Posts

Showing posts from December, 2021

Anarkali, Saadat Hassan Manto, Fictions, انارکلی, سعادت حسن منٹو, افسانے,

Image
 Anarkali, Saadat Hassan Manto , Fictions, انارکلی, سعادت حسن منٹو , افسانے,  نام اس کا سلیم تھا مگر اس کے یار دوست اسے شہزادہ سلیم کہتے تھے۔ غالباً اس لیے کہ اس کے خدو خال مغلئی تھے۔ خوبصورت تھا۔ چال ڈھال سے رعونت ٹپکتی تھی۔ اس کا باپ پی ڈبلیو ڈی کے دفتر میں ملازم تھا۔ تنخواہ زیادہ سے زیادہ سو روپے ہوگی مگر بڑے ٹھاٹ سے رہتا۔ ظاہر ہے کہ رشوت کھاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سلیم اچھے سے اچھا کپڑا پہنتا، جیب خرچ بھی اس کو کافی ملتا اس لیے کہ وہ اپنے والدین کا اکلوتا لڑکا تھا۔  جب کالج میں تھا تو کئی لڑکیاں اس پر جان چھڑکتیں تھیں۔۔۔ مگر وہ بے اعتنائی برتتا۔ آخر اس کی آنکھ ایک شوخ و شنگ لڑکی جس کا نام سیما تھا، لڑ گئی۔ سلیم نے اس سے راہ و رسم پیدا کرنا چاہا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس کا التفات حاصل کرلے گا۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ تو یہاں تک سمجھتا تھا کہ سیما اس کے قدموں پر گر پڑے گی اور اس کی ممنون و متشکر ہوگی کہ اس نے محبت کی نگاہوں سے اسے دیکھا۔  ایک دن کالج میں سلیم نے سیما سے پہلی بار مخاطب ہو کر کہا، ’’آپ کتابوں کا اتنا بوجھ اٹھائے ہوئی ہیں۔۔۔لائیے مجھے دے دیجیے۔۔۔ میرا تانگہ باہر موجود ہے آپ کو اور اس

Noor-e-Jehan Saroor-e-Jaan, Saadat Hassan Manto, Fictions, نورجہاں سرور جاں, سعادت حسن منٹو, افسانے,

Image
 Noor-e-Jehan Saroor-e-Jaan, Saadat Hassan Manto , Fictions, نورجہاں سرور جاں, سعادت حسن منٹو , افسانے, میں نے شاید پہلی مرتبہ نور جہاں کو فلم ’’خاندان‘‘ میں دیکھا تھا۔ اس زمانے میں وہ بے بی تھی۔ حالانکہ پردے پروہ ہرگز ہرگز اس قسم کی چیز معلوم نہیں ہوتی تھی۔ اس کے جسم میں وہ تمام خطوط، وہ تمام قوسیں موجود تھیں جو ایک جوان لڑکی کے جسم میں ہو سکتی ہیں اور جن کی وہ بوقت ضرورت نمائش کرسکتی ہے۔  ’نور جہاں‘ ان دنوں فلم بین لوگوں کے لئے ایک فتنہ تھی، قیامت تھی۔ لیکن مجھے اس کی شکل و صورت میں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ ایک فقط اس کی آواز قیامت خیز تھی۔ سہگل کے بعد، میں نور جہاں کے گلے سے متاثر ہوا۔ اتنی صاف و شفاف آواز، مرکیاں اتنی واضح، کھرج اتنا ہموار، پنچم اتنا نوکیلا! میں نے سوچا، اگر یہ لڑکی چاہے تو گھنٹوں ایک سرپر کھڑی رہ سکتی ہے، اسی طرح، جس طرح بازی گر تنے ہوئے رسہ پر بغیر کسی لغزش کے کھڑے رہتے ہیں۔  نور جہاں کی آواز میں اب وہ لوچ، وہ رس، وہ بچپنا اور وہ معصومیت نہیں رہی، جو کہ اس کے گلے کی امتیازی خصوصیت تھی۔ لیکن پھر بھی نور جہاں، نورجہاں ہے۔ گو لتا منگیشکر کی آواز کا جادو آج کل ہر جگ

