Posts

Showing posts with the label غذا

Juice Therapy, Diet, Medicine, جوس تھراپی, طب, غذا, Dr. S. K. Sharma, Tahir Mansoor Farooqui, ڈاکٹر ایس کے شرما، طاہر منصور فاروقی,

Image
Juice Therapy, Diet, Medicine, جوس تھراپی, طب, غذا, Dr. S. K. Sharma, Tahir Mansoor Farooqui, ڈاکٹر ایس کے شرما، طاہر منصور فاروقی,  مشروبات سے علاج اگچہ طریقہ ہائے علاج کے برعکس منفی ردعمل اور ناخوشگوار ضمنی اثرات سے کم و بیش پاک ہے لیکن اعتدال و توازن ہر شعبہ میں فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے مشروبات کو مناسب مقدار میں نہ استعمال کیا جائے تو بلاشبہ ردعمل کا امکان موجود ہے۔ چونکہ ہر فرد کا جسمانی نظام مختلف رد عمل دے سکتا ہے اس لئے جوسز کا اتنخاب، مقدار اور تکرار کا تعین سوچ سمجھ کر کیا جائے۔   صحت مند افراد میں مقدار اور تکرار کی کمی بیشی مسئلہ نہیں بنتی لیکن مریضوں کے لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ ایک عمومی اصول یاد رکھیں۔ پھلوں کے جوسز گلاس پھر استعمال ہو سکتے ہیں جبکہ سبزیوں کے جوسز ہمیشہ ایک دو کھانے کے چمجے فی خوراک استعمال کئے جاتے ہیں۔ مناسب تریں لائحہ عمل یہی ہے کہ جوسز کے استعمال کرنے سے پہلے کسی ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ لے لیں۔ اور پھر علاج کے دوران بھی اس کی رہنمائی حاصل کریں۔ Download

Achar - Halwey - Murabbay - Chatnian, Kutab Khana Tabib, Diet, کتاب، حلوے، مربے، چٹنیاں, کتب خانہ طبیب, غذا,

Image
 Achar - Halwey - Murabbay - Chatnian, Kutab Khana Tabib, Diet, کتاب، حلوے، مربے، چٹنیاں, کتب خانہ طبیب, غذا,  وہ سونٹھ جس میں ریشہ نہ ہو لیکر ایک ہنڈیا میں ڈالدو اسپر بابو دیکر ہنڈیاں کو مونھ تک بالا سے پھر دو پھر بالو کو پانی سے تر کردو اسی طرح ہر روز بالو کو تر کردیا کرو، اکیس روز تک علی التقاتر تر رکھنا چاہئے۔ پھر بالو ہٹا کر سونٹھ کو نکال کر دھو کر صاف کرو اور کسی نوکدار شئے سے یا چاقو سے اس پر پچھنی لگائیں تب شہد اور پانی کا قوام تیار کریں اور ساتھ ہی قوام کے اسکو بھی ڈالکر جوش دیں جب قوام پک جاوےتب اتار کر کسی مرتبان میں ڈالکر مونھ بند کر کے رکھیں۔ فائدہ: قوام تیار کرنے کی یہ پہچان ہے کہ لعاب کی طرح گاڑھا ہو جاوے اور تار بندھنے لگے۔ اگر تار نہ بھی بند ہے تو کچھ مضائقہ نہیں مگر پانی قریبا 1/3 یا نصف کے جل جاوے تاکہ پختگی کو پہنچ جاوے ورنہ کچا قوام تھوڑے دنوں میں خراب ہو جاتا ہے۔ سونٹھ کو پچھنے سے یہ مطلب ہے کہ میٹھا اس کے جسم میں نفوذ کر جاوے۔ یہ پچھنا کچھ سونٹھ ہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہر ایک میوے وغیرہ کو جس کا مربہ ڈالنا منظور ہوتا ہے پچھا کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ چاشنی اسکے تما