetics, ointments or in the form of gel for minor burns and sunburns. There is little clinical evidence for the effectiveness or safety of Aloe vera extract as a cosmetic or topical drug. The name derives from Latin as aloe and vera ("true").

Aloe vera is a stemless or very short-stemmed plant growing to 60–100 centimetres (24–39 inches) tall, spreading by offsets. The leaves are thick and fleshy, green to grey-green, with some varieties showing white flecks on their upper and lower stem surfaces. The margin of the leaf is serrated and has small white teeth. The flowers are produced in summer on a spike up to 90 cm (35 in) tall, each flower being pendulous, with a yellow tubular corolla 2–3 cm (3⁄4–1+1⁄4 in) long. Like other Aloe species, Aloe vera forms arbuscular mycorrhiza, a symbiosis that allows the plant better access to mineral nutrients in soil.

Aloe vera leaves contain phytochemicals under study for possible bioactivity, such as acetylated mannans, polymannans, anthraquinone C-glycosides, anthrones, and other anthraquinones, such as emodin and various lectins.



Download

Khawas-e-Satyanasi, Medicine, Hakim Abdullah, Argemone mexicana, Mexican poppy, cardosanto, خواص ستیاناسی, حکیم عبد اللہ, طب, شجرة الثوم,

Khawas-e-Satyanasi, Medicine, Hakim Abdullah, Argemone mexicana, Mexican poppy, cardosanto, خواص ستیاناسی, حکیم عبد اللہ, طب, شجرة الثوم, 



 بادنجان دشتی

سورن چھری

کانٹے دھوترا 

دارڈا 

سورن کثیری


Argemone mexicana (Mexican poppy, Mexican prickly poppy, flowering thistle, cardo or cardosanto) is a species of poppy found in Mexico and now widely naturalized in many parts of the world. An extremely hardy pioneer plant, it is tolerant of drought and poor soil, often being the only cover on new road cuttings or verges. It has bright yellow latex. It is poisonous to grazing animals, and it is rarely eaten, but it has been used medicinally by many peoples, including those in its native area, as well as the Natives of the western US, parts of Mexico and many parts of India. In India, during the colorful festival Holika Dahan, adults and children worship by offering flowers, and this species is in its maximum flowering phase during March when the Holi festival is celebrated. It is also referred to as "kateli ka phool” in India.

Argemone mexicana seeds contain 22–36% of a pale yellow non-edible oil, called argemone oil or katkar oil, which contains the toxic alkaloids sanguinarine and dihydrosanguinarine. Four quaternary isoquinoline alkaloids, dehydrocorydalmine, jatrorrhizine, columbamine, and oxyberberine, have been isolated from the whole plant of Argemone mexicana. Many other alkaloids such as argemexicaines A and B, coptisine, cryptopine, allocryptopine and chelerythrine have also been found in this plant.

The seed pods secrete a pale yellow latex when cut open. This argemone resin contains berberine and protopine.


Download


Khawas-e-Phatkari, Hakim Abdullah, Medicine, Alum, خواص پھٹکری, حکیم عبد اللہ, طب

 Khawas-e-Phatkari, Hakim Abdullah, Medicine, Alum, خواص پھٹکری, حکیم عبد اللہ, طب



Aluminium-based alums have been used since antiquity, and are still important in many industrial processes. The most widely used alum is potassium alum. It has been used since antiquity as a flocculant to clarify turbid liquids, as a mordant in dyeing, and in tanning. It is still widely used in the treatment of water, in medicine, for cosmetics (in deodorant), in food preparation (in baking powder and pickling), and to fire-proof paper and cloth.

Alum is also used as a styptic, in styptic pencils available from pharmacists, or as an alum block, available from barber shops and gentlemen's outfitters, to stem bleeding from shaving nicks; and as an astringent. An alum block can be used directly as a perfume-free deodorant (antiperspirant), and unprocessed mineral alum is sold in Indian bazaars for just that purpose. Throughout Island Southeast Asia, potassium alum is most widely known as tawas and has numerous uses. It is used as a traditional antiperspirant and deodorant, and in traditional medicine for open wounds and sores. The crystals are usually ground into a fine powder before using.

Alum is used as a mordant in traditional textiles; and in Indonesia and the Philippines, solutions of tawas, salt, borax, and organic pigments were used to change the color of gold ornaments. In the Philippines, alum crystals were also burned and allowed to drip into a basin of water by babaylan (shamans) for divination. It is also used in other rituals in the animistic anito religions of the islands.

In traditional Japanese art, alum and animal glue were dissolved in water, forming a liquid known as dousa , and used as an undercoat for paper sizing.

Alum in the form of potassium aluminium sulphate or ammonium aluminium sulfate in a concentrated bath of hot water is regularly used by jewelers and machinists to dissolve hardened steel drill bits that have broken off in items made of aluminum, copper, brass, gold (any karat), silver (both sterling and fine) and stainless steel. This is because alum does not react chemically to any significant degree with any of these metals, but will corrode carbon steel. When heat is applied to an alum mixture holding a piece of work that has a drill bit stuck in it, if the lost bit is small enough, it can sometimes be dissolved / removed within hours.


Download

Khawas-e-Saunf, Hakim Abdullah, Medicine, Aniseed, Anise, Pimpinella anisum, خواص سونف, حکیم عبد اللہ, طب,

 Khawas-e-Saunf, Hakim Abdullah, Medicine, Aniseed, Anise, Pimpinella anisum, خواص سونف, حکیم عبد اللہ, طب,





Anise (Pimpinella anisum), also called aniseed or rarely anix, is a flowering plant in the family Apiaceae native to the eastern Mediterranean region and Southwest Asia.

The flavor and aroma of its seeds have similarities with some other spices, such as star anise, fennel, and liquorice. It is widely cultivated and used to flavor food, candy, and alcoholic drinks, especially around the Mediterranean.