Lazzat-e-Sang, Saadat Hassan Manto, Fictions, لذت سنگ, سعادت حسن منٹو, افسانے,

Image
 Lazzat-e-Sang, Saadat Hassan Manto , Fictions, لذت سنگ,  سعادت حسن منٹو , افسانے, لذتِ سنگ از سعادت حسن منٹو کے مشہور افسانے "بو” سمیت دیگر افسانوں کا مجموعہ لذتِ سنگ کے نام سے شائع ہوا، سعادت حسن منٹو نے جو بھی لکھا معاشرے کی ہوبہو عکاسی کی لیکن ان کے قلم کا نشتر اتنا کند تھا کہ ہر پڑھنے والے کو ہمیشہ تکلیف دیتا تھا کچھ جو ان سے متفق تھے انہیں معاشرے میں موجود گندگی تکلیف دیتی اور جو ان کے مخالفین تھے ان کو منٹو کا طرزِ تحریر تکلیف دہ لگتا۔ ساری زندگی منٹو کی شخصیت اور ان کے مضامین ہمیشہ متنازعہ رہے کبھی ان پر کفر کے فتوے لگے تو کہیں وہ پابندِ سلاسل ٹھہرے۔ زیرنظر افسانے  لذتِ سنگ از سعادت حسن منٹو  بھی ایسے ہی چند ایک افسانوں کا مجموعہ ہے جو پہلے دن سے آج تک متنازعہ چلے آ رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے البتہ یہ ضرور ہے کہ ان افسانوں کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جو ہمارے معاشرے کی عکاسی نہ کرے مگر کیا کریں ہمیں دوسروں کو آئینہ دکھانے کی تو بہت عادت ہے مگر خود آئینہ دیکھنے کی ہمت ہم میں نہ کل تھی نہ آج ہے۔ Download

Shikari Auratein, Saadat Hassan Manto, Fictions, شکاری عورتیں, سعادت حسن منٹو, افسانے,

Image
 Shikari Auratein, Saadat Hassan Manto , Fictions, شکاری عورتیں, سعادت حسن منٹو , افسانے,  میں آج آپکو چند شکاری عورتوں کے قصے سناؤں گا میرا خیال ہے کہ آپکو بھی کبھی ان سے واسطہ پڑا ہو گا۔ میں بمبئی میں تھا فلمستان سے عام طور پر برقی ٹرین سے چھ بجے گھر پہنچ جایا کرتا تھا لیکن اس روز مجھے دیر ہو گئی اسلیے کہ ” شکاری ” کی کہانی پر بحث مباحثہ ہوتا رہا۔ میں جب بمبئے سنٹرل کے اسٹیشن پر اترا تو میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ سے باہر نکلی اسکا رنگ گہرا سانولا تھا، ناک نقشہ ٹھیک تھا جوان تھی، اسکی چال بڑی انوکھی سی تھی ایسا لگتا تھا کہ وہ فلم کا منظر لکھ رہی ہے۔ میں اسٹیشن سے باہر آیا اور پل پر وکٹوریہ گاڑی کا انتظار کرنے لگا میں تیز چلنے کا عادی ہوں اسلیے میں دوسرے مسافروں سے بہت پہلے باہر نکل آیا تھا۔ وکٹوریہ آئی اور میں اس میں بیٹھ گیا میں نے کوچوان سے کہا کہ آہستہ آہستہ چلے اسلیے کہ فلمستان میں کہانی پر بحث کرتے کرتے میری طبیعت مکدر ہو گئی تھی۔ موسم خوشگوار تھا وکٹوریہ والا آہستہ آہستہ پل پر سے اترنے لگا۔ جب ہم سیدھی سڑک پر پہنچے تو ایک آدمی سر پر ٹاٹ سے ڈھکا ہوا مٹکا اٹھا

