علوم الإسلام

Showing posts with label Fiction. Show all posts
Showing posts with label Fiction. Show all posts

Friday, May 21, 2021

Nafsanay, Qudratullah Shahab, Fiction, افسانے, قدرت اللہ شہاب, نفسانے,

 Nafsanay, Qudratullah Shahab, Fiction, افسانے, قدرت اللہ شہاب, نفسانے,




لینے دینے کے بیوپار میں یا تو بنیئے کو مہارت ہے یا ملا اور پنڈت کو، دونوں کے خون میں اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے کی رمق ہے، اگرچہ ان کا لینے والا ہاتھ ان کے دینے والے ہاتھ سے عموماً درازی مائل ہوتا ہے۔ لیکن یہ جو ایک معلق قسم کے لے دے انسانی سرشت میں گویا ازل سے موجزن ہے، اسے نہ لینے سے سروکار ہے نہ دینے سے البتہ تو تو میں میں والی گردان میں جتنی بامحاورہ شگفتیاں نکل سکتی ہیں، وہ بے شک اسی ایک جذبے کے محتاج ہیں۔ غالباً ہماری پہلی کے دے کا آغاز اس وقت ہوا جب اماں حوا اور باوا آدم بیک بینی و دوگوش جنت کے باغیچوں سے گول کئے گئے۔ میاں ابلیس کے ہونٹوں پر ضرور مسکراہٹ پھیل گئی ہوگی، جب اس کے ٹھکرائے ہوئے خاکی مسجود کی زبان پہلی بار لذت ممنوعہ


Download

Maa Ji, Qudratullah Shahab, Fiction, ماں جی, قدرت اللہ شہاب, افسانے

 Maa Ji, Qudratullah Shahab, Fiction, ماں جی, قدرت اللہ شہاب, افسانے




منشی پریم چند سے لے کر اب تک کے افسانہ نگاروں کے درمیاں انداز بیان کی متعدد مماثلتیں موجود ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس دور کے افسانہ نگاروں کی انفرادیتیں آپ میں اس طرح پیوست ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ پہچاننا دشوار ہے۔ میں صرف یہ کہ رہا ہوں کہ ایک ہی دور میں سانس لینے اور ایک ہی قسم کے مسائل سے نمٹنے کی وجہ سے ان افسانہ نگاروں کے اسلوب نگارش کی سرحدیں بعض مقامات پر ایک دوسرے کو چھوتے ہوئی گذر جاتی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب بھی افسانہ نگاروں کی اسی پود سے تعلق رکھتا ہے جن کے مسائل یکساں تھے اور جو حقیقت پسندی کی راہ سے ان مسائل سے نمٹتے تھے، مگر کم سے کم "ماں جی" کے مطالعہ سے تو مجھ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ شہاب کا انداز بیان اپنے ہم عصروں میں سے کسی سے مماثل نہیں ہے۔