Posts

Showing posts with the label حکیم کبیر الدین

Kitab-ul-Tashkhees, Health, Medicine, کتاب التشخیص, صحت, طب,Hakim Kabir-ud-Din, حکیم کبیر الدین,

Image
 Kitab-ul-Tashkhees, Health, Medicine, کتاب التشخیص, صحت, طب,Hakim Kabir-ud-Din, حکیم کبیر الدین, فن طب میں علم تشخیص کی کوئی مستقل کتاب اردو میں اب تک میرے نظر سے نہیں گذری جس سے ہمارے اطباء اپنے اصطلاحات (یونانی و عربی) میں اس اہم شعبہ کا مطالعہ کر سکیں۔ اس لئے میں نے اس ضروری فریضہ خدمت کو نہایت اہم سمجھا۔ اور اپنے دوست جناب حکیم عبد الواحد صاحب ناظم کو اس اہم کام کی طرف متوجہ کیا۔ اور اصطلاحات کے مشکل مرحلہ میں ان کی مدد کرتا رہا۔ حتی کہ یہ کتاب پایہ تکمیل تک پہونچی۔ مطالعہ کریں

Ilm-ul-Adwiya Nafeesi, Hakim Kabir-ud-Din, Health, Medicine,علم الادویہ نفیسی, حکیم کبیر الدین, صحت, طب,

Image
 Ilm-ul-Adwiya Nafeesi, Hakim Kabir-ud-Din, Health, Medicine,علم الادویہ نفیسی, حکیم کبیر الدین, صحت, طب,  جو چیزیں بدن انسان میں اپنی کیفیت سے اثر کرتی ہیں۔ وہ جب بدن انسان کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ اور بدن کی حرارت غزیز سے متاثر ہوتی ہیں۔ تو اس کی چند صورتیں ہیں۔ اگر وہ بدن انسان میں کوئی زائد کیفیت نہیں پیدا کر سکتیں بلکہ معتدل اسنان میں اس کے مزاج کے مناسب کوئی کیفیت نہیں پیدا کرسکتیں بلکہ معتدل انسان میں اس کے مزاج کے مناسب کوئی کیفیت پیدا کریں۔ تو انکو دواء معتدل کہتے ہیں۔ درجات ادویہ کے معلوم  کرنے کا جو طریقہ مصنف نے بتایا ہے۔ اس میں چند دیگر شرائط کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ 1۔ وہ دواء اپنی مقدار خوراک میں کھلائی جائے اس کی کثرت نہ کی جائے۔ 2 اس کا استعمال تکرار کے ساتھ بار بار نہ کیا جائے۔ 3 جس بدن میں اس کی آزمائش کی جائے وہ فی نفسہ معتدل ہو۔ ورنہ اگر بدن میں مثلاً حرارت کی کثرت ہو گی۔ اور دوسرے درجہ کی گرم دوا اسے کھلائ جائے گی۔ Download

Tarjuma Kabir, Urdu Translation of Sharah Asbab, Medicine, Hakeem Kabiruddin, ترجمہ کبیر, شرح اسباب کا اردو ترجمہ, طب, حکیم کبیر الدین,

Image
     Tarjuma Kabir, Urdu Translation of Sharah Asbab, Medicine, Hakeem Kabiruddin, ترجمہ کبیر, شرح اسباب کا اردو ترجمہ, طب, حکیم کبیر الدین, امراض چشم امراض طبقہ صلبیہ : طبقہ صلبیہ وہ (ریشہ دار مضبوط) پردہ یا طبقہ ہے، جو دماغی موٹی جھلی سے پیدا ہوا ہے۔ یہ جھلی بینائی کے پٹھے پر لپٹی ہوئی یا اس سے متصل ہوتی ہے۔ (یہ طبقہ تمام طبقات سے باہر ہوتا ہے، سامنے کی طرف اسی طبقہ سے قرنیہ بن جاتا ہے، جو تقریباً چھٹا حصہ ہوتا ہے)۔ بعض اطباء اس طبقہ کہ طبقہ شمار نہیں کرتے، بلکہ ایک جھلی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے طبقات چشم چھے ہوتے ہیں۔ (مگر اس کو طبقہ نہ کہنا غلط ہے)۔ طبقات چشم کے شمار میں مشرحین کا اختلاف عرصہ سے چلا آرہا ہے۔   بعض اطباء انہیں تین کہتے ہیں بعض پانچ اور بعض چھ، علاوہ ازیں بعض ایک، یا دو، یا چار یا سات بھی کہتے ہیں۔ مگر حقیقت میں  پہلے تین اقوال کی توجیہ درست ہو سکتی ہے۔ اور پچھلے تینوں اقوال کی تاویل موجہ طور پر گز نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ یہ اختلاف محض طرز بیان کا اختلاف ہے وہرنہ طبقات چشم میں ہر ایک مشرح نے اپنے طرز بیان سے سب کو بیان کیا ہے۔ مثلاً جو لوگ تین طبقات کہتے

Biyaz-e-Kabeer, بیاض کبیر, Medicine, طب, Hakim Kabiruddin, حکیم کبیر الدین,

Image
    Biyaz-e-Kabeer,  بیاض کبیر, Medicine, طب, Hakim Kabiruddin, حکیم کبیر الدین,  طب یونانی کی فلاح و بہبود اور اس کی مقبولیت اور ترقی کے ذرائع پر اگر ہم غورکریں تو بہت جلد اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ ہماری طب اور اطباء کی کامیابی کا بہت بڑا راز دواؤں کی خوبی اور انکی پاکیزگی میں مضمر ہے۔    لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے طب یونانی کے اس ضروری حصہ کی طرف ارباب فن نے اب تک بہت کم توجہ دی ہے۔ اس ضرورت کی اہمیت سے متاثر ہو کر میں نے بیاض کبیر کے دوسرے حصوں کی تکمیل  کے بعد فن دواسازی کے اصول و قواعد اور اعمال و ہدایات ایک جگہ جمع کرنے کی کوششکی اور میری کدوکاوش کا جو نتیجہ نکلا وہ دہلی کی دواسازی (بیاض کبیر حصہ سوم) کی شکل میں 1921ء میں پہلی بار شائع ہوا، اس کے بعد اب تک یہ کتاب چار بار چھپ چکی ہے اور اب پانچویں مرتبہ چھپ رہی ہے۔ طبع جدید کے لئے اس کتاب کو میں نے بالکل ازسر نو مرتب کیا ہے۔ جس سے اسکی سابقہ ترتیب بالکل بدل گئی ہے۔ اور اعمال دوا سازی، ادویہ کی نوعیت و ترکیب اور اصطلاحات دواسازی وغیرہ کے مستقبل ابواب قائم کر کے فن دواسازی سے تعلق رکھنے والے تمام کلی، جزئی امور کو شرح و بسط