Nashaib, Abdullah Hussain, Novel, نشیب, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Nashaib, Abdullah Hussain , Novel, نشیب, عبد اللہ حسین , ناول, ان دنوں میں ہم اپنا اپنا کھان ساتھ لے کر جاتے تھے اور دوپہر کے وقفے میں سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے۔ دفتر میں مجھ سمیت کل سات آدمی تھے۔ تین کلرک، ایک ڈسپیچر، ایک ٹائپسٹ، ایک چپڑاسی اور سب کے اوپر ایک ہیڈ کلرک۔ چنانچہ جب بارہ کا گھنٹہ بجتا تو ہم کام چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو تے اور دو میزوں کو جوڑ کر اپنے اپنے کھانے کے ڈبے ان پر لا رکھتے۔ پھر ہم پانچوں اپنی اپنی کرسیاں اٹھا کر ان کے گرد لے آتے اور بیٹھ کر کھانا شروع کر دیتے۔ جتنی دیر تک ہم کھاتے رہتے چپراسی پاس کھڑا مستعدی سے ہر ایک کو پانی پہنچاتا رہتا۔ وہ چپراسی مجھے اب تک یاد ہے۔ کلرک کے عہدے سے ترقی کرتے کرتے میں ڈپٹی سیکریٹری بن گیاہوں اور اس دوران میں کوئی دو درجن چپراسیوں سے میرا واسطہ پڑ چکا ہے۔ مگرواقعہ یہ ہے کہ ایسا ذھین چپراسی میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کو ہمارے بارے میں قطعی طور پر علم تھا کہ کون کون کھانے کے دوران میں کس کس وقت پر پانی پینے کا عادی تھا۔ مثلا یہ کہ ٹائپسٹ اوسطا ہر پانچ لقموں کے بعد آدھا گلاس پانی پیتا تھا اور یہ ک ڈسپیچر ایک گلا

Wapsi ka Safar, Abdullah Hussain, Novel, واپسی کا سفر, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Wapsi ka Safar, Abdullah Hussain , Novel, واپسی کا سفر, عبد اللہ حسین , ناول,  اس مکان میں ہم اٹھارہ مرد رہتے تھے۔ یہ مکان مدت سے مسماری کے پروگرام میں آچکا تھا، مگر ابھی تک کھڑا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں پہلے پہل اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں آیا تھا۔ شہر لندن میں میں ایک ہفتے تک ٹھہرا رہا، مگر وہاں میرا کام نہیں بنا۔ جو آدمی ہمیں ادھر لے کر آیا تھا وہ جاتے جاتے ایک دو پتے دے گیا تھا، تاکہ سر چھپانے کی جگہ مل جائے۔ ایک پتے کو پوچھتا ہوا میں برمنگھم آ نکلا۔ یہاں پہنچ کر قسمت نے مدد کی، دو چار دن کے اندر ہی مجھے کام مل گیا اور میں یہیں پر رک گیا۔ اس طرح اگلے دو سال کے لئے برمنگھم میرا شہر، اور وہ مکان میرا گھر بن گیا۔ پھر اس گھر میں ایک ایسا واقع پیش آیا جس نے بم کے دھماکے کی طرح اچھال کر ہمیں ادھر ادھر بکھیر دیا۔ ہم سب غیر قانونی طور پر اس ملک میں داخل ہوئے تھے اور کام کاج کر رہے تھے۔ جس روز وہ واقعہ پیش آیاہم سب اٹھ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو چار پانچ آدمی اس وقت گھر میں موجود تھے ان کو سامان باندھنے کا موقع مل گیا۔ باقی کے بار ہی بار سے غائب ہو گئے۔ جس طرف کسی کا منہ اٹھا اسی طر

Baagh, Abdullah Hussain, Novel, باگھ, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Baagh, Abdullah Hussain , Novel, باگھ, عبد اللہ حسین , ناول, ایک کھلا سا کچن صھن کے گردا گرد کمر کمر تک پتھروں سے بنی ہوئی چار دیواری تھی، دراصل اس مکان کا ہی حصہ تھا۔ گو مکان سے ملحق نہ تھا۔ یہاں سے مکان کو جاتے ہوۓ ایک مختصر سفیدہ زمین پڑتی تھی۔ اس صحن میں چار درخت تھے۔ تین چنار، جن کی شاخیں آپس میں ملحق تھیں اور ایک لمبا نوجوان سفیدے کا درخت جس کے پتے ہلکے سبز رنگ کے تھے اس سفیدے کے تنے سے ٹیک لگا کربیٹھے ہوئےاسد کو یاسمین کا چہرے دمکتا ہوا نظر آیا۔ اور وہ رات کے انتظار میں یکلخت بیتاب ہو گیا۔ وسط مارچ کے اس چمکتے ہوئے دن کو اس بیتابی کے عالم میں اسے بہت سی باتیں یکے بعد دیگرے یاد آنے لگیں۔ وہ پنجاب کے میدانوں کا باسی اپنی سانس کے ہاتھوں مجبور ہو کر پردیس میں آبیٹھتا تھا۔ اس کا حمام دستہ اس کی ٹانگوں کے بیچ پڑا تھا۔ اور بیچ بیچ میں وہ ہاتھ روکر دوپہر کی دھوپ میں دور نیچے تک وادی میں دیکھ لیتا جہاں کچھ دنوں سے ایک شیر نے تباہی مچا رکھی تھی۔ اس کی سانس مشکل، اس کی روزمرہ کی مشقت، یاسمین کامتبسم چہرہ۔۔۔ ان سب چیزوں کے عقب میں دور دور تک ایک شیر کا علاقہ تھا، اور عرصہ دراز سے رہا تھا۔

