علوم الإسلام

Showing posts with label افسانے. Show all posts
Showing posts with label افسانے. Show all posts

Tuesday, December 7, 2021

Phulkari, Ashfaq Ahmad, Fictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,

 Phulkari, Ashfaq AhmadFictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,



اردو ادب کے شاہکار’ گڈریا‘ کے خالق ،ذومعنی گفتگو اور طنز و مزاح سے سننے والوں کو نصیحتیں کرنے والے اشفاق احمد 1925  میں بھارت کے شہر فیروزپورمیں پیدا ہوئے ۔


اشفاق احمد نے  ریڈیو پاکستان کے مشہور کردار ” تلقین شاہ ” سے شہرت حاصل کی، وہ داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے مدیر بھی رہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔


اشفاق احمد جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا ًبعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے، 1953میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔


 اشفاق احمدنے یادگار ڈرامے بھی تخلیق کیے جن میں ایک محبت سو افسانے اورقراة العین نے شہرت حاصل کی۔ان کی دو پنجابی سیریلز ”ٹاہلی تھلے اور اچے برج لہور دے“ بھی بہت مقبول ہوئیں۔


اشفاق احمد نے بطورمصنف واداکار فیچر فلم “دھوپ اور سائے بنائی لیکن بدقسمتی سے یہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔


 ٹی وی پران کے پروگرام ”بیٹھک“ اور ”زاویہ“ لوگوں میں بے حد پسند کیا گیا۔


حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کیے تھے۔ صوفی مزاج کے حامل اشفاق احمد 7ستمبر 2004ءکو لاہور میں وفات پاگئےمگر اردو ادب کےلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا


Download

Friday, May 21, 2021

Nafsanay, Qudratullah Shahab, Fiction, افسانے, قدرت اللہ شہاب, نفسانے,

 Nafsanay, Qudratullah Shahab, Fiction, افسانے, قدرت اللہ شہاب, نفسانے,




لینے دینے کے بیوپار میں یا تو بنیئے کو مہارت ہے یا ملا اور پنڈت کو، دونوں کے خون میں اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے کی رمق ہے، اگرچہ ان کا لینے والا ہاتھ ان کے دینے والے ہاتھ سے عموماً درازی مائل ہوتا ہے۔ لیکن یہ جو ایک معلق قسم کے لے دے انسانی سرشت میں گویا ازل سے موجزن ہے، اسے نہ لینے سے سروکار ہے نہ دینے سے البتہ تو تو میں میں والی گردان میں جتنی بامحاورہ شگفتیاں نکل سکتی ہیں، وہ بے شک اسی ایک جذبے کے محتاج ہیں۔ غالباً ہماری پہلی کے دے کا آغاز اس وقت ہوا جب اماں حوا اور باوا آدم بیک بینی و دوگوش جنت کے باغیچوں سے گول کئے گئے۔ میاں ابلیس کے ہونٹوں پر ضرور مسکراہٹ پھیل گئی ہوگی، جب اس کے ٹھکرائے ہوئے خاکی مسجود کی زبان پہلی بار لذت ممنوعہ


Download

Maa Ji, Qudratullah Shahab, Fiction, ماں جی, قدرت اللہ شہاب, افسانے

 Maa Ji, Qudratullah Shahab, Fiction, ماں جی, قدرت اللہ شہاب, افسانے




منشی پریم چند سے لے کر اب تک کے افسانہ نگاروں کے درمیاں انداز بیان کی متعدد مماثلتیں موجود ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس دور کے افسانہ نگاروں کی انفرادیتیں آپ میں اس طرح پیوست ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ پہچاننا دشوار ہے۔ میں صرف یہ کہ رہا ہوں کہ ایک ہی دور میں سانس لینے اور ایک ہی قسم کے مسائل سے نمٹنے کی وجہ سے ان افسانہ نگاروں کے اسلوب نگارش کی سرحدیں بعض مقامات پر ایک دوسرے کو چھوتے ہوئی گذر جاتی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب بھی افسانہ نگاروں کی اسی پود سے تعلق رکھتا ہے جن کے مسائل یکساں تھے اور جو حقیقت پسندی کی راہ سے ان مسائل سے نمٹتے تھے، مگر کم سے کم "ماں جی" کے مطالعہ سے تو مجھ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ شہاب کا انداز بیان اپنے ہم عصروں میں سے کسی سے مماثل نہیں ہے۔