علوم الإسلام

Tuesday, December 7, 2021

Phulkari, Ashfaq Ahmad, Fictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,

 Phulkari, Ashfaq AhmadFictions, پھلکاری, اشفاق احمد, افسانے,



اردو ادب کے شاہکار’ گڈریا‘ کے خالق ،ذومعنی گفتگو اور طنز و مزاح سے سننے والوں کو نصیحتیں کرنے والے اشفاق احمد 1925  میں بھارت کے شہر فیروزپورمیں پیدا ہوئے ۔


اشفاق احمد نے  ریڈیو پاکستان کے مشہور کردار ” تلقین شاہ ” سے شہرت حاصل کی، وہ داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے مدیر بھی رہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔


اشفاق احمد جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا ًبعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے، 1953میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔


 اشفاق احمدنے یادگار ڈرامے بھی تخلیق کیے جن میں ایک محبت سو افسانے اورقراة العین نے شہرت حاصل کی۔ان کی دو پنجابی سیریلز ”ٹاہلی تھلے اور اچے برج لہور دے“ بھی بہت مقبول ہوئیں۔


اشفاق احمد نے بطورمصنف واداکار فیچر فلم “دھوپ اور سائے بنائی لیکن بدقسمتی سے یہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔


 ٹی وی پران کے پروگرام ”بیٹھک“ اور ”زاویہ“ لوگوں میں بے حد پسند کیا گیا۔


حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کیے تھے۔ صوفی مزاج کے حامل اشفاق احمد 7ستمبر 2004ءکو لاہور میں وفات پاگئےمگر اردو ادب کےلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا


Download

Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,

 Man Chalay ka Soda, Ashfaq Ahmad, Novel, من چلے کا سودا, اشفاق احمد, ناول,



اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔


اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔


اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور علم ہیئت جیسے علوم بھی عوام الناس کی توجہ کا مرکز بننے لگے۔ اور چونکہ تصوف کی روایت بھی اس وقت تک منظر عام پر آ چکی تھی، لہذا جب اس کا مقابلہ فلسفہ کے ساتھ ہوا تو یک گونہ مشابہت کے باعث صوفیاء نے اپنی قلبی واردات کو بیان کرنے اور ان کی تشریح کی خاطر فلسفہ کی اصطلاحات کا سہارا لیا اور یوں ایک ایسا ملغوبہ نکھر کر سامنے آیا جس نے آگے چل کر وحدت الوجود کی شکل اختیار کر لی۔


اس نئے مکتبہ فکر کے زیر اثر اب ایسے احوال بھی سامنے آنے لگے، جو اس سے ماقبل اسلام کی روایت میں ہرگز نہ سنے گئے اور نہ دیکھے گئے۔ جس میں سب سے نمایاں روایت منصور الحاج کی ہے، جس نے انا الحق کا نعرہ لگا کر ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس سے لوگ قطعاً آشنا نہ تھے۔ بعد میں اسی وحدت الوجود کے پرچارک کے طور پر محی الدین ابن عربی اور مولانا رومی بھی سامنے آئے، تاہم ان کے کلام میں جذبات کے اظہار میں وہ شدت نمایاں نہ تھی، لیکن بہر طور ان دونوں شخصیات نے بھی اپنے قلبی احساسات اور مکاشفات کو وحدت الوجود کی لڑی ہی میں پرو کر عوام الناس کے سامنے رکھا۔ جس کی امثلہ مثنوی اور فصوص الحکم میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔


اس مکتبہ فکر کی روایات میں بہت سی چیزیں وہ بھی شامل ہیں، جو شرعی معاملات سے متصادم اور ایک نئی راہ پہ گامزن کرنے والی ہیں، لہذا اپنے اپنے وقت کی برگزیدہ ہستیوں نے ان کے خلاف کھلم کھلا تحریکات چلا کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تنبیہ کی اور اس کی جگہ جماعت الصحابہ کے افعال و اقوام سے رہنمائی حاصل کرنے کو اصل قرار دیا، جن میں ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی کا نام بہت نمایاں ہے۔ ابن تیمیہ تو خطوط اور کتب کے ذریعے ان سے برات کا اظہار کرتے رہے، تاہم مجدد الف ثانی نے باقاعدہ ان کے مقابلے میں ایک نئے مکتبہ فکر اعنی وحدت الشہود کی بنیاد رکھ کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی۔