Anise is sweet and aromatic, distinguished by its characteristic flavor The seeds, whole or ground, are used for preparation of teas and tisanes (alone or in combination with other aromatic herbs), as well many regional and ethnic confectioneries, including black jelly beans, British aniseed balls, aniseed twists[17] and "troach" drops, Australian humbugs, New Zealand aniseed wheels, Italian pizzelle and biscotti, German Pfeffernüsse and Springerle, Austrian Anisbögen, Dutch muisjes, New Mexican bizcochitos, and Peruvian picarones.[citation needed]


The culinary uses of anise are not limited only to sweets and confections, as it is a key ingredient in Mexican atole de anís and champurrado, which is similar to hot chocolate.[citation needed] In India and Pakistan, it is taken as a digestive after meals, used in brines in the Italian region of Puglia, and as a flavoring agent in Italian sausage, pepperoni and other Italian processed meat products. The freshly chopped leaves are added to cheese spreads, dips or salads, while roots and stems impart a mild licorice flavor to soups and stews.

The ancient Romans often served spiced cakes with aniseed called mustaceoe at the end of feasts as a digestive. This tradition of serving cake at the end of festivities is the basis for the tradition of serving cake at weddings.

The main use of anise in traditional European herbal medicine was for its carminative effect (reducing flatulence), as noted by John Gerard in his Great Herball, an early encyclopedia of herbal medicine:

The seed wasteth and consumeth winde, and is good against belchings and upbraidings of the stomach, alaieth gripings of the belly, provoketh urine gently, maketh abundance of milke, and stirreth up bodily lust: it staieth the laske (diarrhea), and also the white flux (leukorrhea) in women.

According to Pliny the Elder, anise was used as a cure for sleeplessness, chewed with alexanders and a little honey in the morning to freshen the breath, and, when mixed with wine, as a remedy for asp bites (N.H. 20.72). In 19th-century medicine, anise was prepared as aqua anisi ("Water of Anise") in doses of an ounce or more and as spiritus anisi ("Spirit of Anise") in doses of 5–20 minims. In Turkish folk medicine, its seeds have been used as an appetite stimulant, tranquilizer, or diuretic.


Download

Khawas-e-Aak, Medicine, Hakim Abdullah, خواص آک, حکیم عبد اللہ, طب

 Khawas-e-Aak, Medicine, Hakim Abdullah, خواص آک, حکیم عبد اللہ, طب




Calotropis procera


Calotropis procera is a species of flowering plant in the family Apocynaceae that is native to North Africa, tropical Africa, Western Asia, South Asia, and Indochina. The green fruits contain a toxic milky sap that is extremely bitter and turns into a gluey coating which is resistant to soap.

Common names for the plant include Apple of Sodom, Sodom apple, stabragh, king's crown, rubber bush, and rubber tree. The name Apple of Sodom and Dead Sea Apple comes from the fact that the ancient authors Josephus and Tacitus described it as growing in the area of biblical Sodom.


Some biblical commentators believe that the Sodom apple may have been the poisonous gourd (or poison-tasting gourd) that led to "death in the pot" in the Second Book of Kings (2 Kings 4:38–41). In this story, a well-meaning servant of the prophet Elisha gathers herbs and a large quantity of the unknown gourds, and casts them into the pot. After the outcry from the band of prophets, Elisha instructs them to cast flour into the stew pot, and they are saved.

In 1938, botanists Hannah and Ephraim HaReuveni, authors of "The Squill and the Asphodal" (and parents of Noga HaReuveni), speculated that Jeremiah's ar‘ar/arow‘er was the Sodom apple.

The fibre of the Sodom apple may have been used for the linen of the high priests.

The fruit is described by the Roman Jewish historian Josephus, who saw it growing near what he calls Sodom, near the Dead Sea: "...as well as the ashes growing in their fruits; which fruits have a color as if they were fit to be eaten, but if you pluck them with your hands, they dissolve into smoke and ashes." (Whiston 1737: Book IV chapter 8 section 4)

Sodom apple is listed in the Mishnah and Talmud. The fibers attached to the seeds may have been used as wicks. However the Mishnah forbids this for the Sabbath: "It may not be lighted with cedar-bast, nor with uncombed flax, nor with floss-silk, nor with willow fiber, nor with nettle fiber. – Sabbath Chapter 2"[dubious – discuss]

In his Biblical Researches in Palestine, American biblical scholar Edward Robinson describes it as the fruit of the Asclepias gigantea vel procera, a tree 10–15 feet high, with a grayish cork-like bark called 'osher by the Arabs. He says the fruit resembled "a large, smooth apple or orange, hanging in clusters of three or four." When pressed "or struck, it explodes with a puff, like a bladder or puff-ball, leaving in the hand only the shreds of the thin rind and a few fibers. It is indeed filled chiefly with air, which gives it the round form; while in the center a small slender pod runs through it which contains a small quantity of fine silk, which the Arabs collect and twist into matches for their guns."

West Indies: Jamaica
The plant is known to occur throughout the tropical belt and is also common in the West Indies (e.g. Jamaica), where the locals know it as "pillow cotton". When the ripe "apples" burst, the fibrous contents are ejected along with the seeds. The former are collected by the Jamaicans and used for filling pillows.

