Posts

Showing posts with the label سیاسیات

Jabr or Jamhuriat by Begum Kalsoom Nawaz - جبر اور جمہوریت از بیگم کلثوم نواز

Image
 Jabr or Jamhuriat by Begum Kalsoom Nawaz - جبر اور جمہوریت از بیگم کلثوم نواز میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں فوجی حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں جب ننگی سنگینوں کے سامنے ان کے شوہر اور دیور و بچوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور

Punjab ka Muqaddama by Hanif Ramay - پنجاب کا مقدمہ از حنیف رامے

Image
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی جناب محمد حنیف رام ے نے پنجاب کا مقدمہ نامی کتاب کے پیش لفظ میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں یہ کتاب اردو میں اس لئے لکھنا پڑ رہی ہے کہ پڑھے لکھے پنجابیوں نے پنجابی کو چھوڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کتاب لکھے جانے کے وقت موجود پانچ کروڑ پنجابیوں کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجابیوں کو وہ نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے استحکام اور یکجہتی کی علامت سمجھتے ہیں۔   1972 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد میں حنیف رامے پنجاب حکومت میں مشیر خزانہ بنے اور بعد میں مارچ 1974 میں وزیراعلی پنجاب منتخب ہو گئے۔ چار جولائی 1974 کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ حنیف رامے چار جولائی 1975 کو سنیٹر منتخب ہوئے لیکن چند ماہ بعد پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے الگ ہو گئے اور فورا پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے جہاں انہیں چیف آرگنائزر بنایا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف اخباروں میں زوردار مضامین لکھے جن میں ایک پمفلٹ ’بھٹو جی پھٹو جی’ بہت مشہور ہوا۔ ان کی زیرِ نظر کتاب پنجاب کا مقد

Chah-e-Yousuf se Sada by Yousuf Raza Gilani - چاہ یوسف سے صدا از سید یوسف رضا گیلانی

Image
 Chah-e-Yousuf se Sada by Yousuf Raza Gilani - چاہ یوسف سے صدا از سید یوسف رضا گیلانی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی ان ’نیب زدہ‘ سیاستدانوں میں سے ہیں جنہیں اور تو اور حکومتی پارٹی پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین بھی سیاسی قیدی قرار دے چکے ہیں۔ گیلانی کو بطور سپیکر (1993 تا 1997) قومی اسمبلی میں مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے الزام میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اٹھارہ ستمبر سال دو ہزار چار کو دس سال قید با مشقت اور دس کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ پابندِ سلاسل ہیں۔ اسی اسیری کے دوران انہوں نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’چاہِ یوسف سے صدا‘ تحریر کی ہے۔ کتاب کا عنوان الطاف حسین حالی کے اس شعر سے لیا گیا ہے : آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت یوسف رضا گیلانی خود شاعر تو نہیں لیکن شعری ذوق بہت اچھا رکھتے ہیں اور موقع کی مناسبت سے شعر کہنا ان کا خاصہ ہے۔ اسی وجہ سے ان کی پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو انہیں شاعر سمجھ بیٹھیں اور اپنی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پ

Haan Main Baghi Hoon by Javed Hashmi - ہاں میں باغی ہوں از جاوید ہاشمی

Image
  Haan Main Baghi Hoon by Javed Hashmi - ہاں میں باغی ہوں از جاوید ہاشمی   اس دور کے رسم رواجوں سے ان تختوں سے ان تاجوں سے جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں انسانی خون سے پلتے ہیں جو نفرت کی بنیادیں ہیں اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں   میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو   وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے قانون بدلتے رہتے ہیں اور مجرم پلتے رہتے ہیں ان چوروں کے سرداروں سے انصاف کے پہرے داروں سے   میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو   جو عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بناتے ہیں پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے   میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو   جو قوم کے غم میں روتے ہیں اور قوم کی دولت ڈھوتے ہیں وہ محلوں میں جو رہتے ہیں اور بات غریب کی کہتے ہیں ان دھوکے باز لٹیروں سے سرداروں سے وڈیروں سے   میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو   مذہب کے جو بیوپاری ہیں وہ سب سے بڑی بیماری

Takhta Dar Ke Sae Tale by Javed Hashmi - تختہ دار کے سائے تلے از جاوید ہاشمی

Image
  Takhta Dar Ke Sae Tale by Javed Hashmi - تخدار کے سائے تلے از جاوید ہاشمی یہ کتاب تحریر سے زیادہ خود کلامی پر مشتمل ہے۔ میں نے جتنے خطوط لکھے ہیں ان سب کے کردار حقیقی ہیں، واقعات کی صحت کا خیال اس لئے بھی ضروری تھا کہ میں نے انہی لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے کے لئے جانا ہے جن کا ذکر اس کتاب میں ہے۔ اگر کوئی بات خلاف واقع ہوئی تو جوابدھی مشکل ہو جائیگی اس لئے خود کلامی خود احتسابی میں تبدیل ہوگئی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حقیقت افسانے سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے صرف دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔  گزشتہ کئی صدیوں سے ہمارے مذہب اسلام کو تنگ دائروں میں محدود کر دیا گیا ہے میں خدا کی ذات پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں۔ میرا کامل یقین ہے کہ خدا انسانوں میں رہتا ہے۔ غریبوں کی بھلائی اور خوشنودی میں خدا کی خوشنودی شامل ہے۔ اشرف المخلوقات یا عظمت  انسان کا درس قرآن مجید میں ہر جگہ دیا گیا ہے۔ جب یہ فرمایا گیا کہ خدا اپنے حقوق معاف کر دے گا مگر انسان کے حقوق غضب کرنے والے کو معاف نہیں کرے گا۔ تو گویا ہماری بخشش کو انسانوں کی رضا مندی سے مشروط کردیا گیا۔ Download