چونکہ وحدت الوجود کا نکتہ نظر حکمائے یونان سے مستعار لیا گیا ہے، بلکہ اس کے اندر بعض تعلیمات ہندوستان کے مذہبی رہنماؤں کی بھی شامل ہیں، لہذا ان تہذیبوں کے مذہبی نظریات اور افکار کو بھی اس راہ کے ذریعے اسلامی روایت میں جگہ مل گئی اور یوں ایک نئے تنازع نے جم لیا جو ہنوز جاری و ساری ہے۔ وحدت الوجود کے کتبہ فکر کی بنیاد اس سوچ پر ہے جس کے مطابق کائنات کے اندر صرف خدا کا وجود موجود ہے، اور باقی سب کچھ اس کے مظاہر ہیں۔


لہذا وہ ہر مخلوق کے اندر بتمامہ موجود ہے، اور ان کے افعال گویا ان کے واسطے ایک نسبت اضافی ہین وگرنہ حقیقت میں کوئی اور ہے۔ چنانچہ بابا بلھے شاہ کے مشہور کلام ”کی جانڑاں میں کونڑ بلھیا“ میں ہمیں اسی طرف واضح اشارہ ملتا ہے، کہ جہاں موسیٰ اور فرعون، کافر اور مسلمان، پاک اور پلید سب کو ہم پلہ قرار دے کر ان سب کو خدا کے ہی مختلف مظاہر شمار کیا گیا ہے، جس کی رو سے ان کی بابت کچھ بات کرنا گویا خدا کے اوپر اعتراض کرنے کے برابر ہے۔


اسی نظریہ کو لے کر ملک کے مشہور ڈرامہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے بھی خامہ فرسائی فرمائی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار ایک ڈرامے ”من چلے کا سودا“ میں کیا ہے، جو انیس صد نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر لاہور سے دکھایا گیا تھا۔ اس ڈرامے کے اندر ایک انسان (خیام سرحدی مرحوم) کو ایک باطنی کشمکش میں مبتلاء روپ میں پیش کیا گیا، جو ہر طرح کی دنیوی نعمتوں سے فیضیاب ہونے کے باوجود راحت و اطمینان کے حصول کے واسطے کوشاں ہے اور پھر اس کی ملاقات ایک ایسے شخص (فردوس جمال) سے ہوتی ہے جو اس کو نئی راہ دکھلا کر اس کی زندگی کا رخ پہ پھیر دیتا ہے۔


تاہم اس میں سب سے حیرت انگیز پہلو ایک ہی انسان کے مختلف روپ کا دکھایا جانا ہے، جس کے تحت وہ کہیں موچی کے لبادے میں، تو کہیں ڈاکیے کے لبادے میں، کہیں راہب کے لبادے میں تو کہیں ڈاکو بن کر ہمارے سامنے آتا ہے، جس سے یہ صریح تاثر ملتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم کا قلبی رجحان شدید طور پہ وحدت الوجود کی جانب تھا اور گویا ایک ہی انسان ایک ہی وقت میں مختلف روپوں میں ظاہر ہو کر مختلف افعال سر انجام دے رہا ہے۔


اگر نظریہ وحدت الوجود کی اس شکل کو درست مان لیا جاوے، تو کیا ہم پھر ہم اصلی نیکی اور بدی میں تمیز کر پاویں گے؟ اگر ایک ہی شخص دوسرے انسان کو لوٹ بھی رہا ہے، اور اسی کا دوسرا بہروپ عین اسی موقع پر پہنچ کر لٹنے والے کی مدد بھی کر رہا ہے، تو آخر اس کا حقیقی چہرہ کون سا ہے؟ وہ جو لوٹ رہا ہے یا وہ جو بچا رہا ہے؟ اور سب سے بڑی بات کیا یہ صفت خدا کے علاوہ ہم کسی اور مخلوق کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جگہ موجود اور ماکان وما یکون کے علم سے بہرہ ور ہو؟


اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو گویا یہ وہی مقام ہے جہاں ایک انسان خدا کے ہم پلہ ہوجاتا ہے اور پھر وہی بلھے شاہ والا حال ہوجاتا ہے کہ جہاں موسیٰ اور فرعون قدر مشترک بن کر باہم تفاوت ختم کر دیتے ہیں۔ لہذا جب دو اشیاء میں امتیاز کا پردہ اٹھ گیا، تو گویا وہ حقیقتاً ایک ہی چشمے کا پانی ہیں، لہذا فرعون جو افعال سر انجام دے رہا ہے وہ بھی درست تصور کیے جائیں گے اور جو کچھ موسیٰ سے صادر ہو رہا ہے وہ بھی درست گردانا جائے گا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بدی کا مقام کہاں ہے؟ اور ہم کس فعل کو بدی اور کس فعل کو نیکی سے تعبیر کریں گے؟ جب زید ہی بکر ہے اور بکر ہی زید ہے تو پھر انتساب الگ الگ کیوں ہے، ہم دونوں کو ایک ہی نام دے کر اس جھگڑے کو ہی کیوں نہ ختم کردیں تاکہ خس کم جہاں پاک ہو جائے۔


لہذا ہمیں اس باریک فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ دنیا میں نیکی اور بدی کا الگ الگ مستقل وجود ہے، جس سے پہلو تہی کرنے کا مطلب کارخانہ قدرت کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔ کیونکہ جو چیزیں مسلمات ہیں اور تواتر کے ساتھ ساتھ عقلی لحاظ سے بھی ثابت ہوں، ہم ان کو حرف مکرر کی طرح لوح جہاں سے مٹا کر ایک نئی عمارت کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ انہی وجوہات کی بناء پر متاخرین میں سے جو لوگ معتدل قسم کے صوفی تھے، انہوں نے وحدت الوجود کے اس فکری تناظر کی مخالفت کر کے، تصوف کو اس کی اصلی روایت سے جوڑنے کی از سر نو کوشش کی۔


جس میں سب سے نمایاں نام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب کا ہے۔ آپ نے اس وقت ہندوستان میں انہی وجودی صوفیوں کے ہاتھوں جو شریعت کے ساتھ کھلواڑ رچایا جا رہا تھا، اس کے خلاف سینہ سپر ہو گئے اور یہاں کی مسلمان عوام کو قرآن اور حدیث سے تمسک کی تلقین کی۔ کیونکہ یہ بات ہر صاحب عقل اور صاحب ہوش صوفی کے نزدیک مسلم ہے کہ اسلام میں صرف اور صرف وہی طریقت قابل قبول ہے جو شریعت کے ماتحت ہے۔ وگرنہ ہر وہ تصوف جو شریعت اسلامی سے متصادم اور اس کی روش کے مخالف ہو، خواہ وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے پیش کیا جائے، وہ سراسر گمراہی اور بد عقیدتگی میں ہی شمار ہوگا۔