Phalon se Ilaj, Hakim Abdullah, Medicine, پھلوں سے علاج, طب, حکیم عبداللہ

 Phalon se Ilaj, Hakim Abdullah, Medicine, پھلوں سے علاج, طب, حکیم عبداللہ



Natural Cures with fruits and vegetables. We definitively know that not all the answers for treating diseases and to achieve a healthier body can be found with traditional medicine. Oftentimes the use of chemicals and drug based treatments only worsen health problems when the real answer can be found in nature by consuming lots of fresh fruits and vegetables. Fruits and vegetables are full of nutrients and powerful antioxidants that will cure and prevent many diseases like cancer. The secret of eating fruits and vegetables to improve your overall health is not just filling your body with these natural healthy foods. One of the best and most effective secrets to get all the benefits from fruits and vegetables is to eat them on an empty stomach. By doing this your will get most of the health powers that these delicious and healthy foods can provide to our bodies. When you make these fruits and vegetables a part of your healthy diet they will act as natural cures that will heal your body and make you feel great. Nothing is easier to process or to digest for our human body than a fruit or a vegetable. Also the best way to consume these magical and healthy superfoods is by eating them in their raw state to profit from all the nutrients and the powers they have, when cooked some of the nutrients and vitamins are lost. Always drink plenty of pure water with your fruits and vegetables to make your digestive system to work even better. There is no better way to maintain a healthy body than by eating these powerful healthy foods. There are plenty of good reasons to include fruits and vegetables in your daily healthy diet. Fruits and vegetables contain lots of dietary fiber; this is excellent to keep a slim and energetic body. The fiber inside fruits makes you feel full and you lose weight faster and easier. Fruits contain natural sugars that boost your energy levels naturally and effectively. Fruits and vegetables are the best source of vitamins and nutrients you can find in nature to keep a healthy, stronger and younger body. You reduce the risk of many types of diseases like different types of cancer and heart disease when you make these wonderful healthy foods a part of your daily menus. Stay healthy and stay younger with the revealed powers of the best fruits and vegetables you will find in this book. You are responsible for your health and your health is the biggest asset you must take care of today! Protect your health and keep doctors away! We must increase the amount of fresh fruits and vegetables we eat if we want to stay healthy. These powerful superfoods should be the foundation of a healthier you and a healthy diet. Phytochemicals inside fruits and vegetables helps to fight a lot of illnesses like different types of cancers, high blood pressure, high cholesterol levels, diabetes and others. Phytochemicals are the substances that give fruits and vegetables their beautiful colors and powerful properties. Low in calories, high in nutrients, vitamins and fiber, there is no better type of food you can find in the entire nature than fruits and vegetables, discover all their powers in this practical book that will reveal all the benefits you can get when you make them part of your life and your healthy diet. Fruits and vegetables are the best choice for an anti-cancer diet, to lower cholesterol naturally and to live longer and healthier. You need the power of antioxidants from healthy foods like fruits and vegetables for a healthier you now! Take advantage of the best natural cures and antioxidants to cure cancer naturally and to cure other diseases now! Healthy eating is the key for a healthy lifestyle.













Thursday, June 17, 2021

Mamoolat-e-Sherani, Hakim Abdullah, Medicine, معمولات شیرانی, حکیم عبد اللہ, طب,

 Mamoolat-e-Sherani, Hakim Abdullah, Medicine, معمولات شیرانی, حکیم عبد اللہ, طب, 



معمولات شیرانی میرے محترم دوست حکیم غلام حسن شیرانی کے ان بیش بہا سربستہ رازوں کا انکشاف کرتی ہے جہ کہ ان کے مطب میں ہر وقت موجود رہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض نسخہ جات ان کے خاص الخاص تجارتی راز ہیں جن کا اظہار کوئی آسان امر نہ تھا۔ مگر آفریں ہے اس مرد دلیر کی طبع نجل شکن پر اور مرحبا ہے اس ایثار پیشہ انسان کی جرات آموز پیشکش پر جس نے صرف ایک دو نہیں بلکہ سارے کے سارے راز آپ کی خدمت میں پیش کر دیے ہیں ۔ یہ ایک ایسا مختصر مگر مکمل فارما کوپیا ہے جس کو سامنے رکھ کر بفضلہ ایک کامیاب مطب کیا جاسکتا ہے۔ خصوصا اس زمانہ میں جبکہ انگریزی ادویہ بہت گراں داموں میں مل رہی ہیں۔ یہ فارما کوپیا ایک نعمت بے بہا سے کم نہیں۔ 

Download

Kanz-ul-Murakkabat, Hakim Abdullah, Medicine, طب, حکیم عبد اللہ, کنزالمرکبات,

 Kanz-ul-Murakkabat, Hakim Abdullah, Medicine, طب, حکیم عبد اللہ, کنزالمرکبات, 



میرے طبی بھائیوں سے مخفی نہیں کہ قرابادین اور مرکب نسخہ جات کی کتب کیوں معرض تحریر میں لائی اور طبع کرائی جاتی ہیں۔ اس کی ضرورت کو بیان کرنے کے لئے خامہ فرسائی کرنا تحصیل حاصل کے ہم معنی معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ قرابادین اعظم و اکمل، قرابا دین قادری۔ قرابا دین نجم الغنی، قرابا دین شفائی، قرابا دین ذکائی، قرابا دین احسانی۔ وغیرہ وغیرہ کی تالیف کا سلسلہ طویل بذات خود اس کی ضرورت و اہمیت کی صاف اور کھلی ہوئی دلیل ہے۔  گو مذکورہ بالا کتابوں کے مصنفین(رحمہم اللہ اجمعین) کی ان تھک محنتوں اور فیاضیوں نے ایک حد تک اس ضرورت کو پورا کر دیا تھا۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ زمانہ عنقریب ایک ایسا رنگ بدلنے والا ہے جس میں غرباء اور عوام کی نزاکت پسند و لطافت خواہ طبائع از منہ ۔۔۔۔۔قدیمہ کے امراء و خواص


Download

Khawas-e-Haldi, Characteristics of Turmeric, Zingiberaceae Curcuma Longa, Hakim Abdullah, Medicine, خواص ہلدی, حکیم عبد اللہ,طب,

 Khawas-e-Haldi, Characteristics of Turmeric, Zingiberaceae Curcuma Longa, Hakim Abdullah, Medicine, خواص ہلدی, حکیم عبد اللہ,طب,



خواص ہلدی از حکیم عبد اللہ


The spice known as turmeric may be the most effective nutritional supplement in existence.