Udas Naslain, Abdullah Hussain, Novel, اداس نسلیں, عبداللہ حسین, ناول,

Image
 Udas Naslain, Abdullah Hussain , Novel, اداس نسلیں, عبداللہ حسین , ناول, آج سے نصف صدی قبل ایک ایسا ناول لکھا گیا جس نے نہ صرف اردو ادب میں تہلکہ مچا دیا بلکہ وہ ایک نئے وجود میں آنے والے ملک کی کہانی بن گیا۔ غلامی سے آزادی کے سفر کی کہانی، مرد عورت کی محبت کی کہانی، مٹی سے عشق کی کہانی۔ یہ ایک تاریخی ناول تھا جو آج بھی زندہ ہے اور کتنی ہی نسلیں اس کو پڑھ چکی ہیں۔ بقول عبداللہ حسین کے کہ جب سے ’اداس نسلیں‘ لکھی گئی اس وقت سے اس کتاب کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب یہ ناول لکھا گیا تو اس کے مصنف ادبی حلقوں سے دور داؤد خیل کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں میں بطور کیمسٹ کام کرتے تھے۔ نام ابھی عبداللہ حسین نہیں ہوا تھا بلکہ محمد خان تھا۔ آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اور آٹھ گھنٹے سوتے تھے، باقی کے آٹھ گھنٹوں میں وہاں کچھ کرنے کو نہیں تھا تو سوچا کہ محبت کی ایک کہانی لکھتے ہیں۔ عبداللہ حسین اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک دن تنگ آ کر میں نے قلم اٹھایا اور ایک لو سٹوری لکھنا شروع کر دی۔ اس کے بعد آگے چل چل کے اس کی شکل ہی بدل گئی۔ پھر میں نے یہ سوچا

Qaid, Abdullah Hussain, Novel, قید, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Qaid, Abdullah Hussain , Novel, قید, عبد اللہ حسین ,  ناول, گرمیوں کی ایک رات کا جادو:-   پہلی بار جب بچے نے اپنے باپ کے حجرے میں جھانک کر دیکھا تو اس وقت وہ نو برس کی عمر کا تھا۔ اس رات کا منتظر سالہا سال تک اس کے ذہن پر نقش رہا۔ رات آدھی گذرچکی تھی مگر لو رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ لگتا تھا جیسے دنیا کی دوسری جانب کسی ریگستان پہ سورج چمک رہا ہے اور تپتی ہوئی ہوا وہاں سے سیدھی اس گاؤں کا رخ کر رہی ہے۔ گھر کے وسیع صحن میں دو مچھر دانیاں لگی تھیں۔ یہ موٹے موٹے روغنی پایوں والے تواڑی پلنگ تھے جن پہ بچہ اور اس کی ماں سفید جالی کے پردوں میں محفوظ سوئے پڑے تھے۔ ان سے ذرا ہٹکر مزید تین چارپائیاں بچھی تھیں۔ یہ موٹے بان کی ننگی چارپائیاں تھیں جن پہ گھر کا کام کاج کرنے والی لڑکیاں گرمی اور محنت سے بے دم ہو کر بے ہوشی کی نیند سو رہی تھیں۔ لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں، بازو اور ٹانگیں، گردنیں اور ۔۔۔۔۔ Download #Abdullah_Hussain #Abdullah_Hussain_Novel #Urdu_Novel #Free_Books_PDF #Urdu_Books_PDF