Download

Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول,

 Khel Tamasha, Ashfaq Ahmd, Novel, کھیل تماشہ, اشفاق احمد, ناول, 



بازار سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ چوک میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور انہوں نے کسی شخص کو گھیر رکھا ہے۔ مجھے وہ شخص نظر تو نہ آیا البتہ گروہ کے شور اور لوگوں کی تعداد سے اندازہ ہوا کہ کوئی اہم واقعہ ہو گیا ہے اور لوگ بہت ہی غصے میں ہیں۔ ہمارے تخت پور کا یہ چوک نانک شاہی اینٹوں کے فرش کا پکا چوک تھا اور اس کے چاروں طرف منیاری، کپڑے، صرافے، برتنوں اور پنساریوں کی بڑی بڑی دکانیں تھیں۔ ان کے درمیان نک سک کی دوسری چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی تھیں جن کے کوٹھے ننگے تھے اور ان پر بوریوں کے ٹاٹ والے چھوٹے چھوٹے بیت الخلا تھے۔ بڑی دکانوں پر ان کے سائز کے مطابق پکے چوبارے تھے جن کی سیڑھیاں دکانوں کے پہلو سے چڑھتی تھیں اور کھڑکیاں چوک میں کھلتی تھیں۔ چوک کے درمیان میں سیمنٹ کا ایک خشک فوارہ تھا جسے کمیٹی نے پانی کا کنکشن نہیں دیا تھا، حالانکہ یہ فوارہ بھی کمیٹی کا تھا اور پانی بھی کمیٹی کا لیکن محصول چنگی کے کسی آئٹم پر جھگڑے کی وجہ سے فوارے کو پانی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس فوارے کے اندر مزدور اپنی پگڑیاں بچھا کر اور بوریوں کو گچھا مچھا کر کے تکیے بنا کے سوتے تھے۔


Download


Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,

 Hairat Kada, Ashfaq Ahmad, Novel, حیرت کدہ, اشفاق احمد, ناول,





روت : حضور ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم سے ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟

شاہ : اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ! ایک وجہ تو یہ ہے کہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔


کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ ! جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔


ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ، کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ، کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو ظلم کا ہی شوق ہوتا ہے ۔


ثروت : اور دوسری وجہ شاہِ علم

شاہ : دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔

وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔

اس کے بغیرصابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔


اشفاق احمد " حیرت کدہ " صفحہ 57


Download

Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,

 Aik Muhabbat 100 Afsanay, Ashfaq Ahmad, Novel, ایک محبت 100 افسانے, اشفاق احمد, ناول,



ایک محبت سو افسانے کتاب ایک محبت سو افسانے سلسلہ

ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان

کیوں نہ کرنے لگے سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے میرا تعلق

وہ کہتی ہے دو بول محبت کے ہجر عبادت بن جائے محبت خوبصورت ہے آوارہ مزاج تم سمجھ نہیں سکتے تاجدار حرم منتخب نظمیں منتخب افسانے غزلیات ساغر عصری

کے افسانوں میں محبت کا حسی تصور لطیف ہے ان کے افسانے بظاہر محبت کے مرکزی نقطے پر گردش کرتے ہیں تاہم ان کے موضوعات متنوع ہیں اور وہ محبت کی قندیل سے زندگی

پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا اس سفر میں افسانے بھی لکھے ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ

اردو افسانے کی قدیم ترین کتاب ہے مولوی عبدالحق نے محمد حسین آزاد کے دعوے کو بھی رد کیا جس کے مطابق وہ فضلی کی کربل کتھا کو اردو نثر کی پہلی کتاب گردانتے

نامہ کا ایک بے مثال کردار ہے جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی اور اس طرح شہاب صاحب کے اولین افسانے کا عنوان

حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال کا سرائیکی ترجمہ خیابان خرام خرم بہاولپوری کے سرائیکی کلام کی ترتیب و تدوین رات دی کندھ ڈرامے افسانے قصے تے پ ڑ قصہ

کا اعزازحاصل تھا 1936ء میں جب وہ گورنمنٹ کالج سے بی اے کرچکے تو ان کے افسانے اور مضامین ہمایوں میں چھپنے لگے بطور طالب علم کچھ عرصے کے لیے شعرو شاعری

کے طور پر ہمارا تمہارا خدا بادشاہ صرف ایک شب کا فاصلہ وارث ــ اور صرف ایک دن کے لیے وغیرہ جیسے افسانے حال کے سیاسی پس منظر میں لکھے گئے ہیں مگر

Download

Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,

 Baba Sahiba, Ashfaq Ahmad, Novel, بابا صاحبا, اشفاق احمد, ناول,



بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد


راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے ۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس کے اندر کا حال بیان کرنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں کتب محترمہ بانو قدسیہ کی جانب  سے مرتب کی گئیں اور جناب اشفاق احمد کی وفات(سات ستمبر 2004) کے بعد آنے والے سالوں میں شائع ہوئیں۔