Many high-quality studies show that turmeric has major benefits for your body and brain. Many of these benefits come from its main active ingredient, curcumin.


Read on to learn what the science says about turmeric and curcumin as well as their benefits.


Turmeric is a spice that comes from the turmeric plant. It is commonly used in Asian food. You probably know turmeric as the main spice in curry. It has a warm, bitter taste and is frequently used to flavor or color curry powders, mustards, butters, and cheeses. But the root of turmeric is also used widely to make medicine. It contains a yellow-colored chemical called curcumin, which is often used to color foods and cosmetics.


Turmeric is commonly used for conditions involving pain and inflammation, such as osteoarthritis. It is also used for hay fever, depression, high cholesterol, a type of liver disease, and itching, but there is no good scientific evidence to support these uses.


Don't confuse turmeric with Javanese turmeric root or tree turmeric. Also, don't confuse it with zedoary or goldenseal, which are unrelated plants that are sometimes called turmeric.


Coronavirus disease 2019 (COVID-19): Some experts warn that turmeric may interfere with the body's response against COVID-19. There is no strong data to support this warning. But there is also no good data to support using turmeric for COVID-19. Follow healthy lifestyle choices and proven prevention methods instead.


Download

Kushta Jaat ki Pahli Kitab, Hakim Abdullah, Medicine, طب, حکیم عبد اللہ, کشتہ جات کی پہلی کتاب,

 Kushta Jaat ki Pahli Kitab, Hakim Abdullah, Medicine, طب, حکیم عبد اللہ, کشتہ جات کی پہلی کتاب,


کشتہ جات کی پہلی کتاب از حکیم محمدعبداللہ
کتاب ” کشتہ جات کی پہلی کتاب” تحریر ” استاد الحکماء حکیم محمد عبداللہ صاحب۔ کشتہ سازی کا فن ایک لطیف صنعت ہے۔ جس میں مہارت حاصل کرنے کے لئے محض علمی تعلیم کافی نہیں ہوسکتی۔ جب تک شائق فن آگ سے کھیلنا نہ سیکھے وہ کھبی ایک ماہر کشتہ ساز نہیں بن سکتا۔ دیگر علوم و فنون میں ترقی حاصل کرنے کی طرح اس فن میں مہارت حاصل کرنے کا راز بھی یہی ہے کہ پہلے سب سے نیچے کے زینے پر قدم رکھ کر اوپر چڑھنا شروع کیا جائے۔
کشتہ جات کی پہلی کتاب فنِ کشتہ سازی میں بطور ایک پہلے زینے کے تیار کی گئی ہے۔ اس لئے اس کی زبان اور انداز حتی الوسیع بہت عام فہم رکھاگیا ہے۔ اور اس میں ان ہی کشتہ جات کی ترکیبیں درج کی گئی ہیں جنہیں مبتدی نہایت آسانی سے تیار کر سکیں۔ اسی خیال کے زیراثر سیماب اور ہڑتال ورقی جیسے کشتے درج نہیں کئے گئے۔ نیز یہ بھی خیال رکھا گیا ہے کہ ترکیبیں ایسی ہوں کہ اگر مبتدی پہلی مرتبہ کوئی کشتہ تیار نہ کرسکے تو اس کا زیادہ نقصان بھی نہ ہو۔ اس لئے سونے کا کشتہ بنانے کی ترکیب بھی درج نہیں کی گئی۔
کشتہ جات تیار کرنے سے پہلے ” ہدایات کشتہ سازی” جو اس کتاب کے شروع میں دی گئی ہیں۔ ضرور پڑھ لیں۔ اگر آپ نے کشتہ سازی کے اس ابتدائی زینہ پر جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اپنے قدم خوب اچھی طرح سے جما کر رکھا تو وہ دن دور نہیں ہوگا جب آپ فنِ کشتہ سازی کے بلند ترین مقام تک جا پہنچیں گے۔


Download

Tuesday, June 15, 2021

Jari Bootiyan, Hakim Abdullah, Medicine, جڑی بوٹیاں, حکیم عبد اللہ, طب,

 Jari Bootiyan, Hakim Abdullah, Medicine, جڑی بوٹیاں, حکیم عبد اللہ, طب,

ہندوستان و پاکستان کی جڑی بوٹیاں




یونان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بڑا نیک دل اور دانش مند تھا،اسی لیے عقل مندوں اور حکیموں کا بڑا قدر دان تھا، خود بھی بہت بڑا عالم تھا اور عالموں کی بہت زیادہ قدر کرتا۔اسے اچھی اچھی باتیں لکھوانے اور انہیں اپنے کتب خانے میں جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ دس برس کے عرصے میں اس نے سینکڑوں کتابیں جمع کرلی تھیں، وہ ان نادر کتب کا مطالعہ کرکے بہت خوش ہوا کرتا۔

بادشاہ ایک دن بیٹھا مطالعے میں مصروف تھا کہ اسے خیال آیا، کتب خانے میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جس میں انسانی جسم کی تمام بیماریوں کی علامت اور ان کا علاج تحریر ہو، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی کتاب ضرور لکھوائے گا۔
بادشاہ نے اسی وقت شاہی حکیم کو بلایا اور کہا۔ حکیم صاحب میں چاہتا ہوںکہ آپ حکمت پر ایسی کتاب لکھیں جس میں تمام انسانی بیماریوں کی علامات اور ان کا علاج تحریر ہو۔

