Posts

Showing posts with the label اشفاق احمد

Phulkari, Ashfaq Ahmad, Fictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,

Image
 Phulkari, Ashfaq Ahmad ,  Fictions , پھلکاری, اشفاق احمد , افسانے, اردو ادب کے شاہکار’ گڈریا‘ کے خالق ،ذومعنی گفتگو اور طنز و مزاح سے سننے والوں کو نصیحتیں کرنے والے اشفاق احمد 1925  میں بھارت کے شہر فیروزپورمیں پیدا ہوئے ۔ اشفاق احمد نے  ریڈیو پاکستان کے مشہور کردار ” تلقین شاہ ” سے شہرت حاصل کی، وہ داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے مدیر بھی رہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔ اشفاق احمد جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا ًبعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے، 1953میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔  اشفاق احمدنے یادگار ڈرامے بھی تخلیق کیے جن میں ایک محبت سو افسانے اورقراة العین نے شہرت حاصل کی۔ان کی دو پنجابی سیریلز ”ٹاہلی تھلے اور اچے برج لہور دے“ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ اشفاق احمد نے بطورمصنف واداکار فیچر فلم “دھوپ اور سائے بنائی لیکن بدقسمتی سے یہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔  ٹی وی پران کے پروگرام ”بیٹھک“ اور ”

Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad , Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد , ناول, اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔ اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔ اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور

Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd , Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد , ناول,  بازار سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ چوک میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور انہوں نے کسی شخص کو گھیر رکھا ہے۔ مجھے وہ شخص نظر تو نہ آیا البتہ گروہ کے شور اور لوگوں کی تعداد سے اندازہ ہوا کہ کوئی اہم واقعہ ہو گیا ہے اور لوگ بہت ہی غصے میں ہیں۔ ہمارے تخت پور کا یہ چوک نانک شاہی اینٹوں کے فرش کا پکا چوک تھا اور اس کے چاروں طرف منیاری، کپڑے، صرافے، برتنوں اور پنساریوں کی بڑی بڑی دکانیں تھیں۔ ان کے درمیان نک سک کی دوسری چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی تھیں جن کے کوٹھے ننگے تھے اور ان پر بوریوں کے ٹاٹ والے چھوٹے چھوٹے بیت الخلا تھے۔ بڑی دکانوں پر ان کے سائز کے مطابق پکے چوبارے تھے جن کی سیڑھیاں دکانوں کے پہلو سے چڑھتی تھیں اور کھڑکیاں چوک میں کھلتی تھیں۔ چوک کے درمیان میں سیمنٹ کا ایک خشک فوارہ تھا جسے کمیٹی نے پانی کا کنکشن نہیں دیا تھا، حالانکہ یہ فوارہ بھی کمیٹی کا تھا اور پانی بھی کمیٹی کا لیکن محصول چنگی کے کسی آئٹم پر جھگڑے کی وجہ سے فوارے کو پانی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس فوارے کے اندر مزدور اپنی پگڑیاں بچھا کر اور بوریوں کو گچھا مچھ

Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Hairat Kada, Ashfaq Ahmad , Novel, حیرت کدہ , اشفاق احمد, ناول, روت : حضور ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم سے ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟ شاہ : اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ! ایک وجہ تو یہ ہے کہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔ کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ ! جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ، کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ، کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو ظلم کا ہی شوق ہوتا ہے ۔ ثروت : اور دوسری وجہ شاہِ علم شاہ : دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیرصابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ اشفاق احمد " حیرت کدہ " صفحہ 57 Download

Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad , Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد , ناول, ایک محبت سو افسانے کتاب ایک محبت سو افسانے سلسلہ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان کیوں نہ کرنے لگے سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے میرا تعلق وہ کہتی ہے دو بول محبت کے ہجر عبادت بن جائے محبت خوبصورت ہے آوارہ مزاج تم سمجھ نہیں سکتے تاجدار حرم منتخب نظمیں منتخب افسانے غزلیات ساغر عصری کے افسانوں میں محبت کا حسی تصور لطیف ہے ان کے افسانے بظاہر محبت کے مرکزی نقطے پر گردش کرتے ہیں تاہم ان کے موضوعات متنوع ہیں اور وہ محبت کی قندیل سے زندگی پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا اس سفر میں افسانے بھی لکھے ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ اردو افسانے کی قدیم ترین کتاب ہے مولوی عبدالحق نے محمد حسین آزاد کے دعوے کو بھی رد کیا جس کے مطابق وہ فضلی کی کربل

Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد , ناول, بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے ۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس

Aik Zakham or Sahi, Ashfaq Ahmad, Short Stories, ایک زخم اور سہی, اشفاق احمد, مختصر کہانی,

Image
Aik Zakham or Sahi, Ashfaq Ahmad , Short Stories, ایک زخم اور سہی, اشفاق احمد , مختصر کہانی, اپنا دکھ صبح ہوتے ہی بیٹے نے ملازمہ کے ہاتھوں ایک چٹھی دیکر اپنی والدہ کے پاس بھیجا۔۔۔چھٹی میں لکھا تھا ۔ ’’امی جان ! کل آپ ہمارے گھر آئیں اور ہمارے بیٹے عاصم کو لیکر چلی گئیں۔ اگر ہم موجود ہوتے تو شاید اُسے آپ کے ہمراہ جانے نہ دیتے کیوں کہ وہ ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے، اس کے بغیر ایک دن گزارنا ہمارے لئے محال ہے۔ وہ نہیں تھا تو کل شام کا کھانا بھی کھایا نہ جا سکا۔ رات میں اس کی امی اور میں سو نہ سکے۔ ملازمہ کو بھیج رہا ہوں ہمارا بیٹا لوٹا دو۔‘‘ ماں نے اپنے پوتے کو لوٹا دیا۔ مگر ساتھ میں ایک چھٹی بھی دی۔ جس میں لکھا تھا ۔ ’’تمھیں اپنے بیٹے سے دوری کا کس قدر احساس ہوا۔ اب تمہیں معلوم ہوا ہوگا کہ بیٹے کی جدائی کا غم کیا ہوتا ہے۔ اپنی شادی ہو جانے کے بعد تم نے ہمارا چہرہ بھی دیکھنا گوارا نہ کیا۔ تمہارا ایک دن میں یہ حال ہوا ہے۔۔۔۔ ’’ذرا سوچو ! تم مجھ سے دس سال سے جدا ہو، میرا کیا حال ہو رہا ہوگا؟ ‘‘۔!! اپنا دکھ لوگوں کی بھیڑ اُس جگہ جمع تھی جہاں ایک مزدور دو منزلہ عمارت سے گر کر مر چکا تھا زمین پر