 ۔"راہ رواں ۔۔۔۔ بانو قدسیہ "۔۔۔یہ کتاب بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ کی سفر کہانی ہے ، دونوں کی ساری کتب اور ہر تحریر کاعکس اس کتاب کے آئینے میں جھلکتا ہے، جس نے "راہِ رواں"نہیں پڑھی وہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے خیال کی گہرائی کو چھو نہیں سکا۔ اس بیش بہا کتاب میں ہر عمر اور ہر سوچ کے قاری کے ذہن میں اٹھنے والے زندگی کے پیچ وخم کے بہت سے راز کھلتے ہیں۔

بابا جی بھی اشفاق صاحب کو سمجھاتے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز ساکت نہیں ۔ یہ سورج چاند ستارے سب اپنے اپنے محور کے گرد گھوم رہے ہیں اور اشفاق صاحب بضد تھے جدید علم کی روشنی میں سورج ساکت ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے ۔

بابا جی نے آخر کہا ۔۔۔۔۔ اشفاق میاں !!! صرف مطلوب ساکت ہوتا ہے، سب طالب اس کے گرد گھومتے ہیں

Download

Aik Zakham or Sahi, Ashfaq Ahmad, Short Stories, ایک زخم اور سہی, اشفاق احمد, مختصر کہانی,

Aik Zakham or Sahi, Ashfaq Ahmad, Short Stories, ایک زخم اور سہی, اشفاق احمد, مختصر کہانی,



اپنا دکھ


صبح ہوتے ہی بیٹے نے ملازمہ کے ہاتھوں ایک چٹھی دیکر اپنی والدہ کے پاس بھیجا۔۔۔چھٹی میں لکھا تھا ۔ ’’امی جان ! کل آپ ہمارے گھر آئیں اور ہمارے بیٹے عاصم کو لیکر چلی گئیں۔ اگر ہم موجود ہوتے تو شاید اُسے آپ کے ہمراہ جانے نہ دیتے کیوں کہ وہ ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے، اس کے بغیر ایک دن گزارنا ہمارے لئے محال ہے۔ وہ نہیں تھا تو کل شام کا کھانا بھی کھایا نہ جا سکا۔ رات میں اس کی امی اور میں سو نہ سکے۔ ملازمہ کو بھیج رہا ہوں ہمارا بیٹا لوٹا دو۔‘‘


ماں نے اپنے پوتے کو لوٹا دیا۔ مگر ساتھ میں ایک چھٹی بھی دی۔ جس میں لکھا تھا ۔


’’تمھیں اپنے بیٹے سے دوری کا کس قدر احساس ہوا۔ اب تمہیں معلوم ہوا ہوگا کہ بیٹے کی جدائی کا غم کیا ہوتا ہے۔ اپنی شادی ہو جانے کے بعد تم نے ہمارا چہرہ بھی دیکھنا گوارا نہ کیا۔ تمہارا ایک دن میں یہ حال ہوا ہے۔۔۔۔


’’ذرا سوچو ! تم مجھ سے دس سال سے جدا ہو، میرا کیا حال ہو رہا ہوگا؟ ‘‘۔!!


اپنا دکھ

لوگوں کی بھیڑ اُس جگہ جمع تھی جہاں ایک مزدور دو منزلہ عمارت سے گر کر مر چکا تھا زمین پر دو پوسٹ کارڈ بھی اسکی جیب سے گر پڑے تھے ایک خط اسکی بیوی نے لکھا تھا۔’’ کل رات میں نے ایک بھیانک خواب دیکھا ہے آپ کام کرتے کرتے بہت اونچائی سے گر کر مالک حقیقی سے جا ملے ہیں خدا نہ کرے ایسا ہو لیکن جب سے خواب دیکھا ہے میں بہت پریشان ہوں آپ فوراً چلے آؤ۔ ‘‘


دوسرا خط مزدور نے اپنی بیوی کے خط کے جواب میں لکھا تھا جسے وہ پوسٹ نہیں کر پایا تھا۔ خط میں لکھا تھا ۔


’’ میں یہاں خیریت سے ہوں تم پریشان کیوں ہوتی ہو۔


 یاد رکھو خواب کبھی سچ نہیں ہوتے ۔.!!‘‘


اپنا دکھ

اس نے اپنے خط میں لکھا تھا ۔۔۔ ’’ میں نے اجنبی زندگی سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اب مجھے ساری خوشیاں مل گئی ہیں۔ میں بہت خوش ہوں۔ اب تم میرے بارے میں سوچا نہ کرو۔ خدا کرے تمہاری زندگی بھی تمہیں خوشیاں دیں‘‘۔۔۔۔ اس کا خط میں مشکل سے پڑھ پاتا ہوں۔ کیونکہ سیاہی جگہ جگہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ کی ایک ہلکی سی کرن نمودار ہوتی ہے اور پھر اس کے خیال کے دو موٹے موٹے آنسو میری پلکوں پر چمکتے ہیں اور خط پر بنے ہوئے باقی حرفوں کو بھی سیاہی بنا دیتے ہیں۔


شاید یہ لکھنے کے لئے کہ ’’ میں بھی بہت خوش ہوں، مجھے بھی ساری خوشیاں مل گئی ہیں۔


پلیز تم میرے بارے میں سوچا نہ کرو۔.!!‘‘


اپنا دکھ

دونوں بھائیوں نے جب ایک دوسرے کی بغل میں مکانات بنائے تو ایک نے تین منزلہ عمارت کھڑی کردی اور دوسرا بھائی تین کمروں پر مشتمل سادہ سا مکان بڑی مشکلوں سے بنا سکا۔


یوں تو دونوں بھائی ایک ہی محکمہ میں کلرک کے عہدے پر فائز تھے۔۔ فرق صرف ٹیبل کا تھا۔


اپنا دکھ

وہ جس راستے پر چل رہا تھا خود نہیں جانتا تھا کہ وہ صراط مستقیم ہے یا پھر گمراہی کا راستہ ۔ اسے راہ میں ایک شخص ملا بھی تھا اس نے یہ کہہ کر اسے اپنے ساتھ لیا تھا کہ تم راستہ بھول گئے ہو۔ آؤ میں تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دوں۔


بے چارہ نابینا مسافر کر تا بھی کیا وہ تو اپنے راستے کے نشانات خود نہیں دیکھ سکتا تھا چپ چاپ اس کے پیچھے ہو لیا۔ لیکن راستہ چلتے چلتے جب منزل قریب آ گئی تو پتہ چلا کہ وہ جس راستہ سے چل کر آیا ہے وہ تو گمراہی کا راستہ تھا اور راہ میں جس شخص نے اس کی راہ نمائی کی تھی وہ خضر نہیں بلکہ شیطان تھا وہ حواس کھو بیٹھا۔ حیف ۔ ۔ ! دنیا تو دنیا آخرت بھی تباہ ہو گئی۔


اب وہ پچھتا رہا تھا اے کاش کہ وہ جاہل نہ ہوتا علم کی آنکھیں اس کے پاس ہوتیں تو وہ ان آنکھوں کی روشنی میں اپنی کامیاب زندگی اور آخرت کے لئے سفر کا آغاز صراط مستقیم سے کرتا۔ صحیح اور غلط سے واقف ہوتا سفر میں وہ نہ راستہ بھولتا اور نہ ہی کوئی بہکا سکتا۔۔۔ لیکن اب پچھتا نے سے کیا حاصل ؟ بہت دیر ہو چکی تھی زندگی کا سفر ختم ہو چکا تھا۔ اب تو جہنم اس کا انتظار کر رہی تھی!!


اپنا دکھ

اخبار فروش نے جب تازہ اخبار دروازے کی دہلیز پر ڈالا تو میرا بیٹا اور میرے ضعیف والد دونوں دوڑ پڑے۔ مجھے یاد آیا. آج بد ھ ہے اخبار میں بچوں کا خصوصی صفحہ ’’بچپن‘‘ شائع ہوتا ہے۔


بیٹے نے جلدی سے دوڑ کر اخبار جھپٹ لیا اور بچوں کا صفحہ نکالنے لگا۔ ضعیف والد نے بھی اس صفحہ کو چھیننے کی کوشش کی۔


دیکھتے ہی دیکھتے بچوں کا صفحہ پھٹ گیا ۔


اور پھر وہ دونوں لڑ پڑے !!


اپنا دکھ

’’فوزیہ تم آج بھی مجھے پریشان دکھائی دے رہی ہو۔ کہو  کیا بات ہے ؟‘‘


’’میرے سر تاج میں ۔۔ میں آج بھی شاید خواب ہی دیکھ رہی ہوں کہ شہر کے مشہور و معروف دولت مند وکیل نے مجھ غریب اور مجبور لڑکی کو اپنایا۔‘‘


’’نہیں فوزیہ .یہ خواب نہیں حقیقت ہے تم جانتی ہو بیوی کا انتقال ہو جانے کے بعد میں نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بے انتہا محبت ہے اور میں اپنے بچوں کو ذہنی اذیت کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتا تھا لیکن جب والدین کی ضد بڑھتی گئی تو مجھے مجبور ہونا پڑا اور میں نے تمہیں شریک حیات بنانے کا فیصلہ کر لیا۔


تم حیران ہو کہ آخر میں نے تمہیں ہی پسند کیوں کیا ہے۔ فوزیہ وجہ یہ ہے کہ میں نے پڑوس میں رہ کر تمہیں بچپن ہی سے اپنی سوتیلی ماں کے ہاتھوں پل پل دکھ جھیلتے اور اذیتیں اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے، تم ہمیشہ سلگتی اور بکھرتی رہی ہو۔


میں نے سوچا تم نے سوتیلے پن کا کرب سہا ہے تم اس درد کو محسوس کرتی ہو لہذا ان معصوم بچوں کو وہ دکھ کبھی نہیں دو گی جو تم نے جھیلے ہیں۔!! ‘‘


اپنا دکھ

جب بھی اسے کوئی نماز پڑھنے کی تلقین کرتا تو وہ یہی کہتا۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے دو۔ پھر داڑھی رکھ کر ایک مسجد کا کونا سنبھال لوں گا۔ ملازمت سے سبکدوش ہوا تو اس نے بچوں کے لئے ایک عالیشان مکان بنانے کا ارادہ کیا تقریباً ایک سال کا عرصہ اپنی مرضی کے بام و در بنانے میں گزر گیا۔


آج مکا ن کا ا فتتاح تھا۔ برقی قمقموں سے عالیشان عمارت جگمگا رہی تھی۔ اس کے قدم سجدہ شکر کے لئے مسجد کی جانب چل پڑے ۔ اس نے اب طے کر لیا تھا کہ وہ کل سے اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں گزارے گا اور ا ﷲ تعالیٰ کی عبادت کرے گا۔


ابھی وہ مسجد کی سیٹرھیاں چڑھ ہی رہا تھا کہ اس کی حرکت قلب بند ہو گئی اور مسجد کے باہر ہی اس کی روح پرواز کر گئی !!


اپنا دکھ

گاؤں کے اس فقیر کی شادی ہو گئی جو دونوں آنکھوں سے اندھا تھا۔ لیکن افسوس کہ جس لڑکی سے اس کی شادی ہوئی اﷲ تعالیٰ نے اس کی آنکھیں بھی بچپن ہی میں چھین لی تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہوئے بھی بے سہارا تھے لیکن جب میں چھ سات سال بعد اپنے گاؤں واپس لوٹا تو دیکھا کہ وہ دونوں اپنے بچہ کے سہارے چل رہے تھے. جس کی آنکھیں بڑی خوبصورت تھیں!!


اپنا دکھ

بس اپنا توازن کھو چکی تھی چالیس مسافر جان بحق ہو چکے تھے بس کھائی میں گرتے ہی خدمت گار وہاں پہنچ گئے زندگی اور موت کے بیچ سانسیں گن رہے جسموں سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آ رہی تھیں۔


لیکن خدمت گار انھیں بچانے کی بجائے وہ ان مردہ عورتوں کو اپنے کاندھوں پر لیے اسپتال کی جانب دوڑ رہے تھے جو زیورات سے لدی پھندی تھیں!!


اپنا دکھ

’’تم خاموش کیوں رہتی ہو۔۔۔ ؟‘‘


’’میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ اُس نے مصنوعی ہنسی ہونٹوں پر چسپاں کرنے کی کوشش کی۔


’’ نہیں تم ضرور کچھ نہ کچھ سوچتی رہتی ہو۔ اور تمہارے وہ خیالات تمہارے چہرے پر اداسی کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ میرا خیال ہے تم اُسے ابھی تک نہیں بھولیں۔ آخر تم اُسے بھول کیوں نہیں جاتیں۔‘‘


یہ سن کر اسکے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔


’’کون کس کو بھولتا ہے راکیش۔۔۔؟‘‘


اُس نے رومال آنکھوں کے قریب لے جاتے ہوئے کہا۔


’’رادھا ۔۔۔ آج ۔۔۔۔ آج تم نے میرے دل کی بات کہہ دی۔۔۔!!‘‘


اپنا دکھ

میں جب بھی اُس طرف سے گزرتا جیوتش کو ہمیشہ ہی آدمیوں کے بیچ گھرا پاتا۔ وہ ہاتھوں میں کھینچی آڑی ترچھی لکیروں کو پڑھ کر لوگوں کو اُن کی قسمت کے فیصلوں سے آگاہ کرتا تھا۔


ایک دن میں بھی اس بھیڑ میں چلا گیا لیکن میری باری آنے تک بہت رات ہو چکی تھی۔ وہ ہماری جانب دیکھ کر کہنے لگا۔


’’ تم لوگوں کی ’’بھوش وانی‘‘ میں کل بتاؤں گا کل تم ضرور آنا۔ میں تمہیں یہیں ملوں گا۔‘‘


دوسرے دن جب ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ دوسروں کی قسمت کی لکیروں کو پڑھنے والا خود اپنی قسمت کی لکیروں سے نا آشنا تھا۔


وہ تو آج صبح ہی اِس دنیا سے کوچ کر چکا!!


اپنا دکھ

وہ غریبوں کی بستی اندرا نگر میں پیدا ہوا تھا۔ بچپن بھی اسی بستی میں گزرا لیکن جب بڑا ہو ا تو خوش نصیبی سے سعودی عرب چلا گیا۔ دس سال بعد جب و ہ وطن لوٹ کر اپنی بستی میں پہنچا تو اسکے منہ پر سفید رومال تھا اور وہ پیشانی پر بل ڈالے اپنے ہی بچپن کے ساتھیوں سے ان کا تعارف پوچھ رہا تھا۔


اپنا دکھ

وہ اردو زبان کا مشہور و معروف محقق ادیب و شاعر تھا اس نے اپنی زندگی میں اردو زبان و ادب کی ترقی اسکی اشاعت اور مادری زبان کی اہمیت اور ضرورت پر سینکڑوں مقالے لکھے تھے۔ ایک دن اچانک اس کا انتقال ہو گیا اس کی حادثاتی موت کے دو  ماہ بعد انکے فرزندوں نے اپنے والد کی کتابوں کا اثاثہ باہر نکالا۔ کتابوں سے کئی الماریاں پُر تھیں پاس پڑوس کے لوگ کتابوں کی الماریوں کے اطراف ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور ان کے بچے اس اثاثہ کو کباڑی کی دکان پر لے جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ اثاثہ اب انکے کسی کام کا نہ تھا کیونکہ انکی پوری تعلیم انگلش میڈیم سے ہوئی تھی۔!!!!


Download