شاہی حکیم نے کہا۔ سرکار میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا، میں بہت جلد ایسی کتاب تیار کروں گا جسے آپ پسند فرمائیں گے اور وہ نہایت مفید کتاب ہوگی۔ یہ کہہ کر جناب حکیم نے بادشاہ سے اجازت لی اور رخصت ہوگئے۔
بادشاہ کو دلی طور پر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کتاب نہ صرف اس کے کتب خانے کی زینت بنے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنما اور مفید ثابت ہوگی۔
شاہی حکیم نے بادشاہ کے فرمان کے مطابق کتاب لکھنا شروع کردی۔ سب سے پہلے انہوں نے ایسی تمام بیماریوں کے نام اکٹھے کیے جو انسانوں کو لاحق ہوسکتی تھیں، اس کے بعد ان کے علاج اور پرہیز لکھنے کا مرحلہ آیا۔ اس سلسلے میں حکیم صاحب نے ان تمام جڑی بوٹیوں کے نام لکھ ڈالے جو بطور دوا استعمال ہوسکتی تھیں۔ اس کتاب کو تیار کرنے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ گیا مگر حکیم نے اسے ایک ہی جلد میں تیار کردیا۔
کتاب مکمل کرلینے کے بعد وہ دربار میں گیا اور نہایت ادب و احترام سے بادشاہ سلامت کی خدمت میں اسے پیش کیا۔
بادشاہ کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اس نے انعام کے طور پر ممدوح کو مالا مال کردیا، شاہی حکیم بھی بہت خوش ہوئے، انہیں اس بات کی زیادہ خوشی تھی کہ ان کی محنت کا صلہ کہیں زیادہ بڑھ کر دیا گیا ہے اور دوسری خوشی اس بات پر کہ ان کی کتاب ایک سچے قدر دان کے پاس گئی ہے، کچھ عرصے کے بعد وہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔
بادشاہ نے وہ کتاب اپنے مطالعے کے خاص کمرے میں رکھوادی، ایک دن جب وہ فارغ بیٹھا تھا تو اسے اچانک اس کتاب کا خیال آیا۔ اس نے فوراً منگوائی اور اس کا مطالعہ شروع کردیا، بادشاہ کو شروع ہی سے کتاب بہت پسند آئی، اسے نہایت آسان اور سلیس زبان میں لکھا گیا تھا۔
بادشاہ نے بیماریوں کی علامات کے بارے میں پڑھا پھر ان کے آسان ترین علاج کے بارے میں مطالعہ کیا اور جن ادویہ کے استعمال میں جن چیزوں کا پرہیز تھا، انہیں بھی غور سے پڑھا۔ آخر وہ ایک ایسے باب پر پہنچا جس میں لکھا ہوا تھا کہ کیا کیا چیزیں کھانے کے بعد کن کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے، اس کے بعد لکھا گیا تھا کہ اگر دو متضاد چیزیں کھالی جائیں تو ان سے کون کون سے بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور انسان کن کن تکالیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
یہ باب پڑھ کر بادشاہ بہت حیران ہوا، وہ سوچنے لگا کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ دو متضاد چیزیں کھالینے سے آدمی بیماری ہوجائے، ایک جگہ لکھا تھا کہ اگر تربوز کھالینے کے فوراً بعد دودھ پی لیا جائے تو شدید درد قولنج یعنی انتڑیوں کے درد کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اسے یہ بات ناممکن لگی، اس نے سوچا کہ حکیم صاحب تو اب اس دنیا میں نہیں رہے، ان کے بیٹے کو بلا کر دریافت کیا جائے کہ حکیم صاحب کے دعوے میں کس حد تک صداقت ہے۔
دوسرے روز بادشاہ سلامت نے شاہی حکیم کے بیٹے کو بلایا اور اس سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کیا کیوں کہ وہ خود بھی ممتاز حکیم تھا۔
بیٹے نے کہا۔ بادشاہ سلامت کا اقبال بلندد ہو، آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد ایک لائق اور تجربہ کار حکیم تھے انہوں نے جو کچھ تحریر کیا وہ ضرور تجربے کی کسوٹی پر پورا اترے گا۔
بادشاہ نے کہا، ہم اسے آزما کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ حکیم صاحب کے بیٹے نے کہا کہ آپ صبح کسی شخص کو طلب فرمائیں اسے یکے بعد دیگرے دونوں چیزیں کھلائیں اور پھر اس کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیں۔ بادشاہ نے اس کی بات مان لی۔
صبح ہوتے ہی سپاہی ایک صحت مند کسان کو بادشاہ کے دربار میں لے آیا۔ بادشاہ نے حکیم صاحب کے بیٹے کو بھی بلالیا اور اسے کہا کہ کسان کو پہلے تربوز کھلایا جائے ۔اس کے بعد اسے دودھ پلایا جائے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ واقعی یہ درد قولنج میں مبتلا ہوتا ہے یا نہیں۔حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔
کسان کو پہلے تربوز کھلایا گیا۔ اس کے دو منٹ بعد اسے گرم گرم دودھ پلا کر ایک کرسی پر بٹھادیا گیا، ایک منٹ گزرا، پھر دو منٹ، پھر تین منٹ، پھر پانچ منٹ یہاں تک کہ آدھا گھنٹہ گزر گیا، لیکن کسان پر کسی قسم کا کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا۔
جب کسان سے پوچھا گیا کہ تمہیں کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہورہی تو اس نے کہا۔ بادشاہ سلامت، میں بالکل ٹھیک ہوں اور مجھے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں۔
بادشاہ نوجوان سے مخاطب ہوا اور بولا۔
تمہارے والد نے یہ عجیب بات لکھ دی۔اب تم نے بھی دیکھ لیا کہ کسان پر ان دونوں چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔
حکیم صاحب کا بیٹا سوچ میں پڑگیا۔ آخر تھوڑی دیر بعد بولا۔بادشاہ سلامت مجھے تین ماہ کی مہلت دی جائے۔ اسی عرصے کے دوران کسان میرے پاس رہے گا۔تین ماہ بعد میں آپ کے سوال کا جواب دوں گا۔ بادشاہ نے اس کی درخواست منظور کرلی۔
حکیم صاحب کا بیٹا کسان کو اپنے ساتھ گھر لے گیا اور اسی دن سے اسے شاہی کھانے کھلانے لگا، اسے نرم و ملائم کپڑے پہننے کے لیے دیے گئے اور سونے کے لیے بھی نرم اور انتہائی آرادم دہ بستر دیا گیا۔غرض کسان نہایت آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے لگا۔ جب کھانے کا وقت ہوتا تو اسے بڑے لذیذ کھانے پیش کیے جاتے کسان نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ایسے عمدہ کھانے کھاسکے گا اور عیش کی ایسی زندگی بسر کرے گا۔
آخر کار تین ماہ کا عرصہ پورا ہوگیا، حکیم نے سوچا کہ اب کسان کے مزاج کا امتحان لینا چاہیے۔ اس نے ایک رات اس کے بستر کی چادر کے نیچے مختلف جگہوں پر گندم کے دانے بکھیر دیے اور پلنگ کے ایک پائے کے نیچ گتے کے موٹے موٹے ٹکڑے کاٹ کر رکھے تاکہ دیکھا جائے، اسے نیند آتی ہے یا وہ بے چین ہوتا ہے۔
سونے کا وقت آیا تو کسان اپنے پلنگ پر جا کر لیٹ گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا بستر ناہمورا ہے اور اسے کوئی چیز چبھ رہی ہے وہ جس طرف بھی کروٹ لیتا اس کا یہی حال ہوتا۔ کمرے میں اندھیرا تھا، اسے نظر بھی کچھ نہیں آیا، اس نے ساری رات بے چین اور بے کل ہو کر کاٹی، دن نکلا تو اس نے شکر ادا کیا۔ ناشتے کے وقت حکیم نے کسان سے پوچھا۔کہو بھئی رات کیسی گزری۔کسان نے کہا۔ حکیم صاحب کچھ نہ پوچھیں، رات بہت بے چینی سے گزری۔ یوں لگتا تھا جیسے پلنگ اونچا نیچا ہو، کمر میں تمام رات کنکر چبھتے رہے، میری تو ساری رات آنکھ نہیں لگی۔
یہ سن کر حکیم نے سوچا کہ اب اس کا مزاج بدل چکا ہے۔ عیش کی زندگی نے اس کی طبعیت بدل دی ہے۔ وہ کسان جو تمام دن دھوپ میں کام کیا کرتا تھا آج اتنا نازک مزاج ہوچکا ہے کہ اسے گتے کے صرف دو ٹکڑوں سے پلنگ ناہموار محسوس ہونے لگا ہے اور باریک گندم کے دانے پتھروں کی طرح چبھنے لگے ہیں۔
حکیم اپنے کام سے مطمئن ہو کر کسان کو بادشاہ کے پاس لے گیا اور کہا کہ حضور اب آپ اس کا امتحان لیں۔
بادشاہ تو اسی انتظار میں تھا۔ اس نے فوراً تربوز اور دودھ لانے کا حکیم دیا۔ جب دونوں چیزیں آگئیں تو کسان کو پہلے تربوز کھلایا، پھر دودھ پلایا گیا۔ ابھی ایک منٹ بھی نہ گزرا تھا کہ کسان کے پیٹ میں شدید درد شروع ہوگیا اور تکلیف کی شدت سے وہ تڑپنے لگا۔ یہاں تک کہ اس کی حالت غیر ہوگئی۔ بادشاہ اس تبدیلی پر بہت حیران ہوا۔ اس نے حکیم سے پوچھا کہ اس کا کیا سبب ہے۔ اس نے کہا۔ حضور، بات یہ ہے کہ میرے والد نے یہ نسخے بہت سوچ سمجھ کر لکھے تھے، کتاب میں زیادہ تر نسخے بادشاہوں کے لیے لکھے گئے اور جو باتیں تحریر کی گئیں وہ شاہی مزاج کے مطابق تھیں۔
اب اس کسان کی بات سن لیں، پہلے یہ بڑا محنتی تھا، سخت محنت مشقت کیا کرتا اور اس کا معدہ لکڑ ہضم، پتھر ہضم تھا۔لیکن جب اسے عیش و عشرت میں رکھا گیا تو یہ نرم اور نازک مزاج ہوگیا، شاہی کھانے کھا کھا کر اس کا معدہ پہلے جیسا نہیں رہا، آج آپ نے دیکھ لیا کہ تربوز اور دودھ نے اس پر کتنی جلدی اثر کیا اور یہ درد اور تکلیف کی وجہ سے تڑپنے لگا، یہ صرف اور صرف آرام طلبی اور محنت نہ کرنے کا نتیجہ ہے، کسان جب تک محنت کرتا اور سادہ زندگی بسر کرتا رہا، وہ بیماریوں سے دور رہا لیکن جب وہ محنت ترک کرکے عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے لگا، اس کی طبیعت میں نزاکت آگئی اور وہ بہت جلد بیمار ہوگیا۔
بادشاہ نے حکیم کے بیٹے کی بات مان لی اور کسان کے علاج کا حکم دے دیا۔


Download

Tuhfa-e-Garma Maa Sharbat Sazi, Hakim Abdullah, Medicine, تحفہ گرما مع شربت سازی, حکیم عبد اللہ, طب,

 Tuhfa-e-Garma Maa Sharbat Sazi, Hakim Abdullah, Medicine, تحفہ گرما مع شربت سازی,  حکیم عبد اللہ, طب,


پیاس کی شدت۔ یہ مرض زیادہ تر موسم گرما میں ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لبوں پر یہی شکایت ہوتی ہے کہ پیاس نے تنگ کر رکھا ہے۔ اس کے علاج کے لیے جتنے بھی مشروبات پیئے جائیں پیاس اتنی ہی بھڑکتی ہے۔ لوگ عام طور پر برف کا استعمال کرتے ہیں لیکن برفاب پینے سے تھوڑی دیر بعد پیاس پھر شروع ہو جاتی ہے اور اس طرح سارا دن پانی کی نذر ہو جاتا ہے۔  اس کے اسباب۔ گرم اشیاء کا استعمال، گرمی میں چلنا، بخار کی شدت، معدہ کی جلن، سوء ہضم، ذیابیطس، جگر اورگردوں کی حرارت وغیرہ اس کے اسباب ہیں۔ پیاس کی شدت سے نجات حاصل کرنے کے لئے چند نسخہ جات درج ذیل ہیں بنائیں اور فائدہ اٹھائیں۔  جب گرمی کی وجہ سے بار بار پیاس لگتی ہو، منہ اور زبان خشک ہو رہے ہوں تو اس وقت دل بہت بے چین ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر لیموں کو چوستے رہنے سے پیاس دور ہو جاتی ہے کیوں کہ لیموں کے رس منہ میں جانے سے لعاب دھن فورا آجاتا ہے۔



Download

Kanz-ul-Mujarrabat, Hakim Abdullah, Medicine, طب, کنز المجربات,حکیم عبد اللہ,

 Kanz-ul-Mujarrabat, Hakim Abdullah, Medicine, طب, کنز المجربات,حکیم عبد اللہ,


تعارف کتاب :-
دور حاضر کی اہم ترین طبی تصنیف کنزالمجربات (۳ حصے) استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہؒ(جہانیاں والے) ¤ ۱۹۲۵ سے اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ بکنے والی واحد طبی کتاب۔ یہ کتاب تعریف و تعارف سے مستغنی ہے۔ فن حکمت سے ذرا سی شدبد رکھنے والا شخص بھی اس کتاب کو ایک عزیز دوست کے طور پر پہچانتا ہے۔ استاذ الحکمائؒنے علم الامراض کی بے پناہ وسعتوں اور بہترین مجربات کی گہرائیوں کو انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں اس طرح بیان کیا ہے جیسے کوزے میں دریا بند کر دیا ہو۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد بلامبالغہ لاکھوں افراد اپنا اور اپنے احباب کا علاج کر چکے ہیں اور ہزاروں افراد نے حکمت کو بطور پیشہ اختیار کیا ہے۔ اس گراں قدر تصنیف کی عزت افزائی کے طور پر اس کا ایک نسخہ لندن لائبریری نے محفوظ کر لیا ہے۔ طبیب حضرات، کم تعلیم یافتہ اصحاب، طبی امداد سے خالی دور دراز قریوں میں بسنے والے اور خانہ دار مستورات کے لیے یکساں مفید ہے۔ سر سے پائوں تک تمام امراض کی تشریح، اسباب، علامات اور مجرب المجرب نسخے۔ ہر حصہ اپنی جگہ ایک مکمل کتاب۔
🌟کنزالمجربات 3 علیحدہ جلدوں اور یکجا مجلد بھی دستیاب ہے۔ جلد اول ۵۳۹ نسخہ جات، جلد دوم ۳۶۳ نسخہ جات جلد سوم ۵۷۸ نسخہ جات.




Download

Kanz-ul-Mufradat, Hakim Abdullah, Medicine, کنز المفردات, حکیم عبد اللہ, طب,

 Kanz-ul-Mufradat, Hakim Abdullah, Medicine, کنز المفردات, حکیم عبد اللہ, طب,







تعارف کتاب :-

دور حاضر کی اہم ترین طبی تصنیف کنزالمجربات (۳ حصے) استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہؒ(جہانیاں والے) ¤ ۱۹۲۵ سے اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ بکنے والی واحد طبی کتاب۔ یہ کتاب تعریف و تعارف سے مستغنی ہے۔ فن حکمت سے ذرا سی شدبد رکھنے والا شخص بھی اس کتاب کو ایک عزیز دوست کے طور پر پہچانتا ہے۔ استاذ الحکمائؒنے علم الامراض کی بے پناہ وسعتوں اور بہترین مجربات کی گہرائیوں کو انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں اس طرح بیان کیا ہے جیسے کوزے میں دریا بند کر دیا ہو۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد بلامبالغہ لاکھوں افراد اپنا اور اپنے احباب کا علاج کر چکے ہیں اور ہزاروں افراد نے حکمت کو بطور پیشہ اختیار کیا ہے۔ اس گراں قدر تصنیف کی عزت افزائی کے طور پر اس کا ایک نسخہ لندن لائبریری نے محفوظ کر لیا ہے۔ طبیب حضرات، کم تعلیم یافتہ اصحاب، طبی امداد سے خالی دور دراز قریوں میں بسنے والے اور خانہ دار مستورات کے لیے یکساں مفید ہے۔ سر سے پائوں تک تمام امراض کی تشریح، اسباب، علامات اور مجرب المجرب نسخے۔ ہر حصہ اپنی جگہ ایک مکمل کتاب۔

کنزالمجربات 3 علیحدہ جلدوں اور یکجا مجلد بھی دستیاب ہے۔ جلد اول ۵۳۹ نسخہ جات، جلد دوم ۳۶۳ نسخہ جات جلد سوم ۵۷۸ نسخہ جات.