Raat, Abdullah Hussain, Novel, The Night, رات, عبد اللہ حسین, ناول,

Image
 Raat, Abdullah Hussain , Novel, The Night, رات, عبد اللہ حسین , ناول,  "شوکی' کہاں چلے جارہے ہو؟" لڑکی نے پوچھا۔     "کہیں بھی نہیں" وہ خوشدلی سے بولا۔  "بھئی آہستہ چلو" وہ بولی:  "میں تھک گئی ہوں۔"،  "بہت اچھا"  دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔  "شوکت" وہ پھر بولی: "خدا کے لئے۔۔۔۔۔۔" "ہنہہ" "کہاں جا رہے ہو؟"   "چلے پون کی جاآآآل۔ " وہ گا کر بولا۔  "شوکی چپ رہو" وہ سختی سے بولی: "لوگ سن رہے ہیں"  "جگ میں چلے پون کی چاآل ل۔ " وہ گاتا رہا۔ رفتہ رفتہ وہ بہت پیچھے رہ گئی۔  پھر ایک جگہ پر اچانک رک کر وہ ادھر ادھر دیکھنےلگا۔ پاؤں میں الجھتی ہوئی ساری کو دو انگلیوں میں تھامے وہ ہانپتی ہوئی اس کے پاس آکر رک گئی۔ اس کی ناک پھننگ پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔  "چلو اب گھر چلیں" وہ بولی   اس نے مڑ کر غور سے اس لڑکی کو دیکھا، جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔  "چلو گھر چلیں" وہ سانس روک کر بولی۔  "چلو" وہ جیبوں میں ہاتھ ڈال کر پھر چلنے لگا۔

Pakistan Ku Toota?, Safdar Mahmood, History, پاکستان کیوں ٹوٹا؟, صفدر محمود, تاریخ,

Image
 Pakistan Ku Toota?, Safdar Mahmood , History, پاکستان کیوں ٹوٹا؟, صفدر محمود , تاریخ, اِس واقعے کے محرکات اور اسباب و عوامل پر مبنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں، جسے ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس نے نشر کیا، نامور تجزیہ کاروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں ممتاز تجزیہ کاروں نےپاکستان کے ٹوٹنے کے تاریخی و سیاسی پسِ منظر کا تفصیلی ذکر کیا۔ اُنھوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اورایک آزاد ملک کے طور پر بنگلہ دیش نمودار ہونے سے متعلق رائے زنی کی۔ ممتاز سیاسی تجزیہ کار، ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے پاکستان کی تقسیم کو ’سیاسی نظام کی ناکامی اور احساسِ محرومی کا نتیجہ‘ قرار دیا۔ ڈاکٹر رضوی کے خیال میں، ’پاکستان نے اِس واقعے سے سبق سیکھا ہے، جِس کا نتیجہ، ملک کے جمہوری نظام کے تسلسل میں نظر آتا ہے‘۔ ڈاکٹر زبیر اقبال واشنگٹن کے ’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے وابستہ ایک نامور محقق ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ، ’تاریخی تبدیلی کے تناظر میں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی تنازعات کو فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا‘۔ ڈاکٹر زبیر اقبال کے الفاظ میں، ’پاکستان کو اِس تاریخی تبدیلی سے یہ سبق سیکھنا چاہیئے کہ معاشی سطح پر مساو

Kamyabi, AS Siddiqui, Personality Development, کامیابی, اے ایس صدیقی, شخصیتی نشونما,

Image
 Kamyabi, AS Siddiqui , Personality Development, کامیابی, اے ایس صدیقی , شخصیتی نشونما, یہ کتاب آپ کے لئے کیا کر سکتی ہے؟ کوئی آپ کے لئے کچھ نہی کر سکتا جب تک کہ آپ اپنے لئے خود کچھ نہ کریں۔ یہ کتاب آپ کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہےبشرطیکہ آپ اپنے لئے کچھ کرنا چاہتے ہوں۔ ایسی کتابیں کم لکھی جاتیں ہیں۔ پہلے اس حقیقت کو سمجھ لیں۔ اس میں کچھ کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور کرنا آپ کو ہے۔ آپ نے اسے پڑھا۔ اس کو سمجھا۔ اس میں درج ہدایتوں پر عمل کیا تو آپ اپنے اندر حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھیں گے۔ آزما کر دیکھ لیں۔ مگر بات وہی ہے۔ کوئی آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتا جب تک آپ اپنے لئے خود کچھ نہ کریں۔ اپنے لئے کچھ کریں۔ یہ کتاب آپ کی رہنما ثابت ہو گی۔ آپ ایک مکمل اور کامیاب آدمی بن جائیں گے۔  سان فرانسیسکو کی گلیوں میں رہنے والا ایک سیاہ فام لڑکا جو سوکھے کے مرض میں مبتلا تھا اور جس کی ٹانگیں خشک ہو کر ٹیرھی ہو گئی تھیں زندگی سے کیا توقع رکھ سکتا تھا۔ اسے کچھ امداد دی گئی اور بیساکھیاں فراہم کر دی گئی تھی لیکن کیا یہ ہمدردی اسے زندگی میں کسی بڑے مقام تک لے جاسکتی تھی؟ Download

