Posts

Showing posts with the label Bano Qudsia

Footpath Ki Ghaas, Bano Qudsia, Novel, فٹ پاتھ کی گھاس, ناول, بانو قدسیہ,

Image
 Footpath Ki Ghaas, Bano Qudsia , Novel, فٹ پاتھ کی گھاس, ناول, بانو قدسیہ , ’’ خواہشات تو سبھی کے دل میں ہوتی ہیں۔ سب ان کی تکمیل چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ ان تک رسائی کے لیے کون سا راستہ جاتا ہے۔ اسی راستے کے انتخاب میں تو انسان کا پتہ چلتا ہے۔ اسی انتخاب میں انسان کی بڑائی یا اس کا چھوٹا پن چھپا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ وہ سونے کا ہے یا پیتل کا۔ ہیرو بھی ہیروئن تک پہنچنا چاہتا ہے اور ولن بھی… صرف راستے کے انتخاب سے ایک ہیرو ٹھہرتا ہے اور دوسرا ولن۔ ‘‘   کسی بھی رائٹر کی تحریر سے اس کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے، یہ کمالِ خوبی بانو قدسیہ میں بھی تھی، شاید پنگھوڑے سے ملنے والی تربیت کا اثر تھا یا اپنے شریک حیات اشفاق احمد کی رفاقت ، جس نے بانو قدسیہ کا نام ایسے مصنفین سے جوڑ دیا جو احترام ِ انسانیت کی بلندیوں پر ہیں۔   1928 ء میں فیروز پور، بھارتی پنجاب میں پیدا ہونے والی بانو نے قیام پاکستان کے بعد اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ ہجرت کی اور لاہور کو نیا گھر بنایا۔انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے اُنہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کردیا تھا۔ جب پانچویں ج

Ibn-e-Adam, Bano Qudsia, Novel, ابن آدم, بانو قدسیہ, ناول,

Image
 Ibn-e-Adam, Bano Qudsia , Novel, ابن آدم, بانو قدسیہ , ناول, The son of Adam passes three types of tests day and night. But he doesn't learn a lesson from one of them First exam His age daily It's getting less And the day he gets less than his age he doesn't even care about it And when his wealth decreases something, he is worried about it. While the mall comes back And age does not come back. Second exam Every day he is praying to Allah Eats livelihood If he is halal then There will be a question about this And if it is forbidden, it will be punished. And that is the result of the calculations. Don't know about it rd exam Everyday he somewhat It gets closer to the Hereafter. And he goes a little far away from this world Yet He does not care for the lasting hereafter as much as He cares for this mortal world. While he still doesn't know that his return is to the highest heaven. The depression of fire has become deep.. O Allah, do not make this world the biggest gri

Parwa, Bano Qudsia, Novel, پروا, بانو قدسیہ, ناول,

Image
 Parwa, Bano Qudsia , Novel, پروا, بانو قدسیہ , ناول, " میں نے جان بوجھ کرتمہاری بے عزتی کی تھی۔کل۔تمہارے مزہب پر حملہ کیا تھا " صوفیہ نے ہنس کر کہا،"مزہب پر، تو کیا ہمارے مزہب دو ہیں کہ تم حملہ کرتے " " پھر بھی ہمارے یہاں کے لوگ تو کچھ یہی سمجھتے ہیں کہ" ۔۔۔۔۔ اختر رُک گیا۔ صوفیہ نے سر جھکا کر بڑی افسردگی سے کہا"اسی سمجھ کے پھیر نے تواتنے فاصلے قائم کر دئے ہیں۔ " " میں ان کے حصے کی بھی تم سے معافی چاہتا ہوں " مکئ کے دانے چٹخنے کی آواز آئ۔ " اور میں ملکۂ بنگال اپنے لوگوں کی طرف سے تم سب کو معاف کرتی ہوں "   اگر قاری اس ناول کو پڑھ کر خود کو تحت الثری میں اترتا محسوس نہی کرتا تو میرے خیال سے یہ ناول اس شخص کے لیے لکھا ہی نہی گیا۔   سادہ خیالی کے لباس میں ایک کثیف کہانی !   جوش نے سقوطِ حیدرآباد کے بعد جب اس سرزمین پر دوبارہ قدم رکھا تو انہوں نے سرزمینِ دکن سے اپنی بےپناہ محبت ، اہلِ دکن کے ساتھ اپنی وابستگی ، والئ ریاست سے شکوہ ، اہلِ دکن سے اپنی بےاندازہ محبت اور حیدرآباد کے ذرہ ذرہ سے جذباتی وابستگی کو

Saman E Wajood, Bano Qudsia, Novel, سامان وجود, بانو قدسیہ, ناول,

Image
 Saman E Wajood, Bano Qudsia , Novel, سامان وجود, بانو قدسیہ , ناول, بانو قدسیہ صاحبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ کا کام ہی آپ کی پہچان ہے۔ مشہورِ زمانہ ناول “راجہ گدھ” کی آپ مصنفہ ہیں۔ آپ اپنے مخصوص فلسفے، سوچ انداز اور دھیمے پن کی وجہ سے دیگر تمام مصنفین سے ممتاز اور نمایاں نظر آتی ہیں۔ تاہم ایک المیہ یہ بھی ہے کہ آپ پاپولر فکشن پڑھنے والے قارئین میں زیادہ نہیں پڑھی جاتیں۔ عموماً لوگوں کو آپ کا انداز مشکل اور بوریت بھرا محسوس ہوتا ہے جس میں کہانی کم اور پیغام زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم ہماری نظر میں یہی بانو جی کی خوبصورتی ہے۔ کہانیاں تو بہت پڑھنے کو مل جاتی ہیں لیکن کہانی کے ساتھ پیش کیا گیا پیغام ہی وہ چیز ہے جو کہانی کو خوبصورت اور یادگار بنا دیتی ہے۔ بانو صاحبہ کی تحاریر کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ معاملات کے ایسے پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ نگاہ و نظر میں گہرائی لانے اور سوچ کی سمت درست رکھنے میں آپ کی تحاریر کسی رہنما سے کم نہیں۔ بانو صاحبہ کی تحاریر کا حق یہ ہے کہ انہیں ایک نشست میں پڑھنے کی کوشش نہیں کی جائے، ب

Piya Naam Ka Diya, Bano Qudsia, Novel, پیا نام کا دیا, بانو قدسیہ, ناول,

Image
 Piya Naam Ka Diya, Bano Qudsia , Novel, پیا نام کا دیا, بانو قدسیہ , ناول, اردو کی مقبول و معروف ناول و افسانہ نگار بانو قدسیہ اپنے عہد کی قدآور مصنفہ تھیں۔ وہ معروف ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ تھیں۔ ان کی کہانیاں، افسانے اور ناول معاشرے کی عکاس ہیں۔ ان کی تحریروں میں حقیت پسندی اور معاشرتی مسائل کی بھر پورجھلک نظر آتی ہے۔ بانو قدسیہ لاہور میں 4 فروری 2017ء کو انتقال کر گئیں تھیں، ان کی عمر 88 برس تھی۔ وہ کئی روز علیل رہیں اور ہسپتال میں زیر علاج تھیں کہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔ دنیا ئے ادب کا روشن ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا۔ ادب کی دنیا میں بانو قدسیہ کا نام بطور بانو آپا اور اردو ادب کی ماں کے طو رپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئی تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے جن کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا پہلے ہی انتقال ہو چکا

Mard e Abresham, Bano Qudsia, Biography, مرد ابریشم, سوانح حیات,بانو قدسیہ,

Image
 Mard e Abresham, Bano Qudsia , Biography, مرد ابریشم, سوانح حیات, بانو قدسیہ , مرد ابریشم بانو قدسیہ   “ مرد ابریشم” بانو قدسیہ کے قلم سے نکلی ہوئی ایک نان فکشن تحریر ہے جس کا موضوع “قدرت اللہ شہاب” ہیں۔ قدرت اللہ شہاب صاحب کے تعارف کے بارے میں بتانے کی ہمیں ضرورت نہیں، آپ اپنا تعارف آپ ہیں۔ لیکن اگر کوئی قاری ان سے ناآشنا ہیں تو آپ کی لکھی ہوئی کتاب شہاب نامہ آپ سے واقفیت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور اگر مزید تعارف چاہئے تو بانو جی کی “مرد ابریشم” کا مطالعہ بھی مددگار ثابت ہوگا۔   مرد ابریشم، قدرت اللہ شہاب صاحب کے بارے میں ہے لیکن یہ کوئی خاکہ نہیں ہے، یہ کوئی سوانح حیات بھی نہیں ہے، بلکہ اس میں بانو صاحبہ نے قدرت اللہ شہاب کے بارے میں اپنے تاثرات و مشاہدات قلم بند کئے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب، ان کے مرحوم شوہر اشفاق احمد صاحب کے قریبی دوستوں میں تھے جن کی وجہ سے بانو جی کو بھی انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے بچوں اور ملنے جلنے والوں کی بھی قدرت صاحب سے تعلقات بن گئے۔ اس کتاب میں انہی سب باتوں کا ذکر ہے۔ کتاب کے آغاز میں بانو جی نے اپنا لکھا ہوا ایک خاکہ شامل کیا ہے جو انہوں

Ek Din, Bano Qudsia, Novel, ایک دن, بانو قدسیہ, ناول,

Image
 Ek Din, Bano Qudsia , Novel, ایک دن, بانو قدسیہ , ناول, ٹرین حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی تھی۔   اس کے ڈبے میں سے وہ رنگین اور نازک صراحیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ جن کی مٹی کا رنگ نارنجی اور بیل بوٹوں کا نمونہ خالص سندھی تھا۔ دو امریکن میمیں ہاتھوں میں دو دو صراحیاں تھامے دوکاندار سے سودا کر رہی تھیں۔ اُن کے لکیردار فراک گھٹنوں سے نیچے تنگ اور بغلوں تلے بہت زیادہ کھلے تھے۔ آستینیں غائب تھیں اور گرمی سے جُھلسی گردنوں اور سینوں کا کھلا حصہ بہت سرخ نظر آ رہا تھا۔     معظم نے ان کے ہاتھوں میں تھامی ہوئی صراحیوں کو بڑی للچاہٹ سے دیکھا اور اس کا جی چاہنے لگا کہ کاش وہ بھی ایک نازک صراحی زرقا کے لیئے خرید لے۔ زرقا خود بھی تو ایک ایسی صراحی تھی ممولے سی گردن، پھیلے ہوئے کولہے اور نازک نازک بازو اور پتلے سے ہاتھ - اس کا دہن اتنا لطیف اور ننھا تھا کہ اس پر ذرا سی مسکراہٹ بھی دباؤ ڈال دیتی۔     اس وقت ان ہی ہونٹوں سے نکلی ہوئی اک چھوٹی سی ‘ہاں‘ اُسے میلوں کا سفر کرنے پر مجبور کر رہی تھی لیکن صراحی خریدنے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد اس کے پاس بمشکل اتنے پیسے بچے تھے جن کے سہارے و

Tauba Shikan, Bano Qudsia, Novel, توبہ شکن, ناول, بانو قدسیہ

Image
 Tauba Shikan, Bano Qudsia , Novel, توبہ شکن, ناول, بانو قدسیہ توبہ شکن بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔   ’’ مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی ہو کسی نے۔ ‘‘   بی بی کی آنکھیں سرخ ساٹن کی طرح چمک رہی تھیں اور سانسوں میں دمے کے اکھڑے پن کی سی کیفیت تھی۔ پاس ہی پپو بیٹھا کھانس رہا تھا۔ کالی کھانسی نا مراد کا حملہ جب بھی ہوتا بیچارے کا منہ کھانس کھانس کر بینگن سا ہو جاتا۔ منہ سے رال بہنے لگتا اور ہاتھ پاؤں اینٹھ سے جاتے۔ امی سامنے چپ چاپ کھڑکی میں بیٹھی ان دنوں کو یاد کر رہی تھیں جب وہ ایک ڈی سی کی بیوی تھیں اور ضلع کے تمام افسروں کی بیویاں ان کی خوشامد کرتی تھیں۔ وہ بڑی بڑی تقریبوں میں مہمان خصوصی ہوا کرتیں اور لوگ ان سے درخت لگواتے، ربن کٹواتے،انعامات تقسیم کرواتے۔   پروفیسر صاحب ہر تیسرے منٹ مدھم سی آواز میں پوچھتے ’’لیکن.... آخر بات کیا ہے بی بی.... ہوا کیا ہے ....   وہ پروفیسر صاحب کو کیا بتاتی کہ دوسروں کے اصول اپنانے سے اپنے اصول بدل نہیں جاتے، صرف ان

Na Qabil-e-Zikar, Bano Qudsia, Novel, ناول, ناقابل ذکر, بانوقدسیہ,

Image
 Na Qabil-e-Zikar, Bano Qudsia , Novel, ناول, ناقابل ذکر, بانوقدسیہ , ناقابل ذکر بہت سی قابل ذکر باتوں کا مجموعہ ہے ۔الفاظ کی وہی کاٹ اور خیالات کا وہی بے باکانہ اظہار جو بانو جی کے قلم کا خاصہ ہے۔ میں نے سب سے بہتر افسانہ “روس سے معذرت کے ساتھ” کو پایا جس میں نظام اشتراکیت کی تمام ممکنہ خوبیوں کے باوجود اس کے بے اثر ہونے کی وجوہات پہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ "Naqabile Zikr" mai kai "qabile zikr" khayalaat ka izhaar tha. Najanay maa je ny isayy "Naqabile Zikr" kiun qarar dia..? Shayed gehri qabile zikr baten aksar auqaat naqabile zikr howa karte hain q k unhe gosh guzar karny k liye matloba samiyeen moyassar nahi hotay? Download