Download

Tuesday, June 8, 2021

Khawas-e-Endrine, Citrullus Colocynthis, Bitter Apple, Bitter Guard, Bitter Cocumber, Bitter Guard, Hakim Abdullah, Medicine, خواص اندرائن, حکیم عبد اللہ,طب,

 Khawas-e-Endrine, Citrullus Colocynthis, Bitter Apple, Bitter Guard, Bitter Cocumber, Bitter Guard, Hakim Abdullah, Medicine, خواص اندرائن, حکیم عبد اللہ,طب,


Citrullus colocynthis, with many common names including colocynth, bitter apple, bitter cucumber, desert gourd, egusi, vine of Sodom, or wild gourd, is a desert viny plant native to the Mediterranean Basin and Asia, especially Turkey (especially in regions such as İzmir), and Nubia.

It resembles a common watermelon vine, but bears small, hard fruits with a bitter pulp. It originally bore the scientific name Colocynthis citrullus.

C. colocynthis is a desert viney plant that grows in sandy, arid soils. It resembles the watermelon, which is in the same genus. It is native to the Mediterranean Basin and Asia, and is distributed among the west coast of northern Africa, eastward through the Sahara, Egypt until India, and reaches also the north coast of the Mediterranean and the Caspian Seas. It grows also in southern European countries and on the islands of the Grecian archipelago. On the island of Cyprus, it is cultivated on a small scale; it has been an income source since the 14th century and is still exported today.

 

It is an annual or a perennial plant in the wild in Indian arid zones, and survives under extreme xeric conditions. In fact, it can tolerate annual precipitation of 250 to 1500 mm and an annual temperature of 14.8 to 27.8 °C. It grows from sea level up to 1,500 metres (4,900 ft) above sea level on sandy loam, subdesert soils, and sandy sea coasts with a pH range between 5.0 and 7.8.

Roots and stems

The roots are large, fleshy, and perennial, leading to a high survival rate due to the long tap root. The vine-like stems spread in all directions for a few meters looking for something over which to climb. If present, shrubs and herbs are preferred and climbed by means of auxiliary branching tendrils.

Leaves

Very similar to watermelon, the leaves are palmate and angular with three to seven divided lobes.

 

Flowers

The flowers are yellow and solitary in the axes of leaves and are borne by yellow-greenish peduncles. Each has a subcampanulated five-lobed corolla and a five-parted calyx. They are monoecious, so the male (stamens) and the female reproductive parts (pistils and ovary) are borne in different flowers on the same plant. The male flowers’ calyx is shorter than the corolla. They have five stamens, four of which are coupled and one is single with monadelphous anther. The female flowers have three staminoids and a three-carpel ovary. The two sexes are distinguishable by observing the globular and hairy inferior ovary of the female flowers.

 

A C. colocynthis female flower

 

Iranian C. colocynthis

 

Ripe fruit of C. colocynthis

Fruits

The fruit is smooth, spheric with a 5– to 10-cm-diameter and extremely bitter taste. The calyx englobe the yellow-green fruit which becomes marble (yellow stripes) at maturity. The mesocarp is filled with a soft, dry, and spongy white pulp, in which the seeds are embedded. Each of the three carpels bears six seeds. Each plant produces 15 to 30 fruits.

 

Seeds

The seeds are grey and 5 mm long by 3 mm wide. They are edible but similarly bitter, nutty-flavored, and rich in fat and protein. They are eaten whole or used as an oilseed. The oil content of the seeds is 17–19% (w/w), consisting of 67–73% linoleic acid, 10–16% oleic acid, 5–8% stearic acid, and 9–12% palmitic acid. The oil yield is about 400 L/hectare. In addition, the seeds contain a high amount of arginine, tryptophan, and the sulfur-containing amino acids.

 


Download





Khawas-e-Keekar, Characterstics of Acacia Senegal, Gum Arabic Tree, Hakim Abdullah, Medicine, خواص کیکر, حکیم عبد اللہ, طب,

 Khawas-e-Keekar, Characterstics of Acacia Senegal, Gum Arabic Tree, Hakim Abdullah, Medicine, خواص کیکر, حکیم عبد اللہ, طب,






Acacia arabica, Acacia senegal, Acacia verek, Arbre à Gomme Arabique, Bum Senegal, Bomme Arabique, Bomme de Senegal, Bummae Momosae, Goma Arábiga, Gomme Acacia, Gomme Arabique, Gomme d'Acacia, Gomme Sénégal, Gommier Blanc, Gum Acacia, Gum Arabic, Khadir, Kher, Kumatia, Mimosa senegal, Senegalia senegal.

Acacia has been used in medicines, baking ingredients, tools, and woodwork for centuries. It has a long history in civilizations as ancient as the Egyptians and the aboriginal tribes of Australia. These kingdoms and tribes used acacia in surprisingly diverse ways, from making desserts to treating hemorrhoids. The first species ever discovered was given the name Acacia nilotica by the Swedish scientist Carl Linnaeus in the 1700s, and since then, nearly 1,000 species have been added to the Acacia genus.

Acacia still sits on grocery store shelves in crushed, ground, and whole form. The name Acacia itself refers to a genus of plant that includes many different types of plants, such as trees and shrubs. They can be used in a variety of applications. The acacia that you can buy today may come from one or more of these species. Most of the time, the acacia in food or medicine is Acacia senegal (L.) Willd. This type of acacia is usually in gum form, and it will say acacia gum on labels and packaging.

Relieves pain and irritation

Acacia gum has a naturally sticky texture. Materials with this property are often used to reduce irritation and inflammation. The gum has been shown to be especially effective in easing stomach or throat discomfort.


Download


#Benefits of Gum Arabic Tree

#Benefits of Acacia Senegal

#acacia benefits