Ishq Ke Do Mosam, AG Josh, Poetry, عشق کے دو موسم, اے جی جوش, شاعری,

Image
 Ishq Ke Do Mosam, AG Josh , Poetry, عشق کے دو موسم, اے جی جوش , شاعری, کمال حسن کلام نہ تھی یہ زمیں نہ تھا آسماں،  یونہی جوئے آب تھی اک رواں،  کہیں کچھ دکھائی نہ دیتا تھا،  یہ جہاں تھا صرف دھواں دھواں،  تھی نہ خلق، خالق کل تو تھا،  یہ نظام ہستی بھی تھا کہاں،  یہ تھی سوچ رب کریم کی،  کرے پیدا والی دو جہاں،  کئے پیدا اس نے کئی نبی،  دئے سب کو اپنے بہت نشاں،  یہ ہے صرف شان محمدی،  ہوئے ختم جس پہ سبھی زماں Download

Der Ayad, AG Josh, Poetry, دیر آید, اے جی جوش, شاعری,

Image
 Der Ayad, AG Josh , Poetry, دیر آید, اے جی جوش , شاعری,   حمد جب لیتا ہوں میں نام ترا مری صبح حسیں ہو جاتی ہے ہر سانس مہکنے لگتی ہے تابندہ جبیں ہو جاتی ہے جب صحن چمن میں جا کر میں کھلتی کلیوں کو دیکھتا ہوں مرے گرد و پیش کی ساری فضا فردوس بریں ہو جاتی ہے جو مانگتا ہوں ترے در سے وہ ملنے میں اگر کچھ دیر بھی ہو اٹھتے ہیں دعا کو ہاتھ جہاں تسکین وہیں ہو جاتی ہے سب بگڑے کام انسانوں کے بس تیرے کرم سے بنتے ہیں ہم آس لگا لیتے ہیں کہیں اور پوری کہیں ہو جاتی ہے مایوس تو ہوں دنیا سے مگر تری رحمت سے مایوس نہیں ترے ابر کرم سے اک پل میں شاداب زمیں ہو جاتی ہے ٹھکرا دیتا ہے اک پل میں وہ کون و مکاں کی دولت کو جب جوشؔ کسی کے دل میں لگن اللہ کی مکیں ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعت تو مری زندگی ہے مری جان ہے مولا ہر شے تجھ پہ قربان ہے سارے نبیوں میں رتبہ ہے بالا ترا اور سب سے بڑا تو ہی انسان ہے تجھ کو پڑھ کر بسر زندگی ہم نے کی جس کے قاری ہیں ہم تو وہ قرآن ہے تو نے بخشش کی منزل دکھائی ہمیں ترا ممنون ہر اک مسلمان ہے تیرے روضے کی جالی کو جو چوم لے اس کے سب غم مٹیں میرا ایمان ہے سب نے مانا ہمیں تیرے در کا گدا

Phulkari, Ashfaq Ahmad, Fictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,

Image
 Phulkari, Ashfaq Ahmad ,  Fictions , پھلکاری, اشفاق احمد , افسانے, اردو ادب کے شاہکار’ گڈریا‘ کے خالق ،ذومعنی گفتگو اور طنز و مزاح سے سننے والوں کو نصیحتیں کرنے والے اشفاق احمد 1925  میں بھارت کے شہر فیروزپورمیں پیدا ہوئے ۔ اشفاق احمد نے  ریڈیو پاکستان کے مشہور کردار ” تلقین شاہ ” سے شہرت حاصل کی، وہ داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے مدیر بھی رہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔ اشفاق احمد جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا ًبعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے، 1953میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔  اشفاق احمدنے یادگار ڈرامے بھی تخلیق کیے جن میں ایک محبت سو افسانے اورقراة العین نے شہرت حاصل کی۔ان کی دو پنجابی سیریلز ”ٹاہلی تھلے اور اچے برج لہور دے“ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ اشفاق احمد نے بطورمصنف واداکار فیچر فلم “دھوپ اور سائے بنائی لیکن بدقسمتی سے یہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔  ٹی وی پران کے پروگرام ”بیٹھک“ اور ”

Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,

Image
 Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad , Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد , ناول, اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔ اